بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 58 hadith
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے، ابووائل نے عمرو بن شرحبیل سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) کہتے تھے: ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ تم (کسی اور کو) اللہ کا ہم پلہ پکارو حالانکہ اُس (اللہ) نے تم کو پیدا کیا۔ اُس نے پوچھا: پھر کونسا گناہ؟ آپؐ نے فرمایا: پھر یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس لئے مار ڈالو کہ کہیں وہ تمہارے ساتھ کھائیں۔ اُس نے پوچھا: پھر کونسا؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ پھر اللہ عزوجل نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی۔ وہ لوگ جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور نہ اس نفس کو قتل کرتے ہیں جس کو اللہ نے معزز کیا مگر جائز طور پر ہی اور نہ وہ زنا کرتے ہیں اور جو ایسا کرے گا وہ اپنے گناہ کی سزا کو دیکھ لے گا۔
علی (بن جعد) نے ہم سے بیان کیا کہ اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مؤمن اپنے دین کی رو سے ہمیشہ آزادی میں رہتا ہے جب تک کہ وہ ناحق خون نہ کرے۔
احمد بن یعقوب نے مجھ سے بیان کیا کہ اسحاق بن سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ وہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کرتے تھے۔ اُنہوں نے کہا وہ پیچیدہ اُمور جن میں ایک شخص اپنے آپ کو گرا لیتا ہے اور نکلنے کی کوئی راہ نہیں پاتا اُن میں ناجائز طور پر ممنوع شدہ خون بہانا بھی ہے۔
عبیداللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا اُنہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: لوگوں کے درمیان جن امور کا پہلے فیصلہ کیا جائے گا وہ خون ہے۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ یونس نے ہم سے بیان کیا۔ یونس نے زہری سے روایت کی۔ عطاء بن یزید نے ہم سے بیان کیا کہ عبیداللہ بن عدی نے اُنہیں بتایا کہ حضرت مقداد بن عمرو کندیؓ نے جو بنو زہرہ کے حلیف تھے اُنہیں بتایا اور حضرت مقدادؓ نبی ﷺ کے ساتھ جنگ بدر میں شریک تھے۔ اُنہوں نے کہا: یا رسول اللہ! اگر کسی کافر سے میری مڈبھیڑ ہو اور ہم آپس میں لڑیں اور وہ تلوار میرے ہاتھ پر مار کر اس کو کاٹ ڈالے اور پھر کسی درخت کی آڑ لے لے اور کہے میں اللہ کے لئے مسلمان ہوگیا تو کیا میں اس کو یہ بات کہنے کے بعد مار ڈالوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اس کو نہ مارو۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے تو میرا ایک ہاتھ گرا دیا اور پھر ہاتھ کو کاٹنے کے بعد یہ کہا، تو کیا میں اسے قتل کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: اسے نہ قتل کرو اگر تم نے اسے قتل کیا تو وہ تمہارے اس مقام پر ہوگا جس پر تم اس کو قتل کرنے سے پہلے تھے اور تم اس کے مقام پر ہوگے جس پر کہ وہ اس کلمہ کے کہنے سے پہلے تھا جو اس نے کہا۔
اور حبیب بن ابی عمرہ نے کہا سعید سے مروی ہے۔ سعید نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی ﷺ نے حضرت مقدادؓ سے فرمایا: اگر کوئی مؤمن شخص کافر لوگوں کے ساتھ رہ کر اپنے ایمان کو چھپاتا ہو اور پھر وہ اپنے ایمان کو ظاہر کردے اور تم اُس کو مار ڈالو، تم بھی تو اِسی طرح اس سے پہلے مکہ میں اپنے ایمان کو چھپایا کرتے تھے۔
(تشریح)قبیصہ (بن عقبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اعمش سے، اعمش نے عبداللہ بن مرہ سے، عبداللہ نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے، حضرت عبداللہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جو نفس بھی مارا جاتا ہے تو اُس کے گناہ کا ایک حصہ آدم کے پہلے بیٹے کے ذمہ ہوتا ہے۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا: واقد بن عبداللہ نے مجھے بتایا۔ واقد نے اپنے باپ سے روایت کی۔ اُن کے باپ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے سنا۔ وہ نبیؐ ﷺ سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: میرے بعد پھر کہیں کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن اڑاتے پھرو۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے علی بن مدرک سے روایت کی۔ علی نے کہا: میں نے ابوزُرعہ بن عمرو بن جریر سے سنا وہ جریر سے روایت کرتے تھے۔ اُنہوں نے کہا: نبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں مجھ سے فرمایا: لوگوں کو چپ کراؤ۔ (پھر فرمایا) کہیں میرے بعد پھر کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن زنی کرتے رہو۔ اس حدیث کو حضرت ابوبکرہؓ اور حضرت ابن عباسؓ نے بھی نبی ﷺ سے روایت کیا۔
محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے فراس (بن یحيٰ) سے، فراس نے شعبی سے، شعبی نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے، حضرت عبداللہؓ نے نبیؐ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: بڑے گناہ یہ ہیں۔ اللہ کا شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا یا فرمایا: عمداً جھوٹی قسم کھانا۔ شعبہ نے بیان میں یہ شک کیا۔ اور معاذ (عنبری) نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا۔ کہا: بڑے گناہ یہ ہیں۔ اللہ کا شریک ٹھہرانا اور عمداً جھوٹی قسم کھانا اور والدین کی نافرمانی کرنا یا کہا اور ناحق جان کو مار ڈالنا۔