بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے, عقیل نے ابن شہاب سے, ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ سے, انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے, حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے حضرت امّ فضل بنت حارثؓ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں نے نبی ﷺ کو مغرب (کی نماز) میں سورۃ وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا پڑھتے سنا۔ پھر اس کے بعد آپؐ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی اور اللہ نے آپؐ کو اُٹھا لیا۔
محمد بن عرعرہ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبشر سے, ابوبشر نے سعید بن جبیر سے, سعید نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حضرت ابن عباسؓ کو اپنے قریب بٹھاتے تھے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے ان سے کہا: ہمارے بھی اس جیسے بیٹے ہیں۔ آپؓ نے فرمایا: وہ جس حیثیت کا ہے تم جانتے ہو۔ پھر حضرت عمرؓ نے حضرت ابن عباسؓ سے اس آیت سے متعلق پوچھا: اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی وفات کی خبر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو بتائی ہے تو حضرت عمرؓ نے یہ سن کر کہا: میں بھی یہی اس سے سمجھتا ہوں جو تم سمجھتے ہو۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلیمان احول سے, سلیمان نے سعید بن جبیر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: جمعرات کا دن تھا اور جمعرات کا دن بھی کیا تھا کہ جس میں رسول اللہ ﷺ پر آپؐ کی بیماری نے سخت حملہ کیا۔ آپؐ نے فرمایا: میرے پاس لاؤ کہ میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دوں۔ جس کے بعد تم کبھی نہیں بھٹکو گے۔ وہ لوگ آپس میں جھگڑنے لگے حالانکہ نبی ﷺ کے پاس جھگڑنا نہیں چاہیے۔ کہنے لگے: کیا بات ہے؟ کیا آنحضرت ﷺ بیماری کی شدت سے کچھ فرما رہے ہیں؟ آپؐ سے پوچھو۔ چنانچہ آپؐ سے دوبارہ پوچھنے لگے: آپؐ نے فرمایا: مجھے رہنے دو، میں جس حالت میں ہوں وہ بہتر ہے, اس سے جس کی طرف تم بلاتے ہو۔ آپؐ نے اُن کو تین باتوں کی وصیت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جزیرۂ عرب سے مشرکوں کو نکال دینا اور نمائندوں کو اس طرح آنے دینا جس طرح کہ میں اُن کو آنے دیا کرتا تھا اور آپؐ خاموش ہوگئے۔ تیسری بات نہیں کی یا حضرت ابن عباسؓ نے کہا: میں اس کو بھول گیا۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا کہ عبدالرزاق (بن ہمام) نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے, زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے, عبیداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ کی وفات کا وقت آپہنچا اور گھر میں کئی مرد موجود تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: آؤ میں تمہیں ایسی وصیت لکھ دوں کہ اس کے بعد تم نہیں بھٹکو گے۔ ان میں کسی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو بیماری نے بے بس کردیا ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے۔ اللہ کی کتاب ہمیں کافی ہے۔ اس پر گھر والوں میں اختلاف ہوا اور وہ جھگڑنے لگے۔ ان میں بعض وہ تھے جو کہتے تھے: (کاغذ, قلم دوات) قریب کرو کہ تمہیں تحریر لکھ دیں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو، اور ان میں سے بعض وہ تھے جو کچھ اور کہتے تھے۔ جب انہوں نے بحث اور جھگڑا بہت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اُٹھو چلے جاؤ۔ عبیداللہ نے کہا: حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: مصیبت ساری کی ساری مصیبت وہی ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ ان کے آپس میں جھگڑنے اور شور کرنے کی وجہ سے رُک گئے کہ آپؐ ان کے لئے وہ تحریر لکھتے۔
یسرہ بن صفوان بن جمیل لخمی نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ (سعد بن ابراہیم) سے, انہوں نے عروہ سے, عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے حضرت فاطمہ علیہ السلام کو اپنی اس بیماری میں بلایا جس میں آپؐ اُٹھائے گئے اور آپؐ نے اُن سے کوئی راز کی بات کی۔ وہ سن کر رونے لگیں۔ پھر آپؐ نے اُن کو بلایا اور اُن سے رازداری میں کچھ کہا اور وہ سن کر ہنس پڑیں۔ ہم نے اس کی بابت پوچھا۔ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ نے مجھے بطور رازدار بتایا کہ آپؐ اپنی اس بیماری میں جس میں کہ آپؐ فوت ہوئے، اُٹھائے جائیں گے۔ یہ سن کر میں رو پڑی۔ پھر آپؐ نے راز کی بات کی اور مجھے بتایا کہ میں آپؐ کے اہل بیت میں سے پہلی ہوں جو آپؐ سے ملوں گی اور میں یہ سن کر خوشی سے ہنس پڑی۔
یسرہ بن صفوان بن جمیل لخمی نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ (سعد بن ابراہیم) سے, انہوں نے عروہ سے, عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے حضرت فاطمہ علیہ السلام کو اپنی اس بیماری میں بلایا جس میں آپؐ اُٹھائے گئے اور آپؐ نے اُن سے کوئی راز کی بات کی۔ وہ سن کر رونے لگیں۔ پھر آپؐ نے اُن کو بلایا اور اُن سے رازداری میں کچھ کہا اور وہ سن کر ہنس پڑیں۔ ہم نے اس کی بابت پوچھا۔ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ نے مجھے بطور رازدار بتایا کہ آپؐ اپنی اس بیماری میں جس میں کہ آپؐ فوت ہوئے، اُٹھائے جائیں گے۔ یہ سن کر میں رو پڑی۔ پھر آپؐ نے راز کی بات کی اور مجھے بتایا کہ میں آپؐ کے اہل بیت میں سے پہلی ہوں جو آپؐ سے ملوں گی اور میں یہ سن کر خوشی سے ہنس پڑی۔
محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ غندر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعد (بن ابراہیم) سے, سعد نے عروہ سے, عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ وہ فرماتی تھیں: میں سنا کرتی تھی کہ کوئی بھی نبی اس وقت تک فوت نہیں ہوتا جب تک کہ اس کو دنیا اور آخرت سے متعلق اختیار نہ دے دیا جائے۔ تو میں نے نبی ﷺ کو آپؐ کی اس بیماری میں جس میں آپؐ فوت ہوئے, فرماتے سنا اور آپؐ کی آواز بیٹھ گئی تھی۔ فرماتے تھے: ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا۔ میں سمجھی کہ آپؐ کو اختیار دیا گیا۔
مسلم (بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعد (بن ابراہیم) سے, سعد نے عروہ سے, عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ فرماتی تھیں: جب نبی ﷺ بیمار ہوئے یعنی وہ بیماری جس میں کہ آپؐ فوت ہوگئے, آپؐ فرمانے لگے: رفیق اعلیٰ کے ساتھ۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ عروہ بن زبیر نے کہا: حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ جب تندرست تھے, فرمایا کرتے تھے: کبھی بھی کوئی نبی نہیں اُٹھایا گیا جب تک کہ اس نے جنت میں اپنا ٹھکانہ نہیں دیکھ لیا۔ پھر چاہے تو (دنیا میں) زندہ رکھا جائے یا اسے اختیار دیا جائے۔ جب آپؐ بیمار ہوئے اور جان کنی کا وقت آیا اور آپؐ کا سر حضرت عائشہؓ کی ران پر تھا آپؐ پر غشی طاری ہوئی۔ جب آپؐ نے ہوش سنبھالا۔ آپؐ نے اپنی آنکھ کو گھر کی چھت کی طرف اُٹھایا اور فرمایا: اے اللہ! رفیق اعلیٰ کے ساتھ۔ میں نے کہا: اب تو آپؐ ہم میں رہنا پسند نہیں کریں گے۔ میں سمجھ گئی کہ یہ وہی بات ہے جو آپؐ ہمیں بتایا کرتے تھے جبکہ آپؐ تندرست تھے۔
محمد (بن یحيٰ ذہلی) نے ہم سے بیان کیا کہ عفان (بن مسلم) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صخر بن جویریہ سے، صخر نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، انہوں نے اپنے باپ (قاسم بن محمد) سے، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی: عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ نبی ﷺ کے پاس آئے اور میں نے آپؐ کو اپنے سینے سے سہارا دیا ہوا تھا اور عبدالرحمٰنؓ کے پاس ایک تازہ مسواک تھی جس سے وہ مسواک کر رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس مسواک کی طرف نگاہ کی، دیکھا۔ میں نے مسواک لی اور اسے توڑا اور اس کو نرم کرکے پانی سے پاک صاف کیا اور پھر نبی ﷺ کو دی اور آپؐ نے اس مسواک سے ایسی عمدگی سے مسواک کی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسی عمدگی سے مسواک کرتے کبھی نہیں دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ ابھی فارغ ہی ہوئے تھے کہ آپؐ نے اپنا ہاتھ اُٹھایا یا کہا: اپنی انگلی اُٹھائی اور پھر تین بار فرمایا: رفیق اعلیٰ کے ساتھ۔ پھر آپؐ گزر گئے؛ اور حضرت عائشہؓ فرمایا کرتی تھیں: آپؐ میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان فوت ہوئے۔