بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 192 hadith
احمد بن مقدام عجلی نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن عبدالرحمن طفاوی نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام بن عروہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ بعض لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس لوگ گوشت لے کر آتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے (ذبح کرتے وقت) اس پر اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اس پر بسم اللہ پڑھ لیا کرو اور اسے کھا لو۔
(تشریح)طلق بن غنام نے ہم سے بیان کیا کہ زائدہ (بن قدامہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین سے، حصین نے سالم (بن ابی جعد) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا، کہا: نبی ﷺ کے ساتھ ہم ایک بار نماز پڑھ رہے تھے کہ اِس اَثناء میں ایک قافلہ شام سے غلّہ لادے ہوئے آیا تو لوگ اُسے دیکھنے کے لئے چل پڑے۔ یہاں تک کہ نبی ﷺ کے ساتھ بارہ مردوں کے سِوا کوئی باقی نہ رہا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: جب وہ تجارت یا تماشہ دیکھتے ہیں تو اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا کہ سعید مقبری نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا۔ آدمی اِس کی پرواہ نہیں کرے گا کہ اُس کی کمائی حلال سے ہے یا حرام سے۔
(تشریح)ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا۔ ابن جریج سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ عمرو بن دینار نے ابو منہال (عبدالرحمن بن مطعم) سے روایت کرتے ہوئے مجھے خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ میں صرافی کا کاروبار کیا کرتا تھا۔ میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا۔۔۔ اور فضل بن یعقوب نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ حجاج بن محمد نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج نے کہا: عمرو بن دینار اور عامر بن مصعب نے مجھے خبر دی کہ اُن دونوں نے ابو منہال (عبدالرحمن بن مطعم) سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت براء بن عازبؓ اور حضرت زید بن ارقمؓ سے صرافی کی بابت دریافت کیا تو ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم دونوں تاجر تھے اور ہم نے رسول اللہ ﷺ سے صرافی کی بابت پوچھا تو آپؐ نے فرمایا کہ اگر دست بدست، نقد بہ نقد ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اور اگر بعد کو ادا کیا جائے تو درست نہیں۔
(تشریح)ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا۔ ابن جریج سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ عمرو بن دینار نے ابو منہال (عبدالرحمن بن مطعم) سے روایت کرتے ہوئے مجھے خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ میں صرافی کا کاروبار کیا کرتا تھا۔ میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا۔۔۔ اور فضل بن یعقوب نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ حجاج بن محمد نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج نے کہا: عمرو بن دینار اور عامر بن مصعب نے مجھے خبر دی کہ اُن دونوں نے ابو منہال (عبدالرحمن بن مطعم) سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت براء بن عازبؓ اور حضرت زید بن ارقمؓ سے صرافی کی بابت دریافت کیا تو ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم دونوں تاجر تھے اور ہم نے رسول اللہ ﷺ سے صرافی کی بابت پوچھا تو آپؐ نے فرمایا کہ اگر دست بدست، نقد بہ نقد ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اور اگر بعد کو ادا کیا جائے تو درست نہیں۔
(تشریح)محمد بن سلام نے مجھ سے بیان کیا کہ مخلد بن یزید نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج نے ہمیں خبر دی، کہا: عطاء (بن ابی رباح) نے مجھے بتایا۔ عبید بن عمیر سے مروی ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے حضرت عمر بن خطابؓ سے ملاقات کے لئے اِجازت طلب کی تو انہیں اجازت نہ دی گئی اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ (حضرت عمرؓ) مشغول تھے۔ حضرت ابوموسیٰؓ واپس چلے گئے۔ اتنے میں حضرت عمرؓ فارغ ہوئے اور فرمایا: کیا عبداللہ بن قیسؓ (ابوموسیٰ) کی آواز میں نے نہ سنی تھی؟ انہیں (اندر آنے کی) اِجازت دو۔ آپؓ سے کہا گیا کہ وہ تو واپس چلے گئے ہیں۔ پھر حضرت عمرؓ نے اُن کو بلایا (اور دریافت کیا) تو (حضرت ابوموسیٰؓ نے) کہا: ہمیں یہی حکم ہوتا تھا (کہ جب اِجازت نہ ملے تو واپس چلے جایا کریں) تو حضرت عمرؓ نے کہا: آپؓ کو اِس بات پر شہادت لانی ہوگی۔ چنانچہ وہ مجالس انصار کی طرف چلے گئے اور اُن سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اِس معاملہ میں آپؓ کے لئے کوئی شہادت نہیں دے گا؛ مگر وہ جو ہم سب میں سے کمسن ہے۔ یعنی ابوسعید خدریؓ۔ تب وہ حضرت ابوسعید خدریؓ کو ساتھ لے گئے۔ (اُن کی بات سن کر) حضرت عمرؓ نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ کا یہ اِرشاد مجھ سے پوشیدہ رہ گیا؟ منڈیوں میں لین دین نے مجھے غافل رکھا۔ اِس سے اُن کی یہ مراد تھی کہ وہ تجارت کے لئے باہر جایا کرتے تھے۔
(تشریح)اور لیث نے کہا: جعفر بن ربیعہ نے مجھ سے بیان کیا انہوں نے عبد الرحمن بن ہرمز سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا جو سمندر میں سفر پر گیا تھا اور اپنی ضرورت اُس نے پوری کی اور ساری حدیث بیان کی۔ عبد اللہ بن صالح نے مجھ سے بیان کیا کہ لیث نے مجھے اس کے متعلق بتایا۔
(تشریح)محمد (بن سلام بیکندی) نے مجھ سے بیان کیا، کہا: محمد بن فضیل نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حصین (بن عبدالرحمن) سے، حصین نے سالم بن ابی جعد سے، سالم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک تجارتی قافلہ آیا؛ جبکہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ رہے تھے تو لوگ بکھر گئے، سوائے بارہ مردوں کے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: جب وہ تجارت یا کھیل تماشہ دیکھیں تو اُس پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور تجھے کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔
(تشریح)عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابو وائل سے، ابو وائل نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: جب عورت اپنے گھر کی خوراک میں سے اللہ کی راہ میں ایسے طور پر کچھ خرچ کرے کہ بگاڑ کی نیت نہ ہو؛ تو اُسے اُس کا اجر ملے گا، اِس وجہ سے کہ اُس نے خرچ کیا۔ اور اُس کے خاوند کو بھی، اِس لئے کہ اُس نے کمایا۔ اور خزانچی کو بھی ویسا ہی۔ وہ ایک دوسرے کے اجر کو کم نہیں کریں گے۔
یحيٰ بن جعفر نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے ہمام (بن منبّہ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے میں نے سنا کہ نبی ﷺ سے مروی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: جب عورت اپنے خاوند کی کمائی سے بغیر اُس کی اِجازت کے خرچ کرے تو اُس (مرد) کو بھی اُس کا آدھا اَجر ملے گا۔
(تشریح)