بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 7 of 27 hadith
ابو ولید (طیالسی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: زائدہ (بن قدامہ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: زیاد بن علاقہ نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کو کہتے سنا کہ جس دن حضرت ابراہیمؓ فوت ہوئے، سورج گرہن ہوا۔ لوگوں نے کہا: حضرت ابراہیمؓ کی موت کی وجہ سے (سورج) گرہن ہوا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے دو نشان ہیں۔ کسی کے مرنے اور جینے سے یہ گرہن نہیں ہوا کرتے۔ سو جب تم گرہن دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو اور نماز پڑھو یہاں تک کہ (گرہن) دور ہو جائے۔
(تشریح)اور ابو اسامہ نے کہا: ہشام (بن عروہ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: فاطمہ بنت منذر (ان کی بی بی) نے حضرت اسماءؓ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ وہ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ (نماز سے) فارغ ہوئے اور سورج روشن ہو گیا تھا۔ آپؐ (لوگوں سے) مخاطب ہوئے اور جس تعریف کا وہ سزاوار ہے ویسی اللہ کی تعریف کی پھر فرمایا: اَمَّا بَعْدُ۔
(تشریح)محمود (بن غیلان) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سعید بن عامر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے یونس سے، یونس نے حسن (بصری) سے، انہوں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن ہوا اور آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں۔
ابو معمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہمیں یونس نے بتایا۔ حسن (بصری) سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابو بکرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن ہوا۔ آپؐ چادر گھسیٹتے ہوئے باہر آئے۔ مسجد میں پہنچے اور لوگ بھی ادھر ادھر سے آپؐ کے پاس جمع ہو گئے۔ آپؐ نے ان کو دو رکعت نماز پڑھائی۔ اتنے میں سورج روشن ہو گیا۔ آپؐ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے دو نشان ہیں اور وہ کسی کی موت کی وجہ سے نہیں گہناتے۔ سو جب یہ ہو تو نماز پڑھو، دعائیں کرو۔ یہاں تک کہ وہ حالت جو تم پر طاری ہے دور ہو جائے۔ یہ اس لئے فرمایا تھا کہ نبی ﷺ کا ایک بیٹا فوت ہو گیا تھا جسے ابراہیمؓ کہتے تھے۔ لوگ کہنے لگے: ان کی (وفات کی) وجہ سے (گرہن ہوا ہے۔)
(تشریح)محمود (بن غیلان) نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابواحمد (محمد بن عبداللہ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ سے، یحيٰ نے عمرہ سے، عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے انہیں سورج گرہن کے وقت چار رکوع دو سجدوں کے ساتھ (یعنی دو رکعت) نماز پڑھائی۔ پہلی رکعت زیادہ لمبی تھی۔
(تشریح)محمد بن مہران نے ہم سے بیان کیا، کہا: ولید (بن مسلم) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: (عبدالرحمن) بن نمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابنِ شہاب سے سنا۔ انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ (وہ کہتی تھیں) کہ نبی ﷺ نے خسوف کی نماز میں قرأت بلند آواز سے کی۔ جب آپؐ قرأت سے فارغ ہوئے تو آپؐ نے اللہ اکبر کہا اور رکوع کیا۔ اور جب رکوع سے (سر) اٹھایا تو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہا۔ پھر آپؐ نے دوبارہ قرأت شروع کر دی۔ کسوف کی نماز میں آپؐ نے دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کئے۔
اور اَوزاعی وغیرہ نے کہا: میں نے زہری سے سنا۔ وہ عروہ سے، عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا۔ آپؐ نے منادی کو بھیجا (کہ لوگوں میں اعلان کرے) نماز باجماعت ہوگی۔ پھر آپؐ آگے بڑھے اور دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کئے۔ (ولید بن مسلم نے کہا:) عبد الرحمن بن نمر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے ابن شہاب سے ایسے ہی سنا۔ (ابن شہاب) زہری کہتے تھے: میں نے (عروہ سے) کہا: تمہارے بھائی حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے کیا کیا؟ انہوں نے جب مدینہ میں نماز پڑھائی تو صبح کی طرح صرف دو رکعتیں ہی پڑھیں۔ (عروہ نے) کہا: ہاں وہ سنت سے چوک گئے۔ (عبدالرحمن بن نمر کی طرح) سفیان بن حسین اور سلیمان بن کثیر نے بھی بلند آواز قرأت کی بابت زہری سے روایت کی۔
(تشریح)