بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
عبداللہ بن محمد جعفی نے ہمیں بتایا کہ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے, زُہری نے سالم (بن عبداللہ) سے, سالم نے (حضرت عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب نبی ﷺ حجر کے پاس سے گزرے تو آپؐ نے فرمایا: تم اُن لوگوں کی بستیوں میں مت داخل ہو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا مبادا تمہیں وہی عذاب پہنچے جو انہیں پہنچا تھا؛ سوائے اس کے کہ تم روتے ہوئے جاؤ۔ اس کے بعد آپؐ نے اپنا سر ڈھانپ لیا اور رفتار تیز کردی یہاں تک کہ وادی سے پار ہو گئے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے حجر والوں کی نسبت فرمایا: تم ان کے پاس نہ جاؤ جنہیں سزا دی گئی، سوائے اس کے کہ تم گریہ و زاری کرتے جاؤ، مبادا تمہیں وہی عذاب پہنچے جو انہیں پہنچا۔
یحيٰ بن بکیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے لیث (بن سعد) سے, لیث نے عبدالعزیز بن ابی سلمہ سے, عبدالعزیز نے سعد بن ابراہیم سے, سعد نے نافع بن جبیر سے, نافع نے عروہ بن مغیرہ سے, عروہ نے اپنے باپ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت کی, کہا: نبی ﷺ اپنی حاجت کے لئے گئے۔ میں اُٹھا کہ آپؐ (کے ہاتھوں) پر پانی ڈالوں۔ میں یہی جانتا ہوں کہ حضرت مغیرہؓ نے کہا: یہ واقعہ غزوۂ تبوک میں ہوا۔ آپؐ نے اپنا منہ دھویا اور اپنے بازوؤں کو دھونے لگے تو جبے کی آستین اتنی تنگ تھی کہ (آپؐ اس کو چڑھا نہ سکے۔) آپؐ نے بازوؤں کو جبے کے نیچے سے نکال کر اُن کو دھویا پھر آپؐ نے پاؤں پر مسح کیا۔
خالد بن مخلد نے ہمیں بتایا کہ سلیمان (بن بلال) نے ہم سے بیان کیا, کہا: عمرو بن یحيٰ نے مجھے بتایا کہ انہوں نے عباس بن سہل بن سعد سے, عباس نے ابو حمید (ساعدی) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم نبی ﷺ کے ساتھ غزوۂ تبوک سے لَوٹ کر آئے۔ جب مدینہ کے قریب پہنچے تو آپؐ نے فرمایا: یہ طابہ آن پہنچا اور یہ اُحد پہاڑ ہے۔ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔
احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ حمید طویل نے ہمیں بتایا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ غزوۂ تبوک سے لَوٹے اور جب مدینہ کے قریب پہنچے تو آپؐ نے فرمایا: مدینہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم جو بھی سفر کرتے ہو اور جس وادی کو عبور کرتے ہو تو وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! وہ مدینہ میں ہی رہتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: وہ مدینہ میں رہتے ہیں, عذر نے اُن کو روک رکھا ہے۔
(تشریح)اسحاق (بن راہویہ) نے ہمیں بتایا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ (ابراہیم بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح (بن کیسان) سے, صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت ابن عباسؓ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن حذافہ سہمیؓ کے ہاتھ اپنا خط کسریٰ کو بھیجا۔ آپؐ نے (عبداللہ بن حذافہؓ سے) فرمایا کہ وہ خط بحرین کے حاکم کو دیں۔ بحرین کے حاکم نے وہ خط کسریٰ کو بھیج دیا۔ جب اُس نے وہ خط پڑھا, اسے پھاڑ ڈالا۔ (زہری کہتے تھے:) میں سمجھتا ہوں کہ (سعید) بن مسیب نے یہ بھی کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایران والوں کے لئے دعا کی کہ وہ ہر طرح ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں۔
عثمان بن ہیثم نے ہم سے بیان کیا کہ عوف (اعرابی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حسن (بصری) سے, حسن نے حضرت ابوبکرہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اللہ نے جنگ جمل کے ایام میں مجھے ایک بات سے فائدہ دیا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی جبکہ قریب تھا کہ میں جمل والوں سے جا ملوں اور اُن کے ساتھ ہو کر لڑوں۔ حضرت ابوبکرہؓ نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ کو یہ خبر پہنچی کہ فارس والوں نے اپنے لئے کسریٰ کی بیٹی ملکہ شاہ بنا لی ہے تو آپؐ نے فرمایا: وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جس نے اپنی حکومت ایک عورت کے سپرد کی۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے زُہری سے سنا۔ وہ حضرت سائب بن یزیدؓ سے روایت کرتے تھے, کہتے تھے: مجھے یاد ہے کہ میں بھی لڑکوں کے ساتھ ثنیۃ الوداع تک رسول اللہ ﷺ کے استقبال کے لئے گیا تھا۔ اور سفیان نے ایک بار (لڑکوں کی بجائے) یوں کہا: بچوں کے ساتھ۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے, زہری نے حضرت سائبؓ (بن یزید) سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) مجھے یاد ہے کہ میں بھی لڑکوں کے ساتھ نبی ﷺ کے استقبال کے لئے ثنیۃ الوداع تک گیا تھا جبکہ آپؐ غزوۂ تبوک سے واپس آئے تھے۔
اور یونس نے زُہری سے نقل کیا کہ عروہ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: نبی ﷺ اس بیماری میں جس میں کہ آپؐ فوت ہوئے, فرماتے تھے: عائشہ! میں اب تک اس کھانے کی تکلیف محسوس کر رہا ہوں جو میں نے خیبر میں کھایا تھا۔ اب اس وقت میں نے محسوس کیا ہے جیسے اس زہر سے میری شاہ رگ کٹ گئی ہے۔