بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 158 hadith
محمد (بن سلام بیکندی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابومعاویہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحق شیبانی سے، شیبانی نے شعبی سے، شعبی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک آدمی فوت ہو گیا، جس کی عیادت رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے۔ وہ رات کو فوت ہوا تو لوگوں نے اسے رات کو ہی دفن کر دیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں نے آپؐ کو خبر دی۔ آپؐ نے فرمایا: تمہیں کس نے روکا تھا کہ مجھے اطلاع دے دیتے۔ انہوں نے کہا: رات تھی اور اندھیرا تھا اس لیے ہم نے ناپسند کیا کہ آپؐ کو تکلیف دیں۔ آپؐ اس کی قبر پر آئے اور نماز (جنازہ) پڑھی۔
(تشریح)ابو معمر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) عبدالعزیز نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سے جس مسلمان کے تین بچے مر جائیں جنہیں ابھی نیکی بدی کی تمیز نہیں ہوئی تو ضرور اللہ تعالیٰ اپنی اس رحمت کے طفیل جو اُن کے لئے ہے، اس کو جنت میں داخل کرے گا۔
اور شریک نے ابن اصبہانی سے یوں روایت کی ہے۔ ابو صالح (ذکوان) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے یہ بھی کہا کہ جو نیکی و بدی کی تمیز کی عمر تک نہ پہنچے ہوں۔
علی (بن مدینی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سفیان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے زہری سے سنا کہ سعید بن مسیب سے مروی ہے۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جس مسلمان کے تین بچے مر جائیں تو وہ آگ میں داخل نہیں ہوگا، مگر قسم پورا کرنے کے لیے۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے یہ آیت پڑھی: اور تم (ظالموں) میں سے کوئی نہیں مگر وہ ضرور اُس (جہنم) میں اُترنے والا ہے۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ثابت نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ ایک عورت کے پاس سے گزرے جو قبر کے پاس (بیٹھی) رو رہی تھی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کو سپر بنا اور صبر کر۔
(تشریح)اسماعیل بن عبداللہ (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ایوب سختیانی سے، ایوب نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت امّ عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: جب رسول اللہ ﷺ کی لڑکی فوت ہوگئیں تو آپؐ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: اس کو تین یا پانچ بار پانی اور بیری کے پتوں سے نہلائو یا اس سے زیادہ بار اگر تم مناسب سمجھو اور آخری بار میں کافور ڈال دو یا فرمایا: کچھ کافور ڈال دو۔ جب تم فارغ ہو چکو تو مجھے اطلاع دو۔ سو جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپؐ کو اطلاع دی۔ آپؐ نے اپنا تہ بند ہمیں دیا اور فرمایا: یہ اس پر لپیٹ دو۔ یعنی آپؐ کے تہ بند کو۔
(تشریح)محمد (بن مثنیٰ) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبدالوھاب ثقفی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت امّ عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے اور ہم آپؐ کی لڑکی کو نہلا رہے تھے تو آپؐ نے فرمایا: اسے تین یا پانچ دفعہ یا اس سے زیادہ دفعہ پانی اور بیری کے پتوں سے نہلائو اور آخری دفعہ میں کافور ڈال دو اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دو۔ جب ہم فارغ ہوئیں تو آپؐ کو اطلاع دی۔ آپؐ نے ہماری طرف اپنا تہ بند پھینک دیا اور فرمایا: یہ اس پر لپیٹ دو۔ ایوب کہتے تھے کہ حفصہ نے بھی محمد (بن سیرین) کی روایت کی طرح مجھ سے روایت کی اور حفصہ کی روایت میں یہ الفاظ تھے کہ اسے طاق بار نہلائو اور اس میں یہ بھی تھا : تین یا پانچ یا سات بار اور اس میں یہ بھی تھا کہ آپؐ نے فرمایا کہ اس کے دا ہنی اطراف اور وضو کے اعضاء پہلے دھو اور اس میں یہ بھی تھا کہ حضرت امّ عطیہؓ نے کہا: ہم نے اسے کنگھی کر کے اس کی تین لٹیں کر دیں۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) اسماعیل بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) خالد (حذائ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حفصہ بنت سیرین سے، حفصہ نے حضرت امّ عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی کو غسل دینے سے متعلق فرمایا۔ اس کی دا ہنی طرفوں اور اس کے وضو کرنے کی جگہوں سے شروع کرو۔
(تشریح)یحيٰ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے خالد حذاء سے، خالد نے حفصہ بنت سیرین سے، حفصہ نے حضرت امّ عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: جب ہم نبی ﷺ کی بیٹی کو نہلانے لگیں تو آپؐ نے ہمیں جبکہ ابھی ہم نہلا رہی تھیں، فرمایا: اس کے داہنے حصوں اور وضو کی جگہوں سے پہلے شروع کرو۔
(تشریح)عبدالرحمن بن حماد نے ہم سے بیان کیا، کہا: (عبداللہ) بن عون نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت ام عطیہؓ سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ کی بیٹی فوت ہوئیں تو آپؐ نے ہم سے فرمایا: اسے تین یا پانچ بار نہلائو یا اس سے زیادہ اگر تم مناسب سمجھو۔ جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دو۔ جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپؐ کو اطلاع دی تو آپؐ نے اپنا تہ بند اپنی کمر سے اتار کر دیا اور فرمایا: اسے اس پر لپیٹ دو۔
(تشریح)