بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 58 hadith
اسحاق بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالصمد (بن عبدالوارث) نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبیداللہ بن ابی بکر نے ہمیں بتایا۔ عبیداللہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: بڑے گناہ۔ نیز ہم سے عمرو (بن مرزوق) نے بیان کیا کہ ہمیں شعبہ نے بتایا۔ اُنہوں نے (عبیداللہ) ابن ابی بکر سے، اُنہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے، حضرت انسؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی آپؐ نے فرمایا: بڑے سے بڑے گناہ یہ ہیں۔ اللہ کا شریک ٹھہرانا، جان کو مار ڈالنا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا یا فرمایا اور جھوٹی شہادت دینا۔
عمرو بن زُرارہ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشیم نے ہمیں بتایا۔ حصین (بن عبدالرحمٰن) نے ہم سے بیان کیا۔ حصین نے ابوظبیان سے، ابوظبیان نے کہا: میں نے حضرت اُسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ اُنہوں نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حُرقہ قبیلے کی طرف بھیجا جو جہینہ کی ایک شاخ ہیں۔ کہتے تھے: ہم نے اس قوم پر صبح کو چھاپا مارا اور اُن کو شکست دے کر بھگا دیا۔ بیان کرتے تھے کہ میں اور ایک انصاری شخص اُن میں سے ایک آدمی کے پیچھے لگے۔ کہتے تھے: جب ہم نے اس کو گھیر لیا اس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کہا۔ حضرت اُسامہؓ نے کہا: یہ سن کر انصاری اس سے رک گیا اور میں نے اپنا برچھا مار کر اُسے مار ڈالا۔ کہتے ہیں : جب ہم مدینہ میں آئے تو یہ خبر نبی ﷺ کو پہنچی۔ کہتے تھے: آپؐ نے مجھ سے فرمایا: اُسامہؓ کیا تم نے اُس کو لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کہنے کے بعد مار ڈالا۔ کہتے تھے: میں نے کہا: یا رسول اللہ! وہ تو صرف جان بچا رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے اس کو لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کہنے کے بعد مار ڈالا؟ حضرت اُسامہؓ کہتے تھے: آپؐ میرے سامنے یہی الفاظ دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی کاش میں اس دن سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ یزید (بن ابی حبیب) نے ہم سے بیان کیا۔ یزید نے ابوالخیر سے، ابوالخیر نے (عبدالرحمٰن بن عسیلہ) صنابحی سے، صنابحی نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں بھی اُن نقیبوں میں سے ہوں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی۔ ہم نے آپؐ کی یہ بیعت کی تھی کہ کسی چیز کو بھی اللہ کا شریک نہ ٹھہرائیں گے اور نہ چوری کریں گے اور نہ زنا کریں گے اور نہ اُس نفس کو قتل کریں گے جس کو اللہ نے معزز قرار دیا اور نہ ہم لُوٹ مار کریں گے اور نہ ہم احکام الٰہی کی نافرمانی کریں گے۔ ہمیں جنت ملے گی اگر ہم نے یہ کیا اور اگر ہم اِن میں سے کسی گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت عبداللہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے ہم پر ہتھیار اُٹھائے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اس حدیث کو حضرت ابوموسیٰؓ نے بھی نبی ﷺ سے روایت کیا۔
عبدالرحمٰن بن مبارک نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ ایوب اور یونس نے ہم سے بیان کیا۔ ان دونوں نے حسن (بصری) سے، حسن نے احنف بن قیس سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں گیا کہ اس شخص کی مدد کروں تو حضرت ابوبکرہؓ مجھ سے ملے اور پوچھنے لگے: تم کہاں کا قصد کر رہے ہو؟ میں نے کہا: میں اس شخص کی مدد کروں گا۔ اُنہوں نے کہا: لوٹ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ جب دو مسلمان اپنی تلواروں سے آپس میں مقابلہ کریں تو قاتل و مقتول دونوں آگ میں ہوں گے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تو قاتل ہوا تو مقتول کا کیا گناہ؟ آپؐ نے فرمایا: وہ بھی تو اپنے ساتھی کے مارنے پر حریص تھا۔
(تشریح)حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام (بن یحيٰ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں سے پیس ڈالا۔ اُس لڑکی سے پوچھا گیا یہ تم سے کس نے کیا؟ کیا فلاں شخص نے یا فلاں نے؟ یہاں تک کہ اُس یہودی کا نام لیا گیا۔ اُسے نبی ﷺ کے پاس لایا گیا۔ آپؐ اس سے پوچھتے رہے یہاں تک کہ اس نے اس فعل کا اقرار کیا اور پھر اُس کا سر بھی پتھر سے کچلا گیا۔
(تشریح)محمد (بن عبداللہ بن نمیر) نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن ادریس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے ہشام بن زید بن انس سے، ہشام نے اپنے دادا حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ایک لڑکی مدینہ میں باہر نکلی اس نے چاندی کے زیور پہنے ہوئے تھے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: ایک یہودی نے اس کو پتھر مار کر گھائل کردیا۔ کہتے تھے: اس لڑکی کو نبی ﷺ کے پاس لایا گیا۔ ابھی اس میں کچھ جان باقی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا۔ کیا فلاں شخص نے تمہیں مارا ہے؟ اس نے اپنا سر اُٹھایا۔ پھر آپؐ نے اس سے پوچھا۔ کیا فلاں نے تمہیں مارا ہے؟ اس نے اپنا سر اُٹھایا۔ پھر آپؐ نے تیسری مرتبہ اس سے پوچھا۔ کیا فلاں نے تمہیں مارا ہے؟ اُس نے اپنا سر جھکایا اور اس پر رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کو بلایا اور آپؐ نے اس کو بھی دو پتھروں سے مار ڈالا۔
عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ اعمش نے عبداللہ بن مرہ سے، عبداللہ نے مسروق (بن اجدع) سے، مسروق نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان آدمی کا خون جائز نہیں جو یہ اقرار کرتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، سوائے تین صورتوں میں سے ایک صورت میں، جس نے کسی نفس کو مار ڈالا ہو اور شادی شدہ زانی اور وہ شخص جو دین سے نکل گیا ہو اور جماعت کو چھوڑنے والا ہو۔
(تشریح)محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہشام بن زید سے، ہشام نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو مار ڈالا کچھ زیوروں کی وجہ سے جو اس نے پہنے ہوئے تھے، اس نے اُس لڑکی کو پتھر سے مارا۔ لوگ اس لڑکی کو نبی ﷺ کے پاس لے آئے ابھی اس میں کچھ جان باقی تھی۔ آپؐ نے پوچھا: کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس نے سر سے اشارہ کیا نہیں۔ پھر آپؐ نے دوبارہ پوچھا، اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا نہیں۔ پھر آپؐ نے تیسری بار پوچھا تو اس نے کہا: ہاں۔ نبی ﷺ نے اس قاتل کو دو پتھروں سے مروا ڈالا۔
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے ابو سلمہ سے، ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی کہ خزاعہ نے ایک شخص کو مار ڈالا۔ اور عبداللہ بن رجاء نے کہا: ہم سے حرب (بن شداد) نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ ہمیں ابو سلمہ نے بتایا کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے ہم سے بیان کیا۔ جس سال مکہ فتح کیا گیا خزاعہ نے بنو لیث کے ایک شخص کو اپنے ایک مقتول کے بدلے جس کو زمانۂ جاہلیت میں مارا گیا تھا مار ڈالا۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپؐ نے فرمایا: اللہ نے مکہ سے ہاتھیوں کو روک دیا تھا اور اس نے اپنے رسول اور مومنوں کو مکہ والوں پر غالب کر دیا ہے۔ سنو! یہ مکہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے جائز نہیں ہوا اور نہ ہی وہ میرے بعد کسی کے لئے جائز ہوگا۔ سنو! اور وہ میرے لئے بھی صرف دن کی ایک گھڑی کے لئے ہی جائز کیا گیا۔ سنو کہ وہ اب اس وقت حرم ہے اس کے کانٹے نہ اُکھیڑے جائیں اور اِس کے درخت نہ توڑے جائیں اور اس کی گری پڑی چیز کوئی نہ اُٹھائے مگر وہ جو اس کے متعلق اعلان کرنے والا ہو اور جس کا کوئی مارا جائے تو دو باتوں میں سے ایک بات کے اختیار کرنے کا وہ مجاز ہے یا اسے دیت دی جائے یا اس کا بدلہ لیا جائے۔ یہ سن کر اہل یمن میں سے ایک شخص کھڑا ہوا جسے ابو شاہؓ کہتے تھے اس نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے یہ لکھ دیں۔ رسول اللہ نے فرمایا: ابو شاہؓ کو یہ حکم لکھ دو۔ پھر اس کے بعد قریش میں سے ایک شخص اُٹھا اُس نے کہا: یا رسول اللہ سوائے اذخر گھاس کے کیونکہ ہم اس کو اپنے گھروں اور قبروں میں کام میں لاتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اذخر کے سوا۔ اور (حرب بن شداد کی طرح) عبید اللہ (بن موسیٰ) نے بھی شیبان سے روایت کرتے ہوئے ہاتھیوں کے متعلق ذکر کیا۔ بعض راویوں نے ابو نعیم سے روایت کرتے ہوئے (قتیل کی بجائے) قتل کا لفظ نقل کیا اور عبید اللہ (بن موسیٰ) نے یوں کہا: یا مقتول کے وارثوں کو اس کا بدلہ دیا جائے۔