بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
عبداللہ بن ابی شیبہ عبسی نے مجھ سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن ادریس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل بن ابی خالد سے, اسماعیل نے قیس (بن ابی حازم) سے, قیس نے حضرت جریرؓ (بن عبداللہ بجلی) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں یمن میں (سمندر کے قریب) تھا تو میں اہل یمن میں سے دو شخصوں یعنی ذوکلاع اور ذوعمرو سے ملا۔ رسول اللہ ﷺ کے حالات مَیں ان سے بیان کرنے لگا تو ذوعمرو سن کر اُن سے کہنے لگا: اگر یہ صحیح ہے جو تو اپنے ساتھی کی نسبت بیان کرتا ہے تو اُن کی وفات پر تین دن گزر چکے ہیں اور وہ دونوں میرے ساتھ آئے۔ جب ہم نے کچھ راستے کو طَے کیا تو ایک قافلہ دور سے ہمیں دکھائی دیا جو مدینہ کی طرف سے آرہا تھا۔ ہم نے قافلہ والوں سے پوچھا۔ وہ کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ فوت ہوگئے ہیں اور حضرت ابوبکرؓ خلیفہ مقرر ہوئے ہیں اور لوگ اچھے بھلے ہیں۔ یہ سن کر ذوالکلاع اور ذوعمرو دونوں نے کہا: تم اپنے ساتھی (حضرت ابوبکرؓ) کو خبر دو کہ ہم یہاں تک آگئے تھے۔ اگر اللہ نے چاہا تو شاید ہم پھر آئیں گے اور وہ یمن کو لَوٹ گئے۔ میں نے حضرت ابوبکرؓ کو اُن کا واقعہ بتایا۔ انہوں نے کہا: تم اُن کو لے کیوں نہ آئے؟ اس کے بعد جب کچھ مدت گزری, ذوعمرو نے مجھے کہا: جریرؓ مجھ پر تمہارا ایک احسان ہے اور میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں تم یعنی عرب کے لوگ ہمیشہ اچھے رہو گے جب تک کہ تم اس پر عمل کرو گے۔ یعنی اگر کوئی امیر فوت ہو تو تم دوسرے کو امیر بناؤ گے اور جب تلوار سے امارت ہوگی تو ایسے بادشاہ ہوں گے جو بادشاہوں کی طرح غصہ کا اظہار کریں گے اور بادشاہوں کی طرح خوش ہوں گے۔
(تشریح)اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا, کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے وہب بن کیسان سے, وہب نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے سمندر کے کنارے کی طرف ایک لشکر بھیجا اور اُن پر حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کو امیر مقرر فرمایا اور وہ تین سو تھے۔ ہم نکلے اور ابھی کچھ راستہ طے کیا تھا کہ زادِ راہ ختم ہوگیا۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے حکم دیا کہ سب توشے اکٹھے کئے جائیں۔ چنانچہ وہ اکٹھے کئے گئے تو وہ کُل دو تھیلے کھجوروں کے بنے۔ حضرت ابوعبیدہؓ ہمیں ہر روز تھوڑا تھوڑا کھانے کے لئے دیتے رہے یہاں تک کہ وہ بھی ختم ہوگیا۔ ہمیں ایک ایک کھجور ملتی تھی۔ میں نے حضرت جابرؓ سے پوچھا: ایک کھجور تمہاری کیا بھوک دور کرتی ہوگی۔ انہوں نے کہا: جب وہ بھی نہ رہی تو ہم نے اس وقت ایک کھجور کی عدم موجودگی محسوس کی۔ ہم سمندر پر پہنچے۔ کیا دیکھتے ہیں بڑے ٹیلے کی طرح ایک مچھلی ہے۔ لوگ اُس سے اٹھارہ راتیں کھاتے رہے۔ پھر حضرت ابوعبیدہؓ نے اس کی پسلیوں کے متعلق حکم دیا تو اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں اور اونٹنی کے بارے میں کہا تو اُس پر کجاوہ رکھا گیا۔ وہ اُن دونوں پسلیوں کے نیچے سے گزر گئی اور ان کو چھؤا تک نہیں۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عمرو بن دینار سے جو ہم نے یاد رکھا ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا۔ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بھیجا۔ ہم تین سو سوار تھے۔ ہمارے امیر حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ تھے۔ قریش کے تجارتی قافلہ کی نگرانی میں بیٹھ گئے۔ سمندر کے کنارے ہم آدھا مہینہ ٹھہرے رہے اور ہمیں سخت بھوک لگی۔ یہاں تک کہ ہم نے پتے بھی کھائے۔ اس لئے اس فوج کا نام جیش الخبط رکھا گیا۔ اس اثناء میں سمندر نے ہمارے لئے ایک جانور جس کو عنبر کہتے ہیں, پھینک دیا۔ ہم اس کا گوشت آدھا مہینہ کھاتے رہے اور اس کی چربی بدن پر ملا کرتے۔ یہاں تک کہ ہمارے جسم پھر ویسے کے ویسے تازہ ہوگئے (جیسے پہلے تھے۔) حضرت ابوعبیدہؓ نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی لی اور اس کو کھڑا کیا اور سب سے لمبا شخص جو اُن کے ساتھ تھا اُس کو لیا۔ اور ایک بار سفیان (بن عیینہ) نے اپنی روایت میں یوں کہا کہ انہوں نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی لی، اس کو کھڑا کیا۔ پھر ایک آدمی بمع اونٹ کے لیا جو اُس کے نیچے سے گزر گیا۔ حضرت جابرؓ نے یہ بھی کہا کہ لشکر میں ایک شخص تھا جس نے (لوگوں کے کھانے کے لئے تین دن) تین تین اونٹ ذبح کئے۔ پھر حضرت ابوعبیدہؓ نے اس کو روک دیا؛ اور عمرو (بن دینار) کہتے تھے: ابوصالح (ذکوان) نے ہمیں بتایا کہ قیس بن سعد نے اپنے باپ سے کہا: میں بھی اسی فوج میں تھا اور ان کو بھوک لگی تو حضرت ابوعبیدہؓ نے کہا: اونٹ ذبح کرلو۔ میں نے اونٹ ذبح کرلیا۔ کہتے تھے: پھر اُن کو بھوک لگی۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے کہا: اونٹ ذبح کر لو۔ میں نے اونٹ ذبح کر لیا۔ کہتے تھے: پھر اُن کو بھوک لگی۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے کہا: اونٹ ذبح کر لو۔ میں نے اونٹ ذبح کر لیا۔ قیس کہتے تھے: پھر اُن کو بھوک لگی۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے کہا: اونٹ ذبح کرلو۔ کہتے تھے: پھر مجھے روک دیا گیا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عمرو (بن دینار) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ جیش الخبط کے ساتھ حملہ میں ہم نکلے اور حضرت ابوعبیدہؓ کو امیر بنایا گیا تھا۔ ہمیں سخت بھوک لگی اور سمندر نے ایک مردہ مچھلی پھینک دی۔ ہم نے ایسی مچھلی کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اسے عنبر کہتے ہیں۔ ہم اس کا گوشت آدھا مہینہ کھاتے رہے۔ پھر حضرت ابوعبیدہؓ نے اس کی ہڈیوں میں سے ایک ہڈی لی اور سوار اس کے نیچے سے گزر گیا۔ (ابن جریج نے کہا:) ابوزبیر نے مجھے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے حضرت جابرؓ سے سنا۔ کہتے تھے: حضرت ابوعبیدہؓ نے کہا: کھاؤ۔ جب ہم مدینہ آئے, نبی ﷺ سے ہم نے اس کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: جو رزق اللہ نے نکالا ہو, اسے تم کھاؤ۔ ہمیں بھی کھلاؤ اگر تمہارے ساتھ کچھ ہو۔ ان میں سے کسی نے آپؐ کو ایک حصہ دیا اور آپؐ نے اس کو کھایا۔
(تشریح)سلیمان بن داؤد ابوربیع نے ہم سے بیان کیا کہ فلیح (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زہری نے حُمَید بن عبدالرحمٰن سے، حُمَید نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک جماعت کے ساتھ اس حج میں قربانی کے دن بھیجا، جس میں نبیﷺ نے اُن کو امیر مقرر فرمایا تھا جو حجۃ الوداع سے پہلے تھا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کر دیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہیں آئے گا اور نہ کوئی برہنہ بیت اللہ کا طواف کرے گا۔
عبداللہ بن رجاء نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے, ابواسحاق نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: سب سے آخری سورۃ جو پوری نازل ہوئی, سورۃ برأت ہے؛ حالانکہ سب سے آخری سورت جو نازل ہوئی سورۃ النساء کا آخر ہے: تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں۔ کہو! اللہ تمہیں کلالہ کی بابت فتویٰ دیتا ہے۔
(تشریح)ابو نعیم (فضل بن دکین) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو صخرہ (جامع بن شداد) سے, انہوں نے صفوان بن محرز مازنی سے, صفوان نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: بنو تمیم کے کچھ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے۔ آپؐ نے فرمایا: بنی تمیم بشارت قبول کرو۔ وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! آپؐ نے ہمیں بشارت تو دی ہے۔ ہمیں کچھ دیں بھی۔ اس بات کا اثر آپؐ کے چہرے میں دیکھا گیا۔ پھر یمن کے کچھ لوگ آئے۔ آپؐ نے فرمایا: تم ہی بشارت قبول کرلو جبکہ بنو تمیم نے وہ قبول نہیں کی۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے آپؐ کی بشارت قبول کر لی۔
(تشریح)زُہَیر بن حرب نے مجھ سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمارہ بن قعقاع سے، انہوں نے ابوزرعہ سے، ابوزرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: تین باتوں کے بعد میں بنو تمیم سے ہمیشہ محبت کرتا رہا۔ جنہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ ان کے متعلق فرماتے تھے: وہ دجال کے مقابلہ میں میری تمام امت سے زیادہ مضبوط ہوں گے اور ان میں سے ایک قیدی عورت حضرت عائشہؓ کے پاس تھی۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو آزاد کر دو۔ کیونکہ وہ حضرت اسماعیلؑ کی اولاد سے ہے اور اُن کے صدقات آئے تو آپؐ نے فرمایا: یہ میری قوم کے صدقات ہیں۔
ابراہیم بن موسیٰ نے مجھے بتایا کہ ہشام بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج نے ان کو بتایا کہ ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے ان کو خبر دی کہ بنی تمیم کا ایک قافلہ نبی ﷺ کے پاس آیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: قعقاع بن معبد بن زرارہؓ کو ان کا امیر مقرر کر دیں۔ حضرت عمرؓ کہنے لگے: نہیں، بلکہ اقرع بن حابسؓ کو۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: میری مخالفت ہی چاہتے ہو۔ حضرت عمرؓ نے کہا: آپ کی مخالفت کا ارادہ نہیں۔ دونوں میں تکرار ہوگئی، یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہوئیں۔ پھر اس واقعہ کے متعلق یہ وحی نازل ہوئی: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے بڑھ چڑھ کر باتیں نہ کیا کرو۔ ……
(تشریح)اسحاق (بن راہویہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوعامر عقدی نے ہمیں خبر دی کہ قرۃ (بن خالد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوجمرہ سے روایت کی کہ (وہ کہتے تھے:) میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میرے پاس ایک مٹکا ہے، جس میں نبیذ تیار کی جاتی ہے۔ میٹھی ہوتی ہے، میں اسے پیتا ہوں۔ کبھی زیادہ پی لیتا ہوں اور لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہوں اور دیر تک بیٹھتا ہوں۔ مجھے ڈر رہتا ہے کہ کسی وقت میری فضیحت نہ ہو۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: عبدالقیس کے نمائندے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: آنے والوں کی آمد خوشی خوشی ہو, نہ کبھی وہ رسوا ہوں اور نہ کبھی پشیمان۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے اور آپؐ کے درمیان مضر کے مشرک ہیں اور ہم آپؐ تک نہیں پہنچ سکتے مگر حرمت کے مہینوں میں ہی۔ اس لئے آپؐ ہمیں مختصر احکام بتائیں کہ اگر ہم ان پر عمل کریں جنت میں داخل ہو جائیں اور جو ہم سے پیچھے ہیں انہیں ان پر عمل کرنے کے لئے دعوت دیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں تم کو چار باتوں پر عمل کرنے کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے تم کو روکتا ہوں۔ اللہ پر ایمان لانا, تم جانتے ہو اللہ پر ایمان لانا کیا ہے۔ یہ اقرار کرنا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور نماز سنوار کر ادا کرنا اور زکوٰۃ دینا اور ماہِ رمضان میں روزے رکھنا؛ اور یہ کہ تم غنیمت کے مالوں سے پانچواں حصہ ادا کرو اور تم کو چار باتوں سے روکتا ہوں: اس شراب سے جو کدو کے تونبہ اور کریدی ہوئی لکڑی کے برتن اور سبز لاکھی مرتبان اور رال کے روغنی برتن میں تیار کی جاتی ہے۔