بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
علی بن عبداللہ (مدنی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ عمرو نے ہمیں بتایا، کہا کہ ابومعبد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا، کہا: میں نبی ﷺ کی نماز کے ختم ہونے کو اَللّٰہُ اَکْبَرُ سے پہچانا کرتا۔ علی کہتے تھے کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ عمرو (بن دینار) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلاموں میں سب سے سچے ابومعبد تھے۔ علی کہتے تھے: اور ان کا نام نافذ تھا۔
محمد بن ابی بکر نے ہم سے بیان کیا، کہا: معتمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے سمی سے، سمی نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس محتاج لوگ آئے اور انہوں نے کہا کہ دولت مند لوگ تو اموال کے ذریعہ بلند درجے اور ہمیشہ کی نعمت لے گئے۔ جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی نماز پڑھتے ہیں۔ جیسے ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں۔ ان کے پاس مال بھی بڑھ کر ہیں جس کے ذریعہ سے حج کرتے ہیں اور عمرہ کرتے ہیں اور جہاد کرتے ہیں اور صدقہ دیتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتائوں کہ جس پر تم عمل کرو تو تم ان کو پالو جو تم سے آگے نکل گئے اور پیچھے سے تم کو کوئی بھی نہ مل سکے اور تم ان سب لوگوں سے اچھے رہو، جن کے درمیان تم رہتے ہو، سِوا ان کے جو اس طرح کریں۔ ہر نماز کے بعد تم تینتیس دفعہ تسبیح و تحمید اور تکبیر سے ذکرِ الٰہی کیا کرو۔ پھر ہم نے آپس میں اختلاف کیا۔ بعض نے کہا: تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہِ کہا کریں گے۔ تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور چونتیس بار اَللّٰہُ اَکْبَرُ تو میں ابوصالح کے پاس واپس گیا تو انہوں نے کہا: تم سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ، اَللّٰہُ اَکْبَر کہا کرو۔ یہاں تک کہ وہ سب مل کر تینتیس بار ہو جائیں۔
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتایا۔ عبدالملک بن عمیر سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت مغیرہؓ بن شعبہ کے کاتب ورّاد سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت مغیرہؓ بن شعبہ نے مجھ سے ایک خط لکھوایا جو حضرت معاویہؓ کی طرف تھا کہ نبی کریم ﷺ ہر نماز فریضہ کے بعد کہا کرتے تھے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی بادشاہت ہے۔ اور اسی کی تمام تعریفیں ہیں۔ اور وہ ہر بات پر بڑا ہی قادر ہے۔ اے اللہ کوئی روکنے والا نہیں جو تو دے اور کوئی دینے والا نہیں جو تو روک دے۔ کسی صاحب حیثیت (مال، حسب و نسب وغیرہ) کو اس کی حیثیت تیرے مقابل پر فائدہ نہیں دے گی۔ اور شعبہ نے کہا: عبدالملک سے یہ حدیث مروی ہے۔ انہوں نے حکم سے، حکم نے قاسم بن مخیمرہ سے اور انہوں نے ورّاد سے یہ روایت کی ہے اور حسن (بصریؒ) نے کہا: جدّ کے معانی ہیں دولتمندی۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: جریر بن حازم نے ہمیں بتایا۔ کہا: ابورجاء نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کی۔ کہا: نبی ﷺ جب نماز پڑھ چکتے تو ہماری طرف منہ کر لیتے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے صالح بن کیسان سے، صالح نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، عبیداللہ نے حضرت زید بن خالد جہنیؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز بارش کے بعد جو رات کو ہوئی تھی پڑھائی۔ جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف منہ کیا اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب عزوجل نے کیا فرمایا ہے۔ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: میرے بندوں میں سے آج صبح بعض مجھ پر ایمان لانے والے ہوئے اور بعض میرا انکار کرنے والے۔ جس نے تو یہ کہا کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی ہے وہ میرا مومن ہے اور ستاروں کا کافر۔ اور جس نے کہا کہ ہم پر (بارش) فلاں فلاں (ستارے کے نکلنے کی) وجہ سے ہوئی ہے وہ میرا کافر اور ستاروں کا مومن ہے۔
عبداللہ (بن منیر) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے یزید (بن ہارون) سے سنا۔ وہ کہتے تھے۔ حُمید نے ہمیں بتایا کہ حضرت انسؓ (بن مالک) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ایک رات آنحضرتؐ نے نماز میں آدھی رات تک دیر کردی۔ پھر ہمارے پاس تشریف لائے۔ جب آپؐ نماز پڑھا چکے تو آپؐ نے ہماری طرف منہ کرکے فرمایا: لوگ تو نماز پڑھ چکے ہیں اور سو رہے ہیں اور تمہاری یہ حالت ہے کہ جب تک تم نماز کی انتظار کرتے رہے نماز ہی میں رہے۔
(تشریح)اور آدم نے ہم سے کہا۔ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے نافع سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابن عمرؓ (نوافل) اسی جگہ پڑھا کرتے تھے جس جگہ نماز فریضہ پڑھتے اور قاسم (بن محمد بن ابی بکر) بھی ایسا ہی کرتے اور حضرت ابو ہریرہؓ سے مرفوعاً بیان کیا جاتا ہے کہ امام اپنی جگہ میں نفل نہ پڑھے اور یہ صحیح نہیں۔
ابوالولید (ہشام بن عبدالملک) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) زہری نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے ہند بنت حارث سے، ہند نے حضرت امّ سلمہؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ جب سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہوتے تو تھوڑی دیر اپنی جگہ ٹھہرے رہتے۔ ابن شہاب کہتے تھے: ہم یہ سمجھتے ہیں اور بہتر تو اللہ ہی جانتا ہے ( آپؐ اس لئے ٹھہرتے ) کہ جو عورتیں نماز سے فارغ ہو چکی ہوں وہ نکل جائیں۔
اور (سعید) بن ابی مریم کہتے تھے: نافع بن یزید نے ہمیں یتا یا، کہا: جعفر بن ربیعہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن شہاب نے انہیں لکھا، کہا: ہند بنت حارث فراسیہ نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت امّ سلمہؓ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا اور یہ (ہند) ان کی سہیلیوں میں سے تھیں۔ وہ کہتی تھیں کہ آنحضرت اسلام پھیرتے تو عورتیں چلی جاتیں اور رسول اللہ ﷺ کے لوٹنے سے پہلے وہ اپنے گھروں میں داخل ہو جاتیں۔ اور ابن وہب نے یونس سے نقل کیا انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ ہند فراسیہ نے مجھے بتایا اور عثمان بن عمر نے کہا: یونس نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: ہند فراسیہ نے مجھے بتایا اور (محمد بن وقیع) زبیدی نے کہا: مجھ کو زہری نے بتایا کہ ہند بنت حارث قرشیہ نے انہیں خبر دی اور وہ معبد بن مقداد کی بیوی تھیں اور یہ بنی زہرہ کے حلیف تھے اور وہ نبی ﷺ کی ازواج کے پاس جایا کرتی تھیں اور شعیب نے زہری سے نقل کیا کہ ہند قرشیہ نے مجھ سے بیان کیا۔ اور ابن ابی عتیق (محمد بن عبد اللہ) نے بھی زہری سے نقل کیا اور زہری نے ہند فراسیہ سے روایت کی۔ اور لیث نے کہا: یحيٰ بن سعید نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن شہاب نے انہیں بتایا کہ قریش کی ایک عورت سے مروی ہے کہ اس نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے ان سے بیان کیا۔
(تشریح)محمد بن عبید نے ہم سے بیان کیا، کہا: عیسیٰ بن یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمر بن سعید سے روایت کی، کہا: ابن ابی مُلیکہ نے مجھے بتایا۔ عقبہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کے پیچھے مدینہ میں عصر کی نماز پڑھی۔ آپؐ نے سلام پھیرا اور جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور لوگوں کی گردنوں سے گذرتے ہوئے اپنی بیبیوں کے ایک حجرہ کی طرف گئے۔ لوگ آپؐ کی اس جلدی سے گھبرا گئے۔ پھر آپؐ ان کے پاس باہر آئے اور دیکھا کہ وہ آپؐ کی اس جلدی سے تعجب میں ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: میرے پاس کچھ سونا تھا جو مجھے یاد آیا اور میں نے پسند نہ کیا کہ وہ میری توجہ کو (ذکر الٰہی سے) روکے رکھے۔ اس لئے میں نے اسے تقسیم کرنے کے لئے کہہ دیا ہے۔
(تشریح)