بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا۔ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو جمرہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباسؓ سے سنا۔ کہتے تھے: عبدالقیس کے نمائندے نبی ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارا یہ قبیلہ ربیعہ کی ایک شاخ ہے اور ہمارے اور آپؐ کے درمیان مضر کے کفار روک بن گئے ہیں۔ ہم آپؐ کے پاس (محفوظ رہتے ہوئے) نہیں پہنچ سکتے۔ مگر ماہِ حرام ہی میں؛ تو آپؐ ہمیں چند ایسی باتوں کا حکم دیں کہ جن پر ہم عمل کریں اور ان پر عمل کرنے کے لئے ان کو بھی دعوت دیں جو ہمارے پیچھے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں تم کو چار باتیں کرنے کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں: اللہ پر ایمان لانا یعنی یہ اقرار کرنا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (یہ کہہ کر) آپؐ نے ایک انگلی بند کی اور نماز سنوار کر ادا کرنا اور زکوٰۃ دینا اور یہ کہ تم اللہ کے لئے ان مالوں کا پانچواں حصہ ادا کرنا جو تم غنیمت میں حاصل کرو۔ اور تم کو کدو کے تونبے اور کریدی ہوئی لکڑی کے برتن اور سبز لاکھی مرتبان اور لک کے روغنی برتن سے منع کرتا ہوں۔
اور میں نے ابو رجاء سے سنا وہ کہتے تھے: جس زمانہ میں نبی ﷺ مبعوث ہوئے، میں اس وقت لڑکا ہی تھا۔ اپنے گھر والوں کے اونٹ چرایا کرتا تھا۔ جب ہم نے آپؐ کے ظاہر ہونے کی خبر سنی، ہم بھاگ کر آگ کی طرف چلے گئے یعنی مسیلمہ کذاب کی طرف۔
(تشریح)یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن وہب نے ہمیں بتایا کہ عمرو (بن حارث) نے مجھے خبر دی۔ اور بکر بن مضر نے یوں کہا کہ عمرو بن حارث سے روایت ہے, عمرو بن حارث نے بکیر سے روایت کی کہ کریب نے جو کہ حضرت ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام تھے ان سے بیان کیا کہ حضرت ابن عباسؓ، حضرت عبدالرحمٰنؓ بن ازہر اور حضرت مِسوَر بن مخرمہؓ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک آدمی بھیجا۔ انہوں نے کہا: ہم سب کی طرف سے ان کو السلام علیکم کہو اور ان سے ان دو رکعتوں کی بابت پوچھو جو عصر کے بعد (نبی ﷺ نے پڑھی) ہیں۔ نیز (اُن سے پوچھنا کہ) ہمیں بتایا گیا ہے کہ آپؐ یہ رکعتیں پڑھا کرتی ہیں حالانکہ ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے ان سے منع فرمایا ہے اور حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے کہ میں تو حضرت عمرؓ کے ساتھ مل کر لوگوں کو مار کر ان دو رکعتوں سے روکا کرتا تھا۔ کریب کہتے تھے کہ میں حضرت عائشہؓ کے پاس اندر گیا اور جو پیغام دے کر انہوں نے مجھے بھیجا تھا وہ میں نے ان کو پہنچایا۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: امّ سلمہؓ سے پوچھو۔ میں نے ان لوگوں کو بتایا۔ تو انہوں نے مجھے حضرت امّ سلمہؓ کے پاس ویسا ہی پیغام دے کر بھیجا جو پیغام دے کر مجھے حضرت عائشہؓ کے پاس بھیجا تھا۔ حضرت امّ سلمہؓ نے سن کر یہ کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا تھا۔ آپؐ ان دو رکعتوں سے منع فرماتے تھے اور بات یہ ہوئی کہ آپؐ نے عصر کی نماز پڑھی۔ اس کے بعد آپؐ میرے ہاں آئے اور اس وقت میرے پاس انصار سے بنو حرام کی کچھ عورتیں تھیں۔ تو آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں۔ میں نے آپؐ کے پاس خادمہ کو بھیجا کہ اٹھو آپؐ کے پاس جاکر ایک طرف کھڑی ہو جاؤ اور کہو: یارسول اللہ! امّ سلمہؓ کہتی ہیں: کیا میں نے آپؐ کو ان دو رکعتوں سے منع کرتے ہوئے نہیں سنا؟ مگر اب میں آپؐ کو یہ پڑھتے ہوئے دیکھ رہی ہوں۔ اگر آپؐ اپنے ہاتھ سے اشارہ کریں تو پیچھے کو ہٹ جانا۔ خادمہ نے ایسا ہی کیا۔ جب آپؐ نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ پیچھے ہٹ گئی۔ جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا: ابوامیہ کی بیٹی! تم نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا ہے۔ بات یہ ہے کہ عبدالقیس کے کچھ لوگ اپنی قوم کے مسلمان ہونے کا پیغام لے کر میرے پاس آئے تھے تو انہوں نے مجھے باتوں میں مشغول رکھ کر وہ دو رکعتیں پڑھنے نہیں دیں جو نمازِ ظہر کے بعد کی پڑھی جاتی ہیں اور یہ وہی دو رکعتیں ہیں۔
عبداللہ بن محمد جُعفی نے مجھے بتایا کہ ابوعامر عبدالملک (بن عمرو عقدی) نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم نے جو کہ طہمان کے بیٹے ہیں, ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوجمرہ سے, ابوجمرہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: پہلا جمعہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں ہوا تھا۔ اس کے بعد جو جمعہ پڑھا گیا وہ عبدالقیس کی مسجد میں تھا جو جواثیٰ میں تھی۔ (جواثیٰ) بحرین کی ایک بستی تھی۔
(تشریح)ہم سے عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے بیان کیا کہ ہمیں لیث (بن سعد) نے بتایا۔ انہوں نے کہا: مجھ سے سعید بن ابی سعید (مقبری) نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے: نبی ﷺ نے نجد کی طرف کچھ سوار بھیجے اور وہ بنی حنیفہ کا ایک آدمی پکڑ کر لے آئے، جسے ثمامہ بن اُثال کہتے تھے۔ انہوں نے اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ نبی ﷺ اس کے پاس باہر آئے۔ آپؐ نے پوچھا: ثمامہ تمہاری کیا رائے ہے؟ (یعنی یہ کہ میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کروں گا۔) اس نے کہا: محمد! اس بارے میں میری رائے اچھی ہی ہے۔ اگر تم نے مجھے مار ڈالا تو ایسے آدمی کو مارو گے جو خون کر چکا ہے۔ اگر تم احسان کرو تو شکر گزار پر احسان کرو گے۔ اور اگر تم مال چاہتے ہو تو اس سے جو چاہو مانگو۔ ثمامہ کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا۔ جب دوسرا دن ہوا، پھر نبی ﷺ نے اس سے پوچھا: ثمامہ تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: میں تو عرض کر چکا۔ اگر آپؐ احسان کریں تو شکر گزار پر احسان کریں گے۔ آپؐ نے اسے پھر ویسے ہی رہنے دیا۔ جب تیسرا دن ہوا۔ آپؐ نے کہا: ثمامہ تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: وہی جو میں کہہ چکا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: ثمامہ کو آزاد کر دو۔ اس پر وہ ایک پانی پر چلا گیا جو مسجد کے قریب تھا اور نہایا۔ پھر مسجد میں آیا اور کہنے لگا: میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ محمدؐ! اللہ کی قسم، زمین پر کوئی منہ بھی آپؐ کے منہ سے بڑھ کر میرے نزدیک زیادہ قابل نفرت نہیں تھا مگر آج آپؐ کا چہرہ تمام چہروں سے مجھے زیادہ پیارا ہے۔ اللہ کی قسم! آپؐ کے دین سے بڑھ کر کوئی دین قابل نفرت نہیں تھا مگر آج آپؐ کا دین تمام دینوں سے بڑھ کر مجھے محبوب ہے۔ اللہ کی قسم! کوئی شہر بھی آپؐ کے شہر سے بڑھ کر میرے لئے قابل نفرت نہیں تھا مگر آج آپؐ کا شہر تمام شہروں سے بڑھ کر مجھے محبوب ہے اور آپؐ کے سواروں نے مجھے پکڑ لیا جبکہ میں عمرہ کا ارادہ کر رہا تھا۔ آپؐ کی کیا رائے ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے اس کو بشارت دی اور اس کو کہا کہ وہ عمرہ ادا کرے۔ جب وہ مکہ میں پہنچا، کسی کہنے والے نے اسے کہا: تم نے دین بدل ڈالا۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں, بلکہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہو گیا ہوں اور اللہ کی قسم! تمہارے پاس یمامہ کی طرف سے گندم کا ایک دانہ بھی ہرگز نہیں آئے گا جب تک کہ نبی ﷺ اس کے متعلق اجازت نہ دیں گے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ عبداللہ بن ابی حسین سے مروی ہے کہ نافع بن جبیر نے ہم سے بیان کیا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: مسیلمہ کذاب رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں آیا اور کہنے لگا: اگر محمؐد اپنے بعد مجھے جانشین بنائیں تو میں اُن کا پیرو ہوں گا اور وہ مدینہ میں اپنی فوج کے بہت سے لوگوں کے ساتھ آیا۔ رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آئے اور آپؐ کے ساتھ حضرت ثابت بن قیس بن شماسؓ تھے اور رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک چھڑی تھی۔ آپؐ آکر مسیلمہ کے سامنے جبکہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا تھا, کھڑے ہوگئے۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تو مجھ سے یہ لکڑی کا ٹکڑا بھی مانگے, میں تمہیں یہ بھی نہ دوں اور تو ہرگز اللہ کے فیصلے سے آگے نہیں بڑھ سکے گا، جو تیرے لئے مقدر ہے اور اگر تو پیٹھ پھیر کر چلا گیا تو اللہ تمہاری جڑ کاٹ دے گا اور میں تمہیں وہی شخص دیکھ رہا ہوں جس کے متعلق مجھے خواب میں بہت کچھ دکھایا گیا ہے اور یہ ثابتؓ ہیں جو میری طرف سے تمہیں جواب دیں گے اور یہ کہہ کر آپؐ اس کو چھوڑ کر واپس چلے گئے۔
حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کے متعلق پوچھا کہ تم کو میں وہی شخص دیکھ رہا ہوں جس کے متعلق مجھے خواب میں وہ کچھ دکھایا گیا جو دکھایا گیا۔ حضرت ابوہریرہؓ نے مجھ سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک بار میں سویا ہوا تھا کہ اس اثنا میں مَیں نے اپنے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن دیکھے۔ ان کی کیفیت نے مجھے فکر میں ڈال دیا۔ پھر مجھے خواب میں وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونکوں۔ چنانچہ میں نے ان پر پھونکا اور وہ اُڑ گئے۔ میں نے ان کی تعبیر دو جھوٹے شخص سمجھے جو میرے بعد ظاہر ہوں گے۔ ان میں سے ایک عنسی ہے اور دوسرا مسیلمہ۔
اسحاق بن نصر نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے, معمر نے ہمام سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہﷺ نے فرمایا: ایک بار میں سویا ہوا تھا کہ اس اثناء میں میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن ڈالے گئے۔ مجھ پر یہ گراں گزرا۔ پھر مجھے وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونکوں۔ میں نے ان پر پھونکا تو وہ غائب ہوگئے۔ میں نے ان کنگنوں کی تعبیر دو جھوٹے شخص سمجھے جن کے درمیان میں ہوں۔ یعنی صنعاء والا (اسود عنسی) اور یمامہ والا (مسیلمہ کذاب)۔
صلت بن محمد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مہدی بن میمون سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے ابورجاء عطاردی سے سنا۔ کہتے تھے: ہم پتھروں کی پوجا کیا کرتے تھے جب ہم ایک پتھر پاتے جو پہلے سے بہتر ہوتا، اس کو پھینک دیتے اور دوسرے کو لے لیتے اور اگر کوئی پتھر نہ پاتے تو ہم مٹی کو اکٹھا کرکے ایک چھوٹی سی ڈھیری بناتے، پھر اس کے بعد بکری لاتے اور اس پر اُس کو دوہتے اور اس کا طواف کرتے۔ جب رجب کا مہینہ آتا، ہم کہتے: اَنّی اور تیروں کے اُتار کر رکھ دینے والا (مہینہ) آگیا ہے۔ تو کوئی برچھا نہ چھوڑتے جس میں لوہے کا پھل ہوتا اور نہ ہی کوئی ایسا تیر جس میں لوہے کا پھل ہوتا مگر اس کو کھینچ کر نکال لیتے اور اسے رجب کے مہینے میں ہی پھینک دیتے۔
سعید بن محمد جرمی نے ہمیں بتایا۔ یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ (ابراہیم بن سعد) نے صالح (بن کیسان) سے, صالح نے ابن عبیدہ بن نشیط سے روایت کی اور ایک دوسری جگہ ان کا نام عبداللہ بیان ہوا ہے کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے کہا: ہمیں یہ خبر پہنچی کہ مسیلمہ کذاب مدینہ میں آیا ہے اور حارث (بن کریز) کی بیٹی (کیسہ) کے گھر میں اُترا ہے اور حارث بن کریز کی بیٹی اس کی بیوی تھی اور وہ عبداللہ بن عامر کی ماں تھی۔ رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آئے اور آپؐ کے ساتھ حضرت ثابت بن قیس بن شماسؓ بھی تھے اور یہ وہ شخص ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے خطیب کہلاتے تھے اور اس وقت رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک چھڑی تھی۔ آپؐ مسیلمہ کے سامنے ٹھہر گئے اور اس سے گفتگو کی۔ مسیلمہ نے آپؐ کی بات سن کر آپؐ سے کہا: آپ چاہیں حکومت سے متعلق ہمارے درمیان دخل نہ دیں اور آپؐ اپنے بعد یہ امر ہمارے لئے ہی کردیں۔ نبی ﷺ نے یہ سن کر فرمایا: اگر تم مجھ سے یہ چھڑی بھی مانگو تو میں تمہیں یہ بھی ہرگز نہ دوں اور میں تمہیں وہی شخص سمجھتا ہوں جس کے بارے میں مجھے خواب میں بہت کچھ دکھایا گیا ہے اور یہ ثابتؓ بن قیس ہیں۔ میری طرف سے یہ تمہیں جواب دیں گے۔ یہ کہہ کر نبی ﷺ لَوٹ گئے۔