بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) خارجہ بن زید بن ثابت نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: جب ہم مصحف لکھ رہے تھے تو مجھے سورۂ احزاب کی ایک آیت نہ ملی جو میں رسول اللہ ﷺ کو پڑھتے سنا کرتا تھا۔ ہم نے اس کی تلاش کی اور وہ خزیمہ بن ثابت انصاریؓ کے پاس ملی (وہ یہ ہے:) ان مومنوں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اس وعدہ کو جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا، سچا کردیا۔ پس بعض تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنی نیت کو پورا کردیا (یعنی لڑتے لڑتے مارے گئے) اور اُن میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو ابھی انتظار کر رہے ہیں۔ چنانچہ ہم نے اس سورۃ میں جہاں اس کا موقع تھا مصحف میں داخل کردیا۔
ابوالولید (طیالسی) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ عدی بن ثابت سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن یزید سے سنا۔ وہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ انہوں نے کہا: جب نبی ﷺ اُحد کی طرف نکلے تو اُن لوگوں میں سے جو آپؐ کے ساتھ جنگ کے لئے نکلے تھے کچھ لوگ واپس آگئے اور نبی ﷺ کے صحابہؓ دو گروہ تھے۔ ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم ان سے لڑیں گے اور ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم ان سے نہ لڑیں۔ چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی: تمہیں کیا ہے کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو بحالیکہ اللہ نے ان اعمال کی وجہ سے جو انہوں نے کئے، انہیں وہیں لوٹا دیا جہاں وہ تھے۔ اور آپؐ نے فرمایا: یہ مدینہ طیبہ ہے، گناہوں کو اسی طرح نکال کر پھینک دیتا ہے جیسے آگ چاندی کی میل۔
(تشریح)محمد بن یوسف نے ہمیں بتایا کہ ابن عیینہ نے ہم سے بیان کیا۔ ابن عیینہ نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے حضرت جابر (بن عبداللہ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: یہ آیت ہمارے متعلق اُتری ہے۔ یعنی جب تم میں سے دو گروہ کمزوری دکھانے لگے تھے - بنی سلمہ اور بنی حارثہ سے متعلق۔ اور مجھے پسند نہیں کہ وہ نہ اُترتی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اللہ اُن کا حامی (اور مدد گار) ہے۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہمیں بتایا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو (بن دینار) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت جابر (بن عبداللہ انصاریؓ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: جابر! کیا تم نے نکاح کر لیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے کہا: کنواری نہیں بیوہ سے۔ آپؐ نے فرمایا: کسی دوشیزہ سے کیوں نہ کیا کہ وہ تم سے کھیلتی؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے باپ جنگ اُحد کے دن شہید ہو گئے تھے اور وہ نو بیٹیاں چھوڑ گئے ہیں جو میری نو بہنیں ہیں۔ میں نے ناپسند کیا کہ ان کے ساتھ ایک اُنہی جیسی نادان کم عمر لڑکی اکٹھی کر دوں اور چاہا ایک ایسی عورت سے شادی کروں جو اُن کی کنگھی کرے اور تربیت کرے۔ آپؐ نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا۔
احمد بن ابوسُریج نے مجھ سے بیان کیا کہ عبیداللہ بن موسیٰ نے ہمیں خبر دی کہ شیبان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے فراس (بن یحيٰ) سے، فراس نے (عامر) شعبی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت جابر بن عبداللہ (انصاری) رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کے باپ اُحد کے دن شہید ہوگئے اور اپنے ذمے قرضہ چھوڑ گئے اور چھ بیٹیاں بھی چھوڑ گئے جب کھجوروں کی کٹائی کا وقت آگیا، کہتے تھے: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا، میں نے کہا: آپؐ جانتے ہیں کہ میرے والد اُحد کے دن شہید ہوگئے اور بہت قرضہ چھوڑ گئے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ قرض خواہ آپؐ سے ملیں۔ آپؐ نے فرمایا: جاؤ ہر قسم کی کھجوروں کے الگ الگ ڈھیر لگاؤ۔ میں نے ایسا ہی کیا پھر آپؐ کو بلا بھیجا۔ جب قرض خواہوں نے آپؐ کو دیکھا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ اس وقت میرے متعلق اور بھی بھڑک اُٹھے ہیں جب آپؐ نے دیکھا جو کچھ وہ کر رہے تھے، آپؐ نے جو سب سے بڑا ڈھیر تھا، اس کے گرد تین چکر لگائے۔ پھر اس کے قریب بیٹھ گئے۔ آپؐ نے فرمایا: اپنے ساتھیوں کو بلا لو۔ آپؐ اُن کو ماپ ماپ کر دیتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے میرے والد کی طرف سے ان کی امانت ادا کردی اور میں اس بات سے خوش تھا کہ اللہ میرے والد کی امانت ادا کردے اور میں اپنی بہنوں کے پاس ایک کھجور بھی لے کر نہ لوٹوں۔ مگر اللہ نے وہ ڈھیر سالم کے سالم بچادیے اور یہ حالت تھی کہ میں اس ڈھیر کو جس کے پاس نبی ﷺ بیٹھے تھے، دیکھ رہا تھا جیسے اس سے ایک کھجور بھی کم نہیں ہوئی۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ (سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف) سے، انہوں نے ان کے دادا (ابراہیم) سے، وہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اُحد کے دن دیکھا کہ آپؐ کے ساتھ دو شخص ہیں جو آپؐ کی مدافعت کر رہے ہیں، وہ سفید کپڑے پہنے نہایت سختی سے لڑ رہے تھے، میں نے اُن کو نہ اس سے پہلے دیکھا اور نہ اس کے بعد۔
عبداللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ مروان بن معاویہ نے ہمیں بتایا۔ ہاشم بن ہاشم سعدی نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے سعید بن مسیب سے سنا، کہتے تھے: میں نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ نے جنگ اُحد کے دن اپنے ترکش سے تیر نکال کر میرے لئے بکھیر دیئے اور آپؐ نے فرمایا: تیر چلاؤ تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔
مسدد (بن مسرہد) نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید (انصاری) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے سعید بن مسیب سے سنا، کہتے تھے: میں نے حضرت سعد (بن ابی وقاصؓ) کو یہ کہتے سنا کہ نبی ﷺ نے جنگ اُحد کے دن مجھ سے فرمایا: میرے ماں باپ تجھ پر قربان۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن سعید انصاری) سے، یحيٰ نے (سعید) بن مسیب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ اُحد کے دن میرے لئے اپنے ماں باپ دونوں کو اکٹھا کیا۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ آپؐ نے جب سعدؓ لڑ رہے تھے یہ فرمایا: میرے ماں باپ تجھ پر قربان۔
ابو نعیم (فضل بن دکین) نے ہم سے بیان کیا کہ مسعر (بن کدام) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعد (بن ابراہیم) سے، سعد نے (عبداللہ) بن شداد سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: میں نے نبی ﷺ سے نہیں سنا کہ آپؐ نے کسی کے لئے یہ فرمایا ہو کہ میرے ماں باپ تیرے قربان، سوا سعد (بن ابی وقاص) کے۔