بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 89 hadith
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ سلمہ بن کہیل نے ہم سے بیان کیا۔ سلمہ نے کہا: میں نے شعبی سے سنا، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے۔ جب اُنہوں نے جمعہ کے دن ایک عورت کو سنگسار کیا تو کہا: میں نے اس کو رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق سنگسار کیا۔
اسحاق (بن شاہین واسطی) نے مجھ سے بیان کیا کہ خالد (بن عبداللہ طحان) نے ہمیں بتایا۔ خالد نے شیبانی سے روایت کی۔ (اُنہوں نے کہا:) کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ نے سنگسار بھی کیا؟ اُنہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے پوچھا: کیا سورة النور سے پہلے یا اس کے بعد؟ اُنہوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ یونس نے ہمیں خبر دی۔ یونس نے ابن شہاب سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھے بتایا۔ ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے روایت کی کہ اسلم قبیلہ کا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپؐ سے بیان کیا کہ اُس نے زنا کیا ہے اور چار بار اپنے متعلق یہ اقرار کیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق حکم دیا اور اُسے سنگسار کیا گیا اور وہ شادی شدہ تھا۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ اور سعید بن مسیب سے، اُن دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس وقت آپؐ مسجد میں تھے اس نے آپؐ کو بلند آواز سے پکارا، اور کہا: یا رسول اللہ ! میں نے زنا کیا ہے۔ آپؐ نے اس سے منہ پھیر لیا۔ یہاں تک کہ اس نے آپؐ کے سامنے چار بار یہی دہرایا۔ جب اس نے چار بار اپنے متعلق یہ اقرار کیا تو نبی ﷺ نے اس کو بلایا اور پوچھا: کیا تمہیں جنون ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: تو کیا تم شادی شدہ ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اس کو لے جاؤ اور اس کو سنگسار کرو۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپؓ فرماتی تھیں: سعد (بن ابی وقاصؓ) اور عبد بن زمعہؓ نے آپس میں جھگڑا کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: عبد بن زمعہؓ یہ تمہارا ہے۔ بچہ اُسی کا ہوتا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو۔ اور اے سودہؓ! تم اس سے پردہ کیجیو۔ قتیبہ نے لیث سے روایت کرتے ہوئے ہم سے اتنا اور بیان کیا اور زنا کار کو پتھر پڑتے ہیں۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ محمد بن زیاد نے ہم سے بیان کیا۔ محمد نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: بچہ (اُس کا ہے جس کی وہ) بیوی یا لونڈی ہو۔ اور بدکار کو پتھر پڑتے ہیں۔
محمد بن عثمان بن کرامہ نے ہم سے بیان کیا کہ خالد بن مخلد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلیمان (بن بلال) سے روایت کی کہ مجھے عبداللہ بن دینار نے بتایا۔ عبداللہ نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لایا گیا جنہوں نے بدکاری کی تھی۔ نبی ﷺ نے اُن سے پوچھا: تم اپنی کتاب میں کیا حکم پاتے ہو؟ اُنہوں نے کہا: ہمارے علماء نے تو یہ بیان کیا ہے کہ منہ کالا کیا جائے اور اُلٹے رُخ (سواری پر) سوار کیا جائے۔ حضرت عبداللہ بن سلامؓ نے کہا: یا رسول اللہ! ان سے کہیں کہ تورات لائیں۔ تورات لائی گئی۔ تو اُن میں سے ایک نے اپنا ہاتھ رجم کی آیت پر رکھ دیا اور اس سے پہلے اور اس کے بعد پڑھا۔ تو حضرت (عبد اللہ) بن سلامؓ نے اس سے کہا: اپنا ہاتھ اٹھاؤ تو کیا دیکھا کہ رجم کی آیت اس کے ہاتھ کے نیچے ہے۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ان کے متعلق حکم دیا اور وہ سنگسار کئے گئے۔ حضرت ابن عمرؓ کہتے تھے: اُن کو بلاط کے قریب سنگسار کیا گیا۔ میں نے یہودی کو دیکھا کہ وہ اس یہودی عورت پر جھک گیا تھا۔
محمود (بن غیلان) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت جابرؓ سے روایت کی کہ اسلم (قبیلہ) کا ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے زنا کا اقرار کیا۔ نبی ﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا، یہاں تک کہ جب اس نے اپنے متعلق چار بار اقرار کیا تو نبی ﷺ نے اس سے پوچھا: کیا تمہیں جنون ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے پوچھا: کیا شادی شدہ ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ تب آپؐ نے اس کے متعلق حکم دیا اور اُسے عیدگاہ میں سنگسار کیا گیا۔ جب اس کو پتھر پڑنے لگے تو وہ بھاگ گیا۔ پھر اُسے پکڑ لیا گیا اور اس کو سنگسار کیا۔ یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ نبی ﷺ نے اس کا اچھے الفاظ میں ذکر کیا اور اُس کا جنازہ پڑھا۔ یونس اور ابن جریج نے زہری سے روایت کرتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ آپؐ نے اس کا جنازہ پڑھا۔ ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) سے پوچھا گیا کہ حضرت جابرؓ کا یہ کہنا کہ اس کا جنازہ پڑھایا، صحیح ہے یا نہیں۔ (امام بخاریؒ نے) کہا: معمر نے اسے روایت کیا ہے۔ اُن (امام بخاریؒ) سے پوچھا گیا، کیا معمر کے سوا بھی کسی نے اِسے روایت کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا: نہیں۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حمید بن عبدالرحمٰن سے، حمید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا۔ پھر اس نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم ایک گردن آزاد کرنے کی طاقت رکھتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم دو مہینے روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔