بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتایا۔ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عروہ بن زبیر نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں (تشہد کے بعد) یہ دعا کیا کرتے تھے۔۔۔ یعنی اے اللہ! قبر کے عذاب سے میں تیری پناہ لیتا ہوں۔ مسیح دجال کے فتنے سے بھی تیری پناہ لیتا ہوں اور موت اور زندگی کے فتنے سے بھی تیری پناہ لیتا ہوں۔ اے اللہ! گناہ اور قرض سے بھی تیری پناہ لیتا ہوں۔ کسی کہنے والے نے آپؐ سے کہا: تعجب ہے کہ آپؐ قرضداری سے اکثر پناہ مانگتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: جب آدمی قرض دار ہوتا ہے تو اپنی بات میں جھوٹا ہوجاتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔ اور محمد بن یوسف نے کہا: میں نے خلف بن عامر سے سنا مسیح اور مِسِّیح کے متعلق کہتے تھے کہ ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں دونوں لفظ ایک ہی ہیں۔ ان میں سے (یعنی مسیح) تو حضرت عیسٰیؑ علیہ السلام ہیں اور دوسرا (یعنی مِسِّیح) دجال ہے۔
اور زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپؐ نماز میں فتنہ دجال سے پناہ مانگتے تھے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابوحبیب سے، یزید نے ابوالخیر سے، ابوالخیر نے عبداللہ بن عمرو سے، عبداللہ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: آپؐ مجھے دعا سکھائیں جو میں نماز میں کیا کروں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ دعا کیا کرو۔ اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا ہے اور تیرے سوا کوئی بھی گناہوں کی مغفرت کرنے والا نہیں ہے۔ سو اپنی جناب سے میری مغفرت فرما اور مجھے رحمت سے نواز۔ یقیناً تو ہی غفور و رحیم ہے۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ اعمش سے مروی ہے کہ مجھے شقیق نے بتایا۔ انہوں نے حضرت عبد اللہؓ (بن مسعود) سے روایت کی۔ آپؓ نے بیان کیا: جب ہم آنحضرت ﷺ کے ساتھ نماز میں ہوتے تو ہم یوں کہا کرتے تھے: اللہ پر اس کے بندوں کی طرف سے سلامتی ہو اور فلاں فلاں شخص پر سلامتی ہو تو نبی ﷺ نے فرمایا: اَلسَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ مت کہو۔ کیونکہ اللہ ہی تو سلام ہے۔ بلکہ یہ کہا کرو : زبان سے متعلقہ تمام عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں بھی ( اللہ ہی کے لئے ہیں) اے نبی تجھ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں اور سلامتی ہو ہم پر بھی اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔ کیونکہ جب تم (یہ) کہو گے تو آسمان میں یا (فرمایا:) آسمان و زمین کے درمیان ہر بندے کو (تمہاری دعا) پہنچے گی (اس کے بعد یہ کہو) میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمدؐ اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے۔ پھر دعائوں میں سے جو دعا بھی اس کو پسند ہو وہ مانگے۔
(تشریح)مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ سے، یحيٰ نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمن) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوسعیدؓ خدری سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو پانی اور کیچڑ میں سجدہ کرتے دیکھا۔ یہاں تک کہ میں نے آپؐ کی پیشانی میں کیچڑ کا نشان بھی دیکھا۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) زہری نے ہمیں بتایا۔ ہند بنت حارث سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ جب سلام پھیرتے تو عورتیں جو نہی آپؐ سلام پھیرتے کھڑی ہو جاتیں اور آپؐ اٹھنے سے پہلے تھوڑی دیر ٹھہر جاتے۔ ابن شہاب نے کہا: میں سمجھتا ہوں اور پورا علم تو اللہ ہی کو ہے کہ آپؐ کا یہ ٹھہرنا اس لئے تھا کہ عورتیں نکل جائیں۔ پیشتر اس کے کہ جو لوگ نماز سے فارغ ہو گئے ہوں ان کو پائیں۔
(تشریح)حبان بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: معمر (بن راشد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے حضرت محمودؓ بن ربیع سے، حضرت محمودؓ نے حضرت عتبانؓ (بن مالک) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی اور جب آپؐ نے سلام پھیرا تو ہم نے بھی سلام پھیرا۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: معمر نے ہم سے بیان کیا۔ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت محمودؓ بن ربیع نے مجھے بتایا اور ان کا خیال تھا کہ ان کو رسول اللہ ﷺ (کے دور) کا ہوش ہے اور انہیں وہ کلی بھی یاد ہے جو آپؐ نے ایک ڈول سے جو کہ ان کے گھر میں تھا، لے کر ان پر ڈالی تھی۔
(حضرت محمودؓ بن ربیع) کہتے تھے کہ میں نے حضرت عتبانؓ بن مالک انصاری سے جو (قبیلہ) بنی سالم میں سے ایک شخص تھے ، سنا۔ انہوں نے کہا: میں اپنی قوم بنی سالم کو نماز پڑھایا کرتا تھا۔ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور میں نے کہا: میری بینائی کمزور ہوگئی ہے اور پانی کے سیلاب میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان روک ہوجاتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپؐ آئیں اور میرے گھر میں ایسی جگہ نماز پڑھیں جسے میں مسجد بنا لوں۔ آپؐ نے فرمایا: انشاء اللہ میں آؤں گا۔ پھر صبح کو رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے اور حضرت ابوبکرؓ آپ کے ساتھ تھے۔ دن اچھی طرح چڑھ چکا تھا۔ نبی ﷺ نے اندر آنے کی اجازت چاہی میں نے آپؐ کو اجازت دی۔ آپؐ بیٹھے نہیں کہ آپؐ نے فرمایا: تم اپنے گھر میں کہاں پسند کرتے ہو کہ میں نماز پڑھوں۔ انہوں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں وہ چاہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نماز پڑھیں۔ آپؐ کھڑے ہوگئے اور ہم نے آپؐ کے پیچھے صف باندھ لی۔ پھر آپؐ نے سلام پھیرا اور جس وقت آپؐ نے سلام پھیرا تو ہم نے بھی سلام پھیرا۔ (یعنی سلامتی کی دعائے مسنون کی)۔
(تشریح)اسحق بن نصر نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ کہا: عمرو نے مجھے بتایا کہ حضرت ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام ابومعبد نے انہیں بتایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ جب لوگ نمازِ فریضہ سے فارغ ہوتے تو نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں ذکرِ الٰہی بلند آواز میں کیا جاتا اور حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے کہ جب میں اس ذکر کو سنتا تو مجھے علم ہو جاتا کہ لوگ اس وقت فارغ ہوگئے ہیں۔