بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 51 hadith
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب نے زہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا کہ ابو ادریس عائذ اللہ بن عبد اللہ نے مجھے بتلایا کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا اور حضرت عبادہ جنگ بدر میں شامل ہوئے تھے اور عقبہ کی رات یہ بھی نقیبوں میں سے ایک نقیب تھے۔ یہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبکہ آپ کے ارد گرد آپ کے صحابہ کا ایک گروہ تھا فرمایا کہ مجھ سے بیعت کرو اس بات پر کہ تم کسی چیز کو بھی اللہ کا شریک نہیں ٹھہراؤ گے، نہ ہی چوری کرو گے، نہ زنا، اور نہ ہی اولاد کو قتل کرو گے اور تم دیدہ دانستہ بہتان نہیں باندھو گے اور نہ بھلی بات میں نافرمانی کرو گے۔ پس جس نے بھی تم میں سے یہ عہد پورا کیا اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوگا اور جس نے ان بدیوں میں سے کوئی بدی کی اور پھر دنیا میں اُسے سزا مل گئی تو یہ سزا اس کے لئے کفارہ ہوگی، اور جس نے ان بدیوں میں سے کوئی بدی کی اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی فرمائی تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ اللہ چاہے تو اس سے درگزر کرے اور چاہے تو اُسے سزا دے۔ سو ہم نے ان باتوں پر آپ سے بیعت کی۔
(تشریح)ʿUbādah ibn al-Ṣāmit (r.a), who took part in [the battle of] Badr and was one of the leaders on the night of al-ʿAqabah, narrated that the Messenger of Allāh (sa) said whilst surrounded by a group of his Companions: ‘Pledge to me that you will not associate any partners with Allāh, will not steal, will not commit adultery or fornication, will not kill your children, will not make false accusations which you yourselves have deliberately forged and will not disobey in that which is good. Whoever of you fulfils [this pledge] will be rewarded by Allāh. Whoever commits any of these sins and is then punished in this world, his punishment will serve as an expiation for him. Whoever commits any of these sins and Allāh covers it, it is up to Allāh to forgive him if He so chooses, or to punish him if He so chooses.’ We pledged to him accordingly.
عبد الله بن مسلمہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے عبد الرحمن بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابی صعصعہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی۔ وہ ان کو اپنے ساتھ لئے جنگلوں پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور بارش کی جگہوں میں اپنے دین کو فتنوں سے بچاتے ہوئے بھاگتا پھرے گا۔
(تشریح)Abū Saʿīd al-Khudrī (r.a) narrated that the Messenger of Allāh (sa) said: ‘The time is near when the best possession of a Muslim will be sheep which he will take to the mountain-tops and to the places of rainfall, running away with his faith to avoid trials (fitan).’
ہم سے محمد بن سلام (بیکندی) نے بیان کیا، کہا: عبدہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کبھی صحابہ کو کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے تو آپ صرف انہیں ایسے کاموں کا حکم دیتے جن کو وہ کر سکتے۔ صحابہ کہتے: یا رسول اللہ! ہم تو آپ جیسے نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی پہلی اور پچھلی کوتاہیاں معاف کر دی ہیں۔ اس بات پر آپ کو اتنا رنج ہوتا کہ آپ کے چہرہ سے ظاہر ہوتا۔ پھر آپ فرماتے کہ تم میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے والا اور سب سے زیادہ عارف باللہ میں ہوں۔
(تشریح)ʿĀʾishah (r.a) narrated: ‘Whenever the Messenger of Allāh (sa) commanded them [i.e. the Companions], he would command them to perform actions which they were able to. They [the Companions] said: “We are not like you, O Messenger of Allāh! Allāh has certainly covered up your shortcomings, both past and future.” At this he became angry, so much so that the anger became apparent on his face. Then he said: “Amongst all of you, I fear Allāh the most and have the most knowledge of Him”.’
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، حضرت انسؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: تین باتیں جس میں ہوں وہ ایمان کا مزہ پا لیتا ہے۔ وہ شخص جس کو اللہ اور اس کا رسول دوسری تمام چیزوں سے بڑھ کر پیارے ہوں، اور وہ جو کسی شخص سے محبت رکھے اور محض اللہ تعالیٰ ہی کے لئے اس سے محبت رکھے، اور وہ جس کو اللہ تعالیٰ نے کفر سے چھڑایا ہو اور پھر اس کے بعد وہ کفر میں لوٹنا ایسا ہی ناپسند کرے جیسا آگ میں ڈالا جانا۔
(تشریح)Anas (r.a) narrated that the Prophet (sa) said: ‘There are three qualities which are such that one who has them tastes the sweetness of faith: [1] one to whom Allāh and His Messenger are more beloved than anything besides them; [2] one who, when he loves a person, loves him purely for the sake of Allāh; [3] one who abhors reverting to disbelief after Allāh has saved him from it, just as he loathes being hurled into fire.’
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے، عمرو نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جنتی جنت میں داخل ہوں گے اور دوزخی دوزخ میں۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان ہے اس کو نکال دو تب وہ آگ سے نکلیں گے اور حالت یہ ہوگی کہ وہ جھلس کر سیاہ ہو چکے ہوں گے۔ پھر وہ زندگی کی نہر میں ڈالے جائیں گے۔ مالک کو شک ہے کہ راوی نے بارش کہا یا زندگی کی نہر۔ پھر وہ اسی طرح نشونما پائیں گے۔ جس طرح سیلاب کی لائی ہوئی زرخیز مٹی میں دانہ نشونما پاتا ہے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ دانہ پہلے زرد رنگ کا لپٹا ہوا نکلتا ہے۔ وہیب نے کہا: ہم سے عمرو نے زندگی کا لفظ اور بجائے رائی برابر نیکی کہا۔
Abū Saʿīd al-Khudrī (r.a) narrated that the Prophet (sa) said: ‘Those worthy of Paradise (ahl al-jannah) will enter Paradise and those destined for the Fire (ahl al-nār) will enter the Fire, whereupon Allāh the Exalted will say: “Remove those in whose hearts there is faith the weight of a mustard seed.” So, they will be taken out of it having been charred, and then will be immersed into the river of rain (al-ḥayā), or life (al-ḥayāh)’ – Mālik [one of the narrators] was in doubt [as to the actual word used] – ‘So, they will grow like the grain which grows by the riverbank. Do you not see that it becomes yellow and twisted?’ Wuhaib said: ‘ʿAmr narrated to us [the word] “life” (al-ḥayāh) and said, “good the weight of a mustard seed”.’
ہم سے محمد بن عبید اللہ نے بیان کیا، کہا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوامامہ بن سہل (بن حنیف) سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابو سعید خدری سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ اتنے میں میں نے (خواب میں) دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جاتے ہیں اور وہ گرتے پہنے ہیں۔ ان میں سے کوئی کر نہ تو چھاتی تک پہنچتا ہے اور کوئی اس سے نیچے تک اور عمر بن خطاب بھی میرے سامنے لائے گئے اور وہ بھی گر نہ پہنے تھے۔ جسے وہ (لمبائی کی وجہ سے) گھسیٹ رہے تھے۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپ نے فرمایا: دین۔
(تشریح)Abū Saʿīd al-Khudrī (r.a) narrated that the Messenger of Allāh (sa) said: ‘While I was sleeping, I saw [in a dream] people being presented to me wearing shirts, of which some reached down to their chests and others were even shorter. ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb (r.a) was presented to me wearing a shirt which he was dragging along [due to its length].’ They [the Companions (r.a)] said: ‘How do you interpret this, O Messenger of Allāh?’ He replied: ‘[I interpret it as alluding to] faith.’
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ مالك بن انس نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم بن عبد اللہ سے، سالم نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری شخص کے پاس سے گذرے اور وہ حیا کے متعلق اپنے بھائی کو نصیحت کر رہا تھا ( کہ اتنی حیا نہ کیا کرو) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو کیونکہ حیا بھی ایمان ہی میں سے ہے۔
(تشریح)ʿAbd Allāh ibn ʿUmar (r.a) narrated that the Messenger of Allāh (sa) passed by a man of the Anṣār who was exhorting his brother regarding modesty (ḥayāʾ). The Messenger of Allāh (sa) said: ‘Let him be, as modesty is part of faith.’
ہم سے عبد اللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم۔ کہ ہم سے ابو روح حرمی بن عمارہ نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ کہ میں نے اپنے باپ سے سنا۔ وہ حضرت ابن عمرؓ سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ یہ اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کا رسول ہے اور یہ کہ وہ نماز ادا کریں اور زکوۃ دیں۔ پس اگر وہ یہ کر لیں تو انہوں نے اپنے خونوں اور اپنے مالوں کو مجھ سے بچا لیا، سوائے اس کے کہ جہاں اسلام ضروری قرار دیتا ہے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔
(تشریح)Ibn ʿUmar (r.a) narrated that the Messenger of Allāh (sa) said: ‘I have been ordered to fight the people until they bear witness that there is none worthy of worship except Allāh and that Muḥammad is the Messenger of Allāh, observe Prayer, and pay the Zakāh. If they do so, they will have safeguarded their blood and their property from me, except as necessitated by Islām, and their ultimate accountability will be to Allāh.’
ہم سے احمد بن یونس اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا۔ ان دونوں نے کہا: ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابن شہاب نے ہمیں بلایا۔ ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ پھر پوچھا گیا: اس کے بعد کون سا عمل؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ پھر پوچھا گیا: اس کے بعد کون سا عمل؟ فرمایا: وہ حج ہے جس کے ساتھ نیکیاں ہوں۔
(تشریح)Abū Hurairah (r.a) narrated that the Messenger of Allāh (sa) was asked: ‘Which action is best?’ He answered: ‘Faith in Allāh and His Messenger.’ It was asked: ‘And after that?’ He answered: ‘Jihād in the cause of Allāh.’ It was asked: ‘And after that?’ He answered: ‘Pilgrimage that is accepted (ḥajj mabrūr).’
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ عامر بن سعد بن ابی وقاص نے ہم سے حضرت سعدؓ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ رسول اللہ ﷺ نے چند لوگوں کو کچھ مال دیا اور حضرت سعد بھی اس وقت بیٹھے ہوئے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے شخص کو چھوڑ دیا کہ جو مجھے اُن سے زیادہ پسند تھا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے فلاں کو کیوں چھوڑ دیا؟ بخدا میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: یا مسلم۔ (اس پر تھوڑی دیر خاموش رہا۔) پھر جو کچھ میں اس کے متعلق جانتا تھا، اُس نے مجھے مجبور کیا اور میں نے اپنی بات دہرائی اور کہا آپ نے فلاں سے کیوں اعراض کیا ہے؟ بخدا میں تو اسے مومن ہی سمجھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: یا مسلم۔ پھر جو کچھ میں اس کے متعلق جانتا تھا، اس نے مجھے مجبور کیا اور میں نے اتنی بات دہرائی اور رسول اللہ ﷺ نے وہی جواب دیا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: اے سعد! میں ایک شخص کو دیتا ہوں، مبادا کہ اللہ تعالیٰ اسے آگ میں نہ گرا دے، حالانکہ دوسرا شخص مجھے اس سے زیادہ پیارا ہوتا ہے۔ اس حدیث کو یونس اور صالح اور معمر اور زہری کے بھتیجے نے بھی زہری سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا۔
(تشریح)Saʿd ibn Abī Waqqāṣ (r.a) narrated that the Messenger of Allāh (sa) gave [gifts] to a group of men whilst Saʿd was seated nearby. He [Saʿd ibn Abī Waqqāṣ (r.a)] said: ‘But the Messenger of Allāh (sa) left out the man whom I admired most of all. So I said: “O Messenger of Allāh (sa)! Why did you leave out so-and-so? By Allāh, I certainly consider him a believer.” He replied: “Or a Muslim.” So I remained silent for a while but then found myself unable to hold back my opinion of him, so I repeated my question: “Why did you leave out so-and-so? By Allāh, I certainly consider him a believer.” He replied: “Or a Muslim.” So I remained silent for a while, but then found myself unable to hold back my opinion of him, so I repeated my question and the Messenger of Allāh (sa) repeated [his reply], and then said: “O Saʿd! I give to a man even though there is another man whom I hold dearer, fearing that Allāh may cast him face down into the fire [of hell]”.’