بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 22 hadith
اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابن وہب نے مجھے بتایا۔ یونس سے مروی ہے کہ نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے اُن کو خبر دی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اِعتکاف بیٹھتے تھے۔
اور جب آپؐ معتکف ہوتے تو مسجد سے اپنا سر نکالتے، مَیں اُسے دھوتی اور مَیں حائضہ ہوتی۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُقَیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی ﷺ رمضان کے آخری دہاکے میں اعتکاف بیٹھتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو وفات دی۔ پھر آپؐ کے بعد آپؐ کی ازواج معتکف ہوتی تھیں۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یزید بن عبداللہ بن ہاد سے، انہوں نے محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے، تیمی نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے درمیانی عشرے میں اِعتکاف بیٹھا کرتے تھے۔ آپؐ ایک سال (انہی دِنوں میں) معتکف ہوئے یہاں تک کہ جب اکیسویں رات ہوئی اور یہ وہ رات تھی جس کی صبح کو آپؐ اعتکاف سے نکلا کرتے تھے تو آپؐ نے فرمایا: جو میرے ساتھ معتکف تھا، اُسے چاہیے کہ آخری عشرے میں اِعتکاف بیٹھے اور آج رات مجھے لیلۃ القدر دِکھائی گئی اور پھر بھلا دی گئی اور میں نے دیکھا کہ اس کی صبح کو میں پانی اور کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔ تم آخری عشرے میں اس کی تلاش کرو اور ہر طاق رات میں اسے ڈھونڈو۔ اس رات مینہ برسا اور مسجد چھپر کی تھی۔ وہ ٹپکی اور رسول اللہ ﷺ کو میری آنکھوں نے دیکھا کہ اکیسویں کی صبح کو آپؐ کی پیشانی پر پانی اور کیچڑ کا نشان ہے۔
(تشریح)محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ ہشام (بن عروہ) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میرے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے مجھے خبر دی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ اپنا سر میری طرف جھکا دیتے جبکہ آپؐ مسجد میں گوشہ نشین ہوتے اور میں حائضہ ہونے کی حالت میں آپؐ کو کنگھی کرتی۔
قُتَیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ اور عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت کی کہ نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ اپنا سر { میری طرف } کر دیتے جبکہ آپؐ مسجد میں ہوتے اور میں آپؐ کے کنگھی کرتی اور جب آپؐ معتکف ہوتے تو بغیر حاجت گھر میں نہ آتے۔
(تشریح)محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے اسود سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ مجھ سے ہم کنار ہوتے، اس حالت میں کہ مَیں حائضہ ہوتی۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید (قطان) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ (عمری) سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا) کہ نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے مجھے خبر دی کہ حضرت عمرؓ نے نبی ﷺ سے پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ جاہلیت میں مَیں نے نذر مانی تھی کہ مسجد ِحرام میں ایک رات اعتکاف کروں گا۔ آپؐ نے فرمایا: اپنی نذر پوری کریں۔
(تشریح)ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا کہ یحيٰ (بن سعید انصاری) نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے عمر ہ سے اور عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: نبی ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھا کرتے تھے اور مَیں آپؐ کیلئے ایک چھولداری لگا دیتی۔ آپؐ صبح کی نماز پڑھ کر اُس میں داخل ہو جاتے۔ ایک دفعہ حضرت حفصہؓ نے حضرت عائشہؓ سے ایک چھولداری لگانے کی اجازت لی تو انہوں نے اُن کو اِجازت دے دی۔ چنانچہ حضرت حفصہؓ نے چھولداری لگا لی۔ جب حضرت زینب بنت جحشؓ نے دیکھا تو انہوں نے بھی ایک اور چھولداری لگا لی۔ جب نبی ﷺ صبح اُٹھے اور وہ چھولداریاں دیکھیں تو آپؐ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ آپؐ کو بتایا گیا (کہ آپؐ کی ازواج نے یہ خیمے لگائے ہیں) تو نبی ﷺ نے فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ فعل انہوں نے نیکی کی غرض سے کیا ہے؟ آپؐ نے اُس مہینے میں اعتکاف ہی چھوڑ دیا۔ پھر شوال کے دس دِنوں میں آپؐ معتکف ہوئے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید سے، یحيٰ نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے، عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے اعتکاف بیٹھنے کا اِرادہ فرمایا۔ جب آپؐ اُس جگہ گئے جہاں اعتکاف بیٹھنا تھا تو کیا دیکھتے ہیں، چند پردے لٹکے ہوئے ہیں۔ حضرت عائشہؓ کا پردہ اور حضرت حفصہؓ کا پردہ اور حضرت زینبؓ کا پردہ۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ نیکی کی غرض سے لگائے گئے ہیں۔ پھر آپؐ لَوٹ گئے اور معتکف نہیں ہوئے یہاں تک کہ شوال کے عشرے میں اعتکاف کیا۔
(تشریح)