بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 192 hadith
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زُہیر نے ہمیں بتایا کہ منصور نے ہم سے بیان کیا۔ ربعی بن حراش نے ان کو بتایا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا، کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: ان لوگوں میں جو تم سے پہلے تھے، ملائکہ نے جب ایک شخص کی روح کا اِستقبال کیا تو انہوں نے کہا: کیا تو نے کوئی نیک کام کیا ہے؟ تو اُس نے کہا: میں اپنے نوجوانوں کو یہ حکم دیا کرتا تھا کہ وہ آسودہ حال کو مہلت دیا کریں اور اس سے درگذر کریں۔ (حضرت حذیفہؓ کہتے تھے کہ نبی ﷺ نے) فرمایا: فرشتوں نے بھی اس سے درگذر کی۔ ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: اور ابو مالک نے ربعی سے یوں نقل کیا ہے: میں آسودہ حال سے نرمی کرتا اور تنگ دست کو مہلت دیتا تھا۔ شعبہ نے بھی ربعی سے بروایت عبدالملک ابومالک کی طرح بیان کیا۔ اور ابوعوانہ نے بروایت عبد الملک ربعی سے یوں نقل کیا کہ میں آسودہ حال کو مہلت دیتا اور تنگ دست سے درگذر کرتا تھا۔ اور نُعیم بن ابی ہند نے ربعی سے یوں نقل کیا کہ میں آسودہ حال سے (عذر) قبول کرلیتا تھا اور تنگ دست سے درگذر کرتا۔
(تشریح)ہشام بن عمار نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا۔ (محمد بن ولید) زبیدی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے سنا کہ آپؐ نے فرمایا: ایک تاجر تھا جو لوگوں کو قرض پر مال دیا کرتا تھا۔ جب وہ تنگدست کو دیکھتا تو اپنے نوجوانوں کو کہتا: اس سے درگذر کرو، شاید اللہ تعالیٰ بھی ہم سے درگذر فرمائے۔ سو اللہ تعالیٰ نے اس سے درگذر فرمایا۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے صالح ابوالخلیل سے، صالح نے عبداللہ بن حارث سے روایت کی۔ انہوں نے یہ روایت حضرت حکیم بن حزام ص تک پہنچائی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: بیچنے والا اور خریدنے والا دونوں (بیع فسخ کردینے کا) اِختیار رکھتے ہیں، جب تک کہ وہ جدا نہ ہو جائیں۔ یا فرمایا: اس وقت تک کہ وہ جدا ہو جائیں۔ اگر اُن دونوں نے سچائی سے کام لیا اور صاف صاف بات کی تو دونوں کی خرید و فروخت میں برکت دی جائے گی۔ اور اگر اُن دونوں نے چھپایا ہو اور جھوٹ بولا ہو تو اُن کی خرید و فروخت کی برکت مٹا دی جائے گی۔
(تشریح)ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے ابو سلمہ سے، انہوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہمیں اکٹھی کھجوروں کا راشن دیا جاتا تھا اور وہ مختلف قسم کی ملی جلی کھجوریں ہوتی تھیں اور ہم ایک صاع (اچھی کھجوروں) کے بدلے دو صاع وہ کھجوریں بیچتے۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ایک صاع کے بدلے دو صاع اور ایک درہم کے بدلے دو درہم نہ لیا کرو۔
(تشریح)عمر بن حفص (بن غیاث) نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا، کہا: شقیق نے مجھے بتایا۔ حضرت ابومسعودؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ایک انصاری شخص آیا، جس کی کنیت ابوشعیبؓ تھی۔ اُس نے اپنے ایک لڑکے کو جو قصاب تھا کہا کہ میرے لئے کھانا تیار کر دو، جو پانچ آدمیوں کے لئے کافی ہو۔ کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ نبی ﷺ کو دعوت دوں۔ آپؐ پانچویں ہوں گے۔ میں نے آپؐ کے چہرہ میں بھوک محسوس کی ہے۔ چنانچہ اُس نے ان (احباب) کو بلایا تو اُن کے ساتھ ایک اور شخص بھی آگیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ ہمارے ساتھ آگیا ہے۔ اگر تم اِسے چاہو تو اِجازت دے دو اور اگر چاہو کہ لَوٹ جائے تو لَوٹ جائے گا۔ اُس نے کہا: نہیں بلکہ میں نے اِس کو اِجازت دے دی ہے۔
(تشریح)بدل بن محبّر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ قتادہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ابو خلیل کو عبداللہ بن حارث سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا۔ انہوں نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے، حضرت حکیمؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: بائع اور مشتری کو (بیع فسخ کرنے کا) اِختیار ہے، جب تک وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں۔ یا (یہ) فرمایا: اُس وقت تک کہ جدا ہو جائیں۔ اگر اُن دونوں نے سچائی سے کام لیا اور صفائی سے بات کی تو اُن دونوں کو خرید و فروخت کے سودے میں برکت دی جائے گی اور اگر اُن دونوں نے اخفاء سے کام لیا اور جھوٹ بولا تو اُن دونوں کے سودے کی برکت مٹا دی جائے گی۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا کہ سعید مقبری نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ آدمی مال لینے میں اِس کی پرواہ نہیں کرے گا کہ آیا حلال سے ہے، یا حرام سے۔
(تشریح)محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابوالضحیٰ سے، ابوالضحیٰ نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب سورئہ بقرہ کی آخری آیتیں نازل ہوئیں تو نبی ﷺ نے مسجد میں پڑھ کر انہیں سنائیں اور آپؐ نے شراب کی تجارت بھی حرام قرار دی۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جریر بن حازم نے ہمیں بتایا۔ ابو رجاء (بصری) نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: آج رات میں نے دو اَشخاص کو خواب میں دیکھا کہ وہ میرے پاس آئے ہیں اور مجھے ایک مقدس زمین کی طرف لے گئے ہیں۔ ہم چلتے گئے یہاں تک کہ ایک خون کی ندی پر پہنچے۔ جس میں ایک شخص کھڑا تھا اور ندی کے عین وسط میں ایک اور شخص تھا جس کے سامنے پتھر رکھے ہوئے تھے۔ تب وہ پہلا شخص جو ندی میں کھڑا تھا، جب آگے بڑھا اور نکلنے کا قصد کیا تو اُس دوسرے شخص نے اُس کے منہ پر پتھر مارا اور اُسے وہیں لَوٹا دیا، جہاں وہ کھڑا تھا۔ اِسی طرح جب بھی وہ باہر نکلنے کے لئے بڑھتا تو اُس کے منہ پر پتھر مارتا، جس سے وہ ویسا ہی لَوٹ جاتا۔ میں نے کہا: یہ کیا ماجرا ہے؟ تو اُس نے کہا: جس شخص کو آپؐ نے ندی میں دیکھا ہے۔ وہ سود خوار ہے۔
(تشریح)ابوالولید (ہشام بن عبدالملک) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ عون بن ابی جحیفہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک غلام خریدا، جو حجام تھا (اور اُس کی حجامت کے آلات توڑ ڈالے) میں نے ان سے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے کتے کی قیمت اور خون کی قیمت لینے سے منع کیا ہے اور گودنے والی گدوانے والی سے بھی منع کیا اور سود خور اور سود کھلانے والے سے متعلق منع فرمایا ہے اور مصور پر لعنت کی ہے۔
(تشریح)