بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 58 hadith
احمد بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن وہب نے ہمیں بتایا۔ یونس نے ہم سے بیان کیا۔ یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے (سعید) بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہذیل قبیلہ کی دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں اُن میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا اور اُس نے اُس عورت کو اور اُس کے بچے کو بھی جو اُس کے پیٹ میں تھا مار ڈالا۔ اُن کے رشتہ دار نبی ﷺ کے پاس جھگڑا لائے تو آپؐ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اُس کے جنین کی دیت بردہ ہو گی غلام ہو یا لونڈی اور آپؐ نے فیصلہ فرمایا اس مقتولہ عورت کی دیت اس قاتلہ عورت کے دودھیال کے ذمہ ہوگی۔
(تشریح)عمرو بن زرارہ نے مجھ سے بیان کیا کہ اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبدالعزیز سے، عبدالعزیز نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو حضرت ابو طلحہؓ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ ! انسؓ ایک ہوشیار لڑکا ہے اجازت دیں کہ یہ آپؐ کی خدمت کرے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: میں نے حضر اور سفر میں آپؐ کی خدمت کی اور اللہ کی قسم آپؐ نے مجھ سے کسی کام پر بھی کہ جو میں نے کیا مجھ سے نہیں کہا کہ تم نے یہ اس طرح کیوں کیا۔ اور نہ ہی کسی ایسے کام پر جو میں نے نہیں کیا آپؐ نے مجھ سے کہا کہ تم نے یہ اس طرح کیوں نہیں کیا۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے، اُن دونوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے زبان جانور جو ہیں اُن کے لگائے ہوئے زخم بلا تاوان ہوتے ہیں اور کنواں بھی بلا تاوان ہوتا ہے اور کان بھی بلا تاوان ہوتی ہے اور دفینہ میں پانچواں حصہ حکومت کا ہوتا ہے۔
مسلم (بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے محمد بن زیاد سے، ابن زیاد نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جو بے زبان جانور ہیں اُن کی دیت کچھ بھی نہیں اور کنواں بھی بلا تاوان ہوتا ہے اور معدن بھی بلا تاوان اور دفینہ میں پانچواں حصہ حکومت کا ہوتا ہے۔
(تشریح)قیس بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد نے ہمیں بتایا۔ حسن (بن عمرو فقیمی نے ہم سے بیان کیا۔ مجاہد نے ہمیں بتایا۔ مجاہد نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے، عبداللہ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے ایسے نفس کو مار ڈالا جس سے معاہدہ کیا جا چکا ہے وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا اور جنت کی خوشبو تو چالیس سال کی مسافت سے محسوس ہو جاتی ہے۔
(تشریح)احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر (بن معاویہ) نے ہمیں بتایا۔ مطرف نے ہم سے بیان کیا کہ عامر (شعبی) نے اُنہیں بتایا۔ عامر نے ابوجحیفہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت علیؓ سے کہا۔ اور صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ مطرف نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے شعبی کو بیان کرتے ہوئے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے ابوجحیفہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ کے پاس کوئی ایسی بات ہے جو قرآن میں نہ ہو؟ اور ابن عیینہ نے کبھی یوں کہا: جو لوگوں کے پاس نہ ہو تو حضرت علیؓ نے فرمایا: اُس ذات کی قسم ہے جس نے دانہ چیر کر اُگایا اور جان کو بنایا، ہمارے پاس اور کچھ نہیں وہی ہے جو قرآن میں ہے سوائے سمجھ کے جو کسی آدمی کو اللہ کی کتاب کے متعلق دی جائے اور سوائے اس کے جو اس ورق میں ہے۔ میں نے کہا: اس ورق میں کیا ہے؟ اُنہوں نے فرمایا: دیت اور قیدیوں کے چھڑانے کے احکام اور یہ کہ کسی کافر کے بدلے کوئی مسلمان نہ مارا جائے۔
(تشریح)ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عمرو بن یحيٰ سے، عمرو نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت ابو سعید (خدریؓ) سے، حضرت ابو سعیدؓ نے نبیﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: انبیاء کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دیا کرو۔
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عمرو بن یحيٰ مازنی سے، عمرو نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: یہودیوں میں سے ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا جس کے منہ پر تھپڑ لگایا گیا تھا۔ اور کہنے لگا: اے محمدؐ! آپؐ کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے جو انصاری ہے میرے منہ پر طمانچہ مارا۔ آپؐ نے فرمایا: اُس کو بلاؤ۔ تو لوگوں نے اس کو بلایا۔ آپؐ نے پوچھا: اس کے منہ پر تم نے کیوں طمانچہ مارا؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں یہودیوں کے پاس سے گزر رہا تھا اتنے میں میں نے اس کو یہ کہتے سنا۔ اسی ذات کی قسم ہے جس نے موسیٰ کو تمام بشر سے بہتر سمجھ کر چنا۔ وہ کہنے لگا: میں نے کہا: کیا محمد ﷺ پر بھی؟ کہنے لگا: مجھے غصہ آ گیا اور میں نے اُسے تھپڑ لگا دیا۔ آپؐ نے فرمایا: انبیاء میں سے مجھے بہتر نہ قرار دو کیونکہ لوگ قیامت کے دن بے ہوش ہو جائیں گے اور میں پہلا شخص ہوں گا جو ہوش میں آئے گا تو کیا دیکھوں گا کہ موسیٰؑ عرش کے پایوں میں سے ایک پائے کو تھامے ہوں گے۔ میں نہیں جانتا کیا وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے یا طور کی بے ہوشی ہی اُن کے لئے کافی سمجھی گئی۔