بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 187 hadith
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ابن ابی عدی نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن عون سے، ابن عون نے مجاہد سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھے کہ لوگوں نے دجال کا ذکر کیا۔ ایک شخص نے کہا: اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا اور حضرت ابن عباسؓ نے کہا: میں نے نہیں سنا کہ آپؐ نے یہ فرمایا۔ لیکن آپؐ نے یہ فرمایا کہ جو ابراہیمؑ ہیں تو تم اپنے ساتھی (آنحضرت ﷺ) کو دیکھ لو اور جو موسیٰؑ ہیں تو وہ گندم گوں گھنگھریالے بالوں والے شخص ہیں جو سرخ اونٹ پر سوار ہو جسے ایک کھجور کی چھال کی نکیل پڑی ہو ان کی شکل میرے ذہن میں ایسی ہے جیسے میں ان کو ابھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس وادی میں لبیک کہتے ہوئے اترے ہیں۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے کہا مجھے سالم بن عبداللہ نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کہا میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: جس نے سر کے بالوں کو گوندا ہو تو وہ منڈوالے اور جس طرح احرام میں بالوں کو جما لیتے ہیں ویسے نہ جمایا کرو اور حضرت ابن عمرؓ کہا کرتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ کو سر کے بال جمائے ہوئے دیکھا۔
حبان بن موسیٰ اور احمد بن محمد نے مجھ سے بیان کیا۔ ان دونوں نے کہا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہم سے بیان کیا، یونس نے ہمیں خبر دی، یونس نے زہری سے، زہری نے سالم سے، سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپؐ سر کے بال جما کر یوں لبیک کہہ رہے تھے۔ یعنی میں حاضر ہوں، اے میرے اللہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، ہر خوبی اور ہر ایک نعمت تیری ہی ہے اور بادشاہی بھی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ ان کلمات سے زیادہ نہیں بڑھاتے تھے۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے مجھ سے بیان کیا۔ کہا مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے، حضرت عبداللہؓ نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی وہ کہتی تھیں۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ انہوں نے عمرہ کرکے احرام کھول ڈالا ہے اور آپؐ نے اپنا عمرہ کرکے احرام نہیں کھولا؟ آپؐ نے فرمایا: میں نے اپنے سر کے بالوں کو جما لیا تھا اور اپنی قربانی کے جانوروں کے گلے میں ہار ڈالے تھے تو میں اس وقت تک احرام نہیں کھولوں گا جب تک کہ نحر نہ کر لوں۔
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا کہ ابن شہاب نے ہم سے بیان کیا، ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے، عبید اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ ان امور میں جن کے متعلق آپؐ کو حکم نہ دیا جاتا اہل کتاب سے موافقت کرنے کو پسند کرتے تھے اور اہل کتاب اپنے بالوں کو لٹکایا کرتے تھے اور مشرک اپنے سروں میں مانگ نکالا کرتے تھے اس لئے نبی ﷺ نے بھی اپنی پشیمانی کے بالوں کو کھلا رہنے دیا پھر اس کے بعد آپؐ نے مانگ نکالی۔
ابوالولید اور عبداللہ بن رجاء نے ہم سے بیان کیا ان دونوں نے کہا کہ ہمیں شعبہ نے بتایا، شعبہ نے حکم (بن عتیبہ) سے، حکم نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے اسود سے، اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ فرماتی تھیں: گویا میں اب بھی نبی ﷺ کی مانگوں میں جب کہ آپؐ احرام کی حالت میں ہوتے خوشبو کی چمک کو دیکھ رہی ہوں۔ عبداللہ نے مفارق (جمع) کی بجائے مفرق (واحد) کہا ہے یعنی نبی ﷺ کی مانگ۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ فضل بن عنبسہ نے ہمیں بتایا کہ ہشیم (بن بشیر) نے ہمیں خبر دی کہ ابوبشر نے ہمیں بتایا۔ اور قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبشر سے۔ ابوبشر نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ بنت حارثؓ کے پاس رہا اور رسول اللہ ﷺ بھی ان کی رات کی باری میں انہی کے پاس تھے۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔ میں (بھی جاکر) آپؐ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا۔ کہتے تھے۔ آپؐ نے میرے پیشانی کے بال پکڑ کر مجھے اپنی دائیں طرف کیا۔ عمرو بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ہشیم نے ہمیں بتایا کہ ابوبشر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ہمیں یہی کہا کہ میری پیشانی کے بالوں کو یا میرے سر کو پکڑ کر۔
محمد (بن سلام) نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مخلد (بن یزید) نے مجھے بتایا۔ مخلد نے کہا کہ ابن جریج نے مجھے بتایا۔ ابن جریج نے کہا مجھے عبیداللہ بن حفص نے بتایا کہ عمر بن نافع نے انہیں بتایا۔ عمر نے نافع سے جو حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) کے غلام تھے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہتے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ قزع سے منع فرماتے تھے۔ عبیداللہ کہتے تھے۔ میں نے پوچھا: قزع کیا ہوتا ہے؟ تو عبیداللہ نے ہمیں اشارہ کرکے بتایا، کہا: جب بچے کا سر منڈوایا جائے اور کچھ ادھر بال چھوڑے جائیں کچھ اِدھر اور کچھ اُدھر۔ عبیداللہ نے ہمیں اپنی پیشانی کی طرف اور اپنے سر کے دونوں طرف اشارہ کرکے بتایا۔ عبیداللہ سے پوچھا گیا: لڑکی اور لڑکے کے متعلق؟ انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ نافع نے اسی طرح بچے کا نام لیا۔ عبیداللہ کہتے تھے: عمر بن نافع سے میں نے دوبارہ پوچھا تو انہوں نے کہا: لڑکے کی کنپٹیاں اور گدی کے بال رکھنے میں تو کوئی حرج نہیں مگر قزع یہ ہے کہ اس کی پیشانی پر بال چھوڑے جائیں اور باقی سر پر بال نہ ہوں اور اسی طرح سر کی اِس جانب اور اُس جانب۔
مسلم بن ابراہیم نے ہمیں بتایا کہ عبداللہ بن مثنیٰ بن عبداللہ بن انس بن مالک نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن دینار نے ہمیں بتایا۔ عبداللہ نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے قزع سے منع فرمایا۔
احمد بن محمد (مروزی) نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ کہ یحيٰ بن سعید (انصاری) نے ہمیں خبر دی کہ عبدالرحمٰن بن قاسم نے ہمیں بتایا۔ عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی، فرماتی تھیں: احرام باندھنے کے لئے میں نے نبی ﷺ کو اپنے ہاتھ سے خوشبو لگائی اور میں نے آپؐ کو منیٰ میں خوشبو لگائی پیشتر اس کے کہ آپؐ طواف زیارت کے لئے وہاں سے چلتے۔