بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 87 hadith
ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی، کہا: سعید بن مسیب نے مجھے خبر دی۔ سعید نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب ابو طالب فوت ہونے لگے تو ان کے پاس رسول اللہ ﷺ آئے اور فرمایا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کہیں۔ یہ ایسی بات ہوگی کہ میں اس کی بنا پر آپ کے لئے اللہ کے حضور دلیل دوں گا۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن فضیل نے ہمیں بتایا۔ عمارہ بن قعقاع نے ہم سے بیان کیا۔ عمارہ نے ابوزرعہ سے، ابوزرعہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں بھاری ہیں، رحمٰن کو پیارے ہیں۔ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ اعمش نے شقیق سے، شقیق نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ایک بات بیان فرمائی تھی اور ایک بات میں کہتا ہوں۔ آپؐ نے بیان فرمایا تھا: جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہا تھا، آگ میں داخل کیا جائے گا اور میں ایک اور بات کہتا ہوں کہ جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ اللہ کا شریک نہیں ٹھہرا رہا ہوگا، وہ جنت میں داخل کیا جائے گا۔
(تشریح)عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان بن بلال نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید سے، حمید نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے قسم کھائی کہ اپنی ازواج کے پاس نہیں جائیں گے اور آپؐ کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی تو آپؐ نے ایک بالا خانہ میں انتیس رات قیام فرمایا پھر نیچے آئے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ نے تو ایک مہینے کی قسم کھائی تھی۔ آپؐ نے فرمایا: مہینہ اُنتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
(تشریح)علی (بن عبداللہ) نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے عبدالعزیز بن ابی حازم سے سنا کہ میرے باپ نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت کی کہ حضرت ابواُسیدؓ نے جو نبی ﷺ کے صحابی تھے شادی کی اور انہوں نے نبی ﷺ کو اپنی شادی پر بلایا اور دلہن ہی ان مہمانوں کی خدمت کرنے والی تھی۔ حضرت سہلؓ نے لوگوں سے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ اس نے آپؐ کو کیا پلایا تھا؟ کہا: اس نے رات کو ایک لگن میں کچھ کھجوریں بگھو دی تھیں۔ جب آپؐ ان کے پاس صبح کو آئے تو اس نے آپؐ کو وہی شربت پلایا۔
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ اسماعیل بن ابی خالد نے ہمیں خبر دی۔ اسماعیل نے شعبی سے، شعبی نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عباسؓ نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت سودہؓ سے روایت کی۔ آپؓ فرماتی تھیں: ہماری ایک بکری مر گئی۔ ہم نے اس کی کھال کو رنگ لیا۔ پھر اس میں نبیذ تیار کیا کرتے تھے یہاں تک کہ وہ پرانی ہو گئی۔
(تشریح)محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمٰن بن عابس سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپؓ فرماتی تھیں کہ آل محمد ﷺ نے اس وقت تک کہ آپؐ اللہ سے جا ملے، تین دن بھی گیہوں کی روٹی سالن کے ساتھ سیر ہو کر نہیں کھائی۔ اور ابن کثیر نے کہا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا۔ پھر یہی حدیث بیان کی۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابوطلحہؓ نے حضرت اُم سلیمؓ سے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز کمزور سنی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپؐ کو بھوک ہے۔ کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ حضرت اُم سلیمؓ نے کہا: ہاں۔ اور یہ کہہ کر انہوں نے جَو کی چند روٹیاں نکالیں۔ پھر انہوں نے اپنی اوڑھنی لی اور اس کے ایک طرف اُن روٹیوں کو لپیٹا اور مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا۔ میں گیا اور رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں پایا اور آپؐ کے ساتھ لوگ تھے۔ میں آپؐ کے پاس کھڑا ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں ابوطلحہؓ نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو جو آپؐ کے ساتھ تھے فرمایا: اُٹھو، اور وہ چل پڑے اور میں بھی ان کے آگے آگے چلا اور حضرت ابوطلحہؓ کے پاس آیا اور ان کو خبر دی۔ حضرت ابوطلحہؓ نے کہا: اُم سلیم! رسول اللہ ﷺ اور لوگ بھی آگئے ہیں اور ہمارے پاس اتنا کھانا نہیں جو ہم ان کو کھلائیں۔ حضرت اُمّ سلیمؓ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ حضرت ابوطلحہؓ چلے گئے اور جا کر رسول اللہ ﷺ سے ملے۔ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوطلحہؓ آئے اور دونوں گھر کے اندر آ گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اُم سلیم! جو تمہارے پاس ہے وہ لے آؤ۔ وہ وہی روٹیاں لے آئیں۔ حضرت انس بن مالکؓ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان روٹیوں کے متعلق حکم دیا اور وہ توڑی گئیں اور حضرت اُم سلیمؓ نے اپنی ایک کپی کو نچوڑ دیا اور روٹیوں کے ساتھ یہی سالن دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے جو اللہ نے چاہا کہ آپؐ اس کھانے پر دعا کریں، آپؐ نے اس کھانے پر دعا کی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوطلحہؓ سے فرمایا: دس آدمیوں کو (اندر آنے کی) اجازت دو۔ انہوں نے ان کو اجازت دی۔ انہوں نے اتنا کھایا کہ وہ سیر ہوگئے اور باہر چلے گئے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: دس آدمیوں کو اجازت دو اور انہوں نے ان کو اجازت دی۔ غرض سب کے سب لوگوں نے کھایا اور سیر ہو کر کھایا اور وہ لوگ ستر یا اسی آدمی تھے۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب (ثقفی) نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے یحيٰ بن سعید سے سنا۔ وہ کہتے تھے: محمد بن ابراہیم نے مجھے خبر دی کہ انہوں نے علقمہ بن وقاص لیثی کو کہتے سنا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: عمل نیتوں کے ساتھ ہی ہوتے ہیں اور آدمی کو وہی ملتا ہے جو اس نے نیت کی۔ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہو گی اُس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا کے لئے ہوگی کہ اسے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے یا کسی عورت کے لئے کہ وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے تو اُس کی ہجرت اُس کے لئے ہے جس کی خاطر اس نے ہجرت کی۔
(تشریح)احمد بن صالح نے ہم سے بیان کیا۔ (عبداللہ) ابن وہب نے ہمیں بتایا کہ یونس نے مجھے خبر دی۔ یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عبدالرحمٰن بن عبداللہ نے مجھے بتایا۔ عبدالرحمٰن نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت کی۔ اور جب حضرت کعبؓ نابینا ہوگئے تھے تو ان کے بیٹوں میں سے یہ حضرت کعبؓ کو لے جایا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت کعب بن مالکؓ سے اُن کے واقعہ کے متعلق سنا جس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی تھی: وَعَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوْا۔ تو انہوں نے اپنے واقعہ کو بتاتے ہوئے آخر میں کہا کہ میری توبہ قبول ہونے کی وجہ سے میں اپنے مال سے دست بردار ہوتا ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کے لئے صدقہ ہوگا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: تم اپنے مال میں سے کچھ اپنے لئے بھی رکھو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔
(تشریح)