بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 192 hadith
محمد بن ابو یعقوب کرمانی نے ہم سے بیان کیا کہ حسان (بن ابراہیم) نے ہمیں بتایا (وہ کہتے ہیں) یونس نے ہمیں بتایا۔ محمد (بن مسلم) جو زہری ہیں، نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس کی یہ پسند ہو کہ اُس کے رزق میں کشائش ہو (اور نیکیوں کا زیادہ سے زیادہ اُسے موقع ملے) اور اُس کی عمر دراز ہو تو چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔
(تشریح)معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ ہم نے ابراہیم (نخعی) سے اِس اَمر کا اِستفسار کیا کہ (کیا) اُدھار کے سودے میں رہن (رکھنے کے بارے میں کوئی روایت ہے؟) تو انہوں نے بتایا کہ اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا: نبی ﷺ نے ایک یہودی سے مقررہ میعاد کے لئے غلہ خریدا اور لوہے کی ایک زِرہ اُس کے پاس گرو رکھی۔
مسلم (بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت انسؓ سے مروی ہے۔ اس کی دوسری سند یوں ہے: اور محمد بن عبداللہ بن حوشب نے مجھ سے بیان کیا کہ اسباط ابوالیسع بصری نے ہمیں بتایا کہ ہشام دستوائی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ نبی ﷺ کے پاس جَو کی روٹی اور کچھ چربی جو بودار تھی لائے۔ اور نبی ﷺ مدینہ میں اپنی زرہ ایک یہودی کے پاس رہن رکھ کر اس سے اپنے گھر والوں کے لیے جَو لائے تھے۔ اور میں نے انہیں (حضرت انسؓ کو) یہ کہتے سنا کہ حضرت محمد ﷺ کی آل کے پاس ایک صاع گندم یا ایک صاع کسی غلے کا شام تک نہیں رہا جبکہ آپؐ کے پاس نو بیویاں تھیں۔
(تشریح)اسماعیل بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا، (کہا:) علی بن وہب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے فرمایا: میری قوم کو علم ہی ہے کہ میرا پیشہ ایسا نہ تھا کہ جس سے میں اپنے گھر والوں کی خوراک مہیا نہ کر سکتا۔ مگر اب میں مسلمانوں کے کام میں مشغول ہوگیا ہوں۔ سو ابوبکر کے اہل و عیال اب بیت المال سے کھائیں گے اور وہ (ابوبکر) مسلمانوں کے لئے اِس مال میں کاروبار کرے گا (اور تجارت سے ان کا مال بڑھاتا رہے گا۔)
محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن یزید نے ہمیں بتایا۔ سعید (بن ابی ایوب) نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ ابواسود نے مجھے بتایا کہ عروہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ اپنے کام خود کرتے اور اُن سے پسینے کی بو آتی تو اُن سے کہا گیا: اگر تم نہا لیا کرو تو اچھا ہے۔ ہمام نے بھی یہ روایت کی۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عیسیٰ بن یونس نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ثور سے، ثور نے خالد بن معدان سے، خالد نے حضرت مقدام (بن معدی کرب) رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا کہ انسان کا اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھانا کھانے سے بڑھ کر کوئی کھانا نہیں اور اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت دائود علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی ہی کھایا کرتے تھے۔
یحيٰ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ ہمام بن منبّہ سے روایت ہے۔ (انہوں نے کہا:) حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ نبی دائود علیہ السلام نہیں کھاتے تھے مگر اپنے ہاتھ کی کمائی سے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابو عبید سے، جو حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کے آزاد کردہ غلام تھے، روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی لکڑیاں کاٹ کر اپنی پیٹھ پر گٹھا لائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے مانگے؛ خواہ وہ اُسے دے یا نہ دے۔
یحیٰ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ ہشام بن عروہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی ایک کا اپنی رسیاں لینا (اور لکڑیاں باندھ کر لانا سوال کرنے سے بہتر ہے۔)
(تشریح)علی بن عیاش نے ہم سے بیان کیا کہ ابو غسان محمد بن مطرف نے ہمیں بتایا، کہا کہ محمد بن منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اُس خوش خلق شخص پر رحم کرے (جو اپنی خوش خلقی کا نمونہ اس وقت دِکھاتا ہے) جب وہ بیچے اور جب وہ خریدے اور جب وہ تقاضا کرے۔
(تشریح)