بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 51 hadith
ہم سے (محمد) بن سلام (بیکندی) نے بیان کیا، کہا: محمد بن فضیل نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: یحییٰ بن سعید نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان میں جو شخص ایمان کی وجہ سے اور اللہ کی رضا جوئی کی خاطر روزہ رکھتا ہے، اس سے جو بھی گناہ پہلے ہو چکے ہیں، ان سے اس کی مغفرت کی جاتی ہے۔
Abū Hurairah (r.a) reported that the Messenger of Allāh (sa) said: ‘Whoever observes the fast in Ramaḍān with faith and seeking a reward from Allāh will have his past sins forgiven.’
ہم سے عبدالسلام بن مطہر نے بیان کیا، کہا: عمر بن علی نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے معن بن محمد غفاری سے، انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبری سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: دین تو آسان ہے، اور جو کوئی بھی دین میں حد سے بڑھے گا تو دین اس کو مغلوب کر دے گا۔ اس لئے ٹھیک راہ چلو، حدود کے قریب قریب رہو، خوش رہو، اور صبح و شام دعا و ذکر سے اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کرتے رہو اور ایسا ہی کچھ پچھلی رات کو بھی۔
(تشریح)Abū Hurairah (r.a) narrated from the Prophet (sa) that he said: ‘Religion is easy, and no one burdens himself beyond their capacity without it overcoming them. So, keep straight [on the right path] and keep near [to the limits], and rejoice and seek help [from Allāh] in the morning and in the evening and a part of the night.’
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا: زہیر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: ابو اسحاق نے حضرت براء سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ پہلے پہل جب نبی ﷺ مدینہ آئے تو آپ انصار میں سے اپنے نہال یا کہا کہ اپنے ماموؤں کے پاس مہمان ٹھہرے، اور یہ کہ آپ بیت المقدس کی طرف (منہ کر کے) سولہ یا سترہ ماہ نماز پڑھتے رہے۔ اور آپ کو یہی اچھا معلوم ہوتا تھا کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ کی طرف ہو اور یہ کہ آپ نے پہلی نماز جو اس کی طرف منہ کر کے پڑھی وہ عصر کی نماز تھی اور آپ کے ساتھ کچھ لوگوں نے بھی نماز پڑھی یا جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی، ان میں سے ایک شخص باہر گیا اور ایک مسجد معلوم ہوتا تھا کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ کی طرف ہو اور یہ کہ آپ نے پہلی نماز جو (اس کی طرف منہ کر کے) پڑھی وہ عصر کی نماز تھی اور آپ کے ساتھ کچھ لوگوں نے بھی نماز پڑھی۔ جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی، وہ رکوع میں تھے تو اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ میں نے ابھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے۔ یہ سن کر وہ جس حالت میں تھے اسی حالت میں بیت اللہ کی طرف پھر گئے اور جب آپ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھا کرتے تھے تو یہودی اور اہل کتاب بھی خوش تھے۔ اور جب آپ نے اپنا منہ بیت اللہ کی طرف پھیرا تو انہوں نے اسے بُرا منایا۔ زہیر کہتے تھے کہ ابو اسحاق نے اپنی اس حدیث میں حضرت براء سے روایت کرتے ہوئے ہمیں یہ بھی بتلایا کہ کچھ لوگ پہلے قبلہ پر ہی فوت ہو گئے تھے اور مارے گئے تھے اور ہم نہیں جانتے کہ ان کے متعلق کیا کہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل کی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا۔
(تشریح)Al-Barāʾ ibn ʿĀzib (r.a) narrated that the Prophet (sa), when he first came to Madīnah, stayed with his maternal relatives – or he [the narrator] said, ‘his maternal uncles’ – from the Anṣār, and that he offered his Prayers facing towards Jerusalem (Bait al-Maqdis) for 16 or 17 months, but he wished that his Qiblah would be towards the Kaʿbah, and the first Prayer which he offered [facing the Kaʿbah] was the ʿAṣr Prayer, and some people offered Prayer with him. Then, a man from among those who offered Prayer with him went out and passed by some people in a mosque who were in a state of rukūʿ. He said: ‘By Allāh, I testify that I prayed with the Messenger of Allāh (sa) facing Makkah.’ So they turned to face the Kaʿbah while remaining in the same position [of rukūʿ]. The Jews and the People of the Book [i.e. the Christians] were happy when he [the Prophet (sa)] would offer Prayer facing towards Jerusalem, but they disapproved when he turned his face towards the House [i.e. the Kaʿbah]. Zuhair said: ‘Abū Isḥāq narrated to us on authority of al-Barāʾ in this ḥadīth of his: “Some individuals had passed away or been slain before the Qiblah was altered, leaving us uncertain about how to address their circumstances. So Allāh the Exalted revealed: ‘And it does not behove Allāh to let your faith go in vain. (2:144)’.”’
مالک نے کہا: زید بن اسلم نے مجھے بتلایا کہ انہیں عطاء بن یسار نے بتایا کہ حضرت ابو سعید خدری نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے نا۔ آپ فرماتے تھے کہ اگر بندہ اللہ کا فرمانبردار ہو جائے اور پھر اس کی فرمانبرداری نہایت عمدہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر بدی جو وہ پہلے کر چکا ہوگا دور کر دے گا اور اس کے بعد بدلہ یہ ہوگا کہ ایک نیکی کے عوض دس گنا سے سات سو گنا تک (ثواب ہوگا) اور بدی کا معاوضہ اتنا ہی رہے گا، سوائے اس کے کہ اللہ اس (بدی) سے درگذر کر دے۔
Abū Saʿīd al-Khudrī (r.a) narrated that he heard the Messenger of Allāh (sa) say: ‘When a servant [of Allāh] accepts Islām and his Islām becomes excellent, Allāh will remove from him every bad deed he had previously committed. Thereafter, deeds are requited as follows: a good deed will be multiplied by 10 to 700, while an evil deed will only be retributed to the extent of its own value, unless Allāh forgives it.’
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عبد الرزاق نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ معمر نے ہمیں بتلایا۔ معمر نے ہمام سے۔ ہمام نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنے اسلام پر عمدگی سے قائم ہو تو پھر ہر ایک نیکی جو وہ کرے گا اس کے لئے دس گنا سے سات سو گنا تک لکھی جائے گی اور ہر بدی جو وہ کرے گا اس کے لئے اتنی ہی لکھی جائے گی۔
(تشریح)Abū Hurairah (r.a) reported that the Messenger of Allāh (sa) said: ‘When any one of you makes his Islām excellent, every good deed he performs is recorded for him as 10 to 700 times its like, and every evil deed he commits is recorded for him only as its equivalent.’
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا (انہوں نے کہا) کہ ہمیں کسی نے بتلایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ میرے باپ نبی ﷺ کے ہاں آئے۔ اس وقت ان کے پاس ایک عورت تھی۔ فرمایا: یہ کون ہے؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا: فلاں عورت ہے۔ آپ نے فرمایا: بس رہنے دو۔ بخدا اللہ نہیں اُکتائے گا مگر تم اُکتا جاؤ گے اور سب سے زیادہ پیارا عمل اسے وہی ہے جسے کرنے والا ہمیشہ کرتا رہے۔
(تشریح)ʿĀʾishah (r.a) narrated that the Prophet (sa) came to her when a woman was with her. He asked: ‘Who is she?’ She replied: ‘So-and-so’, and proceeded to speak of her [excessive devotion to] Prayers. He said: ‘Stop! You are only obliged to do what you are capable of. By Allāh, Allāh does not tire [of rewarding] but you tire [of performing good deeds]. The religious act most beloved to Him is that which is performed consistently.’
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہشام نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ قتادہ نے ہمیں حضرت انس سے، حضرت انس نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی۔ آپ نے فرمایا کہ جس نے لا الہ الا اللہ کا اقرار کیا اور اس کے دل میں ذرہ بھر بھی نیکی ہوئی وہ آگ سے نکل جائے گا اور جس نے لا الہ الا اللہ کا اقرار کیا اور اس کے دل میں گیہوں کے دانے کے برابر نیکی ہوئی وہ بھی آگ سے نکل جائے گا اور جس نے لا الہ الا اللہ کا اقرار کیا اور اس کے دل میں ذرہ بھر بھی بھلائی ہوئی وہ بھی آگ سے نکل آئے۔ ابو عبد اللہ (محمد بن اسماعیل بخاری) نے کہا: ابان کہتے ہیں کہ قتادہ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت انس نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بھلائی کی جگہ ایمان کا لفظ بتایا۔
Anas (r.a) narrated from the Prophet (sa) that he said: ‘One who says, “There is none worthy of worship except Allāh” (Lā ilāha illallāh), and there is goodness the weight of a grain of barley in his heart will come out of the fire. One who says, “There is none worthy of worship except Allāh”, and there is goodness the weight of a grain of wheat in his heart will come out of the fire. One who says, “There is none worthy of worship except Allāh”, and there is goodness of an atom’s weight in his heart, will come out of the fire.’ Abū ʿAbd Allāh [al-Bukhārī] (rh) said: ‘Abān said: “Qatādah related to us that Anas reported to us from the Prophet (sa) the words ‘of faith’ instead of ‘of goodness’.”’
ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا۔ انہوں نے جعفر بن عون سے سنا کہ انہوں نے کہا کہ ہم۔ ابوالعیس نے بیان کیا کہ قیس بن مسلم نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے طارق بن شہاب سے، طارق نے حضرت عمر بن خطاب سے روایت کی کہ یہود میں کسی شخص نے ان سے کہا: امیر المومنین! آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے جسے آپ پڑھتے ہیں۔ اگر وہ ہم پر یعنی یہود کی قوم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: وہ کون سی آیت ہے؟ اس نے کہا: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ۔۔۔وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا: ہمیں وہ دن معلوم ہے اور وہ جگہ بھی جہاں ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی تھی۔ اس وقت جمعہ کے دن عرفات میں کھڑے تھے۔
(تشریح)ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb (r.a) narrated that a man from among the Jews said to him: ‘O leader of the believers! There is a verse in your Book that you recite. Had it been revealed to us, the community of Jews, we would have taken that day [on which it was revealed] as a day of celebration (ʿĪd).’ He [ʿUmar (r.a)] asked: ‘Which verse is it?’ He replied: ‘This day have I perfected your religion for you and completed My favour upon you and have chosen for you Islām as religion.’ (5:4). ʿUmar (r.a) said: ‘We know the day and the place where this verse was revealed to the Prophet (sa): it was while he was standing at ʿArafah on a Friday.’
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مالک بن انس نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے اپنے چاچا ابو سہیل بن مالک سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ اہل نجد میں سے ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ پراگندہ بال تھا اور ہم اس کی آواز کی گنگناہٹ سنتے تھے اور ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک آیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے اسلام کے متعلق پوچھ رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دن رات میں پانچ نمازیں۔ اس پر اس نے کہا: کیا ان کے علاوہ میرے ذمہ کچھ اور بھی ہے؟ فرمایا: نہیں، سوائے اس کے کہ تو اپنی خوشی سے کچھ پڑھے، اور رمضان کے روزے بھی۔ اس نے کہا: کیا اس کے علاوہ میرے ذمہ کچھ اور بھی ہے؟ فرمایا: نہیں۔ سوائے اس کے کہ تو اپنی خوشی سے روزے رکھے۔ (حضرت طلحہ ابن عبید اللہ) کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے اس سے زکوۃ کا بھی ذکر کیا اور اس نے کہا: کیا میرے ذمہ اس کے علاوہ کچھ اور بھی ہے؟ فرمایا: نہیں، سوائے اس کے کہ تو اپنی خوشی سے صدقہ دے۔ حضرت طلحہ کہتے تھے: اس پر وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا گیا اور وہ کہہ رہا تھا: بخدا میں نہ اس سے زیادہ کروں گا اور نہ ہی کم۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کامیاب ہو گیا اگر وہ سچا ہے۔
(تشریح)Ṭalḥah ibn ʿUbaid Allāh (r.a) narrated: ‘A man with dishevelled hair from the people of Najd came to the Messenger of Allāh (sa). We could hear the echo of his voice, yet the words remained indistinct until he drew closer, revealing that he was asking about Islām. The Messenger of Allāh (sa) said: “Five Prayers [must be offered] in the day and night.” He asked: “Is anything else compulsory for me?” He [the Prophet (sa)] said: “No, unless you do it voluntarily.” The Messenger of Allāh (sa) then said: “And fasting during Ramaḍān [is compulsory].” He asked: “Is any other fasting compulsory for me?” He said: “No, unless you do it voluntarily”.’ He [the narrator] said: ‘The Messenger of Allāh (sa) then mentioned Zakāh to him. He [the man] asked: “Is any other Zakāh compulsory for me?” He [the Prophet (sa)] replied: “No, unless you do it voluntarily.” Then the man went away, saying: “By Allāh! I will neither do more nor less than this.” The Messenger of Allāh (sa) said: “He will be successful if he proves to be truthful”.’
ہم سے احمد بن عبداللہ بن علی منجوفی نے بیان کیا، کہا کہ روح نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوف نے حسن اور محمد سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مسلمان کے جنازے کے ساتھ ایمان کی وجہ اور رضائے الہی کی خاطر جاتا ہے جب تک اس کے جنازے کی نماز نہیں پڑھ لی جاتی اور اس کے دفنانے سے لوگ فارغ نہیں ہو جاتے، تب تک وہ اس کے ساتھ ہی رہتا ہے تو وہ دو قیراط اجر لے کر واپس آتا ہے۔ ایک ایک قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہوگا اور جس نے جنازہ پڑھا اور پھر اس کے دفنانے سے پہلے لوٹ آیا تو وہ ایک قیراط لے کر واپس آتا ہے۔ عثمان موذن نے بھی روح کی یہ حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: ہمیں عوف نے محمد سے، محمد نے حضرت ابو ہریرہ سے حضرت نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح بتلایا۔
(تشریح)Abū Hurairah (r.a) narrated that the Messenger of Allāh (sa) said: ‘Anyone who accompanies the funeral of a Muslim out of faith and seeking reward from Allāh, and stays with it until the [funeral] Prayer has been offered over it [i.e. the body] and its burial is over, he will return with a reward equivalent to two qīrāṭs, each qīrāṭ like [the Mount] Uḥud. One who offers the [Funeral] Prayer over it and returns before it is buried will return with a reward equivalent to one qīrāṭ.’