بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے تھے: میں نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے رسول اللہ ﷺ کی اس رؤیا کی بابت پوچھا جس کا آپؐ نے ذکر کیا تھا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: مجھ سے ذکر کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک بار میں سویا ہوا تھا کہ اسی اثناء میں مَیں دیکھتا ہوں کہ میرے دونوں ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن ڈالے گئے ہیں۔ انہیں دیکھ کر میں گھبرا گیا اور میں نے انہیں ناپسند کیا۔ مجھے حکم ہوا (کہ ان پر پھونک مارو۔) میں نے ان پر پھونک ماری اور وہ اُڑ گئے۔ میں نے ان کی تعبیر یہ سمجھی کہ دو جھوٹے شخص ظاہر ہوں گے۔ عبیداللہ نے کہا: (ان میں سے) ایک (وہ) عنسی ہے جس کو فیروز نے یمن میں مار ڈالا اور دوسرا مسیلمہ کذاب ہے۔
(تشریح)عباس بن حسین نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن آدم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسرائیل سے, اسرائیل نے ابواسحاق سے, ابواسحاق نے صلہ بن زُفر سے, صلہ نے حضرت حذیفہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عاقب (عبدالمسیح) اور سید (ایہم) جو نجران کے عیسائیوں کے دو رئیس تھے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ وہ چاہتے تھے کہ آپؐ سے مباہلہ کریں۔ حضرت حذیفہؓ کہتے تھے: ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: مباہلہ نہ کریں۔ کیونکہ اللہ کی قسم! اگر وہ نبی ہوئے اور ہمارے لئے لعنت کی دعا کی تو ہم کبھی کامیاب نہ ہوں گے اور نہ ہماری اولاد ہمارے بعد۔ ان دونوں نے کہا: ہم آپؐ کو جو بھی آپؐ ہم سے مانگیں گے, دیں گے۔ آپؐ ہمارے ساتھ ایک امین شخص بھیجیں اور آپؐ ہمارے ساتھ سوائے امین کے کسی کو نہ بھیجیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں تمہارے ساتھ ایک امین شخص ہی بھیجوں گا جو بڑا ہی امین ہوگا۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ سر اُٹھا کر آپؐ کی طرف دیکھنے لگے۔ آپؐ نے فرمایا: ابوعبیدہ بن جراحؓ! اُٹھو کھڑے ہو جاؤ۔ جب وہ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ اس امت کا امین ہے۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے ابواسحاق سے سنا۔ انہوں نے صلہ بن زفر سے, صلہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نجران والے نبی ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: ہمارے پاس ایک امین شخص بھیجیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں تمہارے پاس ایک ایسا شخص بھیجوں گا جو پکا دیانت دار ہوگا۔ اس پر لوگ سر اُٹھا کر آپؐ کی طرف دیکھنے لگے اور آپؐ نے حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کو بھیجا۔
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیں خالد (حذاء) سے, خالد نے ابوقلابہ سے, ابوقلابہ نے حضرت انسؓ سے, حضرت انسؓ نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ آپؐ نے فرمایا: ہر ایک امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراحؓ ہے۔
(تشریح)ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ ہمیں سفیان (بن عیینہ) نے بتایا کہ (محمد) بن منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا: اگر بحرین کا مال آ گیا تو میں تمہیں اس اس طرح (تین دفعہ) دوں گا۔ پھر بحرین کا مال نہ آیا اور رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے۔ جب حضرت ابوبکرؓ کے پاس وہ مال آیا تو انہوں نے ایک منادی کو حکم دیا۔ اس نے یہ پکار کر کہا: جس کا نبی ﷺ کے ذمہ کوئی قرضہ یا وعدہ ہو، وہ میرے پاس آ جائے۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے: میں یہ سن کر حضرت ابوبکرؓ کے پاس آیا اور ان کو بتلایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا: اگر بحرین کا مال آیا تو تم کو اس طرح اس طرح (تین دفعہ) دوں گا۔ کہتے تھے: حضرت ابوبکرؓ نے مجھے دیا۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے: پھر میں اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ سے ملا اور ان سے مانگا۔ مگر انہوں نے مجھے نہ دیا۔ پھر ان کے پاس آیا۔ انہوں نے مجھے نہ دیا۔ پھر تیسری بار آیا۔ پھر نہ دیا۔ میں نے ان سے کہا: میں آپ کے پاس آیا اور آپ نے مجھے نہ دیا۔ پھر آپ کے پاس آیا۔ پھر نہ دیا۔ پھر آپ کے پاس آیا۔ تب بھی نہ دیا۔ یا تو آپ مجھے دیں یا یہ (مجھے کہہ دیں) کہ آپ مجھے دینے میں بخل کرتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت ابوبکرؓ نے کہا: کیا تم نے یہ کہا ہے کہ میں تمہیں بخل کی وجہ سے نہیں دیتا؟ اور کون سی بیماری ہے جو بخل سے بڑھ کر ہے؟ حضرت ابوبکرؓ نے ان کو تین بار کہا۔ میں نے جب کبھی تمہیں دینے سے انکار کیا تو میں اس وقت یہ چاہتا تھا کہ تمہیں دوں؛ اور اسی سند سے عمرو (بن دینار) سے مروی ہے۔ انہوں نے محمد بن علی سے روایت بیان کی کہ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا، کہتے تھے: میں حضرت ابوبکرؓ کے پاس آیا۔ تو حضرت ابوبکرؓ نے مجھے کہا: انہیں گنو۔ میں نے انہیں گنا اور وہ پانچ سو درہم تھے۔ پھر فرمایا: اتنے ہی دو دفعہ اور لے لو۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد اور اسحاق بن نصر نے مجھے بتایا۔ ان دونوں نے کہا: یحيٰ بن آدم نے ہم سے بیان کیا کہ (یحيٰ بن زکریا) بن ابی زائدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے, ان کے باپ نے ابواسحاق (عمرو بن عبداللہ سبیعی) سے, انہوں نے اَسوَد بن یزید سے, اَسوَد نے حضرت ابوموسیٰ (اشعری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں اور میرا بھائی یمن سے آئے اور ہم کچھ دیر ٹھہرے۔ ہم ابن مسعودؓ اور ان کی ماں کو بوجہ اس کے کہ وہ آنحضرت ﷺ کے گھر میں بہت آیا جایا کرتے تھے اور ہمیشہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہتے تھے, ان کو اہل بیت میں سے ہی سمجھتے تھے۔
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالسلام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے, ایوب نے ابو قلابہ سے, ابو قلابہ نے زہدم (بن مضرب) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب حضرت ابو موسیٰؓ (کوفہ میں) آئے تو انہوں نے جَرم کے قبیلہ کی بہت عزت کی اور ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ مرغی کا گوشت صبح ناشتہ میں کھا رہے تھے اور لوگوں میں ایک شخص بیٹھا تھا۔ آپؓ نے اس کو کھانے کے لئے بلایا۔ وہ کہنے لگا: میں نے اس کو کچھ گندگی کھاتے ہوئے دیکھا تھا تو مجھے اس سے کراہت ہوگئی۔ یہ سن کر حضرت ابو موسیٰؓ نے اس سے کہا: آؤ بھی، کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو مرغی کھاتے دیکھا ہے۔ اس نے کہا: میں نے قسم کھائی تھی کہ اسے نہیں کھاؤں گا۔ حضرت ابو موسیٰؓ نے کہا: ادھر آؤ، میں تمہاری قسم کی بابت بھی تمہیں بتاتا ہوں۔ ہم چند اشعری لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے اور ہم نے آپؐ سے سواری مانگی۔ آپؐ نے ہمیں سواری دینے سے انکار کیا۔ پھر ہم نے آپؐ سے سواری مانگی۔ آپؐ نے قسم کھائی کہ میں سواری نہیں دوں گا۔ پھر نبی ﷺ تھوڑی دیر ہی ٹھہرے تھے کہ اتنے میں آپؐ کے پاس غنیمت کے کچھ اونٹ لائے گئے۔ تو آپؐ نے ہمیں پانچ اونٹ دینے کا حکم دیا۔ جب ہم نے آپؐ سے وہ اونٹ لئے تو ہم نے خیال کیا، نبی ﷺ کو اپنی قسم کا دھیان نہیں رہا (ہم نے اس سے فائدہ اُٹھایا ہے) ہم تو اس کے بعد کبھی بھی کامیاب نہ ہوں گے۔ یہ خیال کرکے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ نے قسم کھائی تھی کہ آپؐ ہمیں سواری نہیں دیں گے اور اب آپؐ نے ہمیں سواری دی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں مگر میں کوئی قسم نہیں کھاتا کہ پھر اس سے بہتر اور بات دیکھتا ہوں تو ضرور ہی کرتا ہوں جو اس سے بہتر ہوتی ہے۔
عمرو بن علی (فلاس) نے مجھ سے بیان کیا کہ ابو عاصم (نبیل) نے ہمیں بتایا کہ سفیان (ثوری) نے ہم سے بیان کیا کہ ابو صخرہ جامع بن شداد نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) صفوان بن محرز مازنی نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت عمران بن حصینؓ نے ہمیں بتایا۔ کہتے تھے: بنو تمیم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ آپؐ نے فرمایا: بنو تمیم تمہیں بشارت ہو۔ انہوں نے کہا: اب جبکہ آپؐ نے ہمیں بشارت دی ہے, کچھ ہمیں دیں بھی۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ پھر اہل یمن میں سے کچھ لوگ آئے اور نبی ﷺ نے فرمایا: تم ہی بشارت قبول کرلو جبکہ بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے قبول کی۔
عبداللہ بن محمد جعفی نے مجھے بتایا کہ وہب بن جریر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل بن ابی خالد سے, اسماعیل نے قیس بن ابی حازم سے, قیس نے حضرت ابومسعودؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ایمان اس طرف ہے اور آپؐ نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کیا۔ اجڈ پن اور دلوں کی سختی ان لوگوں کے دلوں میں ہے جو اونٹوں کی دموں کے نیچے وقت بسر کرتے ہیں۔ جہاں شیطان کے دو سینگ پیدا ہوں گے یعنی ربیعہ اور مضر میں۔
محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ (محمد) ابن ابی عدی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے شعبہ سے, شعبہ نے سلیمان (اعمش) سے, انہوں نے ذکوان سے, ذکوان نے حضرت ابوہریرہؓ سے, انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی, (کہا:) اہل یمن تمہارے پاس آئے ہیں۔ وہ رقیق القلب اور نرم دل لوگ ہیں۔ ایمان بھی یمانی ہے اور حکمت بھی یمانی ہے۔ فخر اور اکڑ پن ان اونٹ والوں میں ہے اور اطمینان اور متانت بکری والوں میں ہے۔ اور غندر نے شعبہ سے, شعبہ نے سلیمان سے یوں روایت کی, کہا: میں نے ذکوان سے سنا۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے, حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کی۔