بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
محمد بن عبید نے مجھ سے بیان کیا کہ عیسیٰ بن یونس نے ہمیں بتایا کہ عمر بن سعید سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: ابن ابی ملیکہ نے مجھے خبر دی کہ ابوعمرو ذکوان نے جو کہ حضرت عائشہؓ کے غلام تھے, ان سے بیان کیا کہ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: مجھ پر اللہ کے احسانوں میں سے ایک احسان یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں، میری باری کے دن اور میرے سینے اور ٹھوڑی کے درمیان فوت ہوئے اور یہ کہ اللہ نے آپؐ کی وفات کے وقت میرے اور آپؐ کے لعاب کو ملا دیا۔ عبدالرحمٰن (بن ابی بکرؓ) میرے پاس اندر آئے۔ ان کے ہاتھ میں مسواک تھی اور میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کو سہارا دئیے ہوئے تھی۔ میں نے آپؐ کو دیکھا کہ مسواک کی طرف نظر ہے اور میں سمجھتی تھی کہ آپؐ مسواک لینا پسند کرتے ہیں۔ میں نے آپؐ سے پوچھا: کیا میں آپؐ کے لئے یہ مسواک لے لوں؟ آپؐ نے اپنے سر سے اشارہ فرمایا کہ ہاں۔ میں نے آپؐ کو لے کر دی مگر وہ سخت تھی۔ (آپؐ چبا نہ سکے۔) میں نے کہا: کیا آپؐ کے لئے یہ نرم کر دوں؟ آپؐ نے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں۔ میں نے وہ نرم کر دی تو آپؐ نے مسواک کی۔ اور آپؐ کے سامنے پانی کی چھاگل تھی یا کہا: پیالہ تھا۔ عمر (بن سعید) اس کے متعلق شک کرتے ہیں۔ اس میں پانی تھا، آپؐ اپنے ہاتھ پانی میں ڈالتے اور اُن کو اپنے منہ پر پھیرتے۔ فرماتے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ موت کی بھی سختیاں ہوتی ہیں۔ پھر آپؐ نے اپنا ہاتھ اُٹھایا اور فرمانے لگے: اعلیٰ رفیق کے ساتھ۔ یہاں تک کہ آپؐ اُٹھا لئے گئے اور آپؐ کا ہاتھ جھک گیا۔
عبد اللہ بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے, سفیان نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے, موسیٰ نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے, انہوں نے حضرت عائشہؓ اور حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ حضرت ابو بکرؓ نے نبیﷺ کو آپؐ کے فوت ہونے کے بعد بوسہ دیا۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا, (کہا:) سلیمان بن بلال نے مجھے بتایا کہ ہشام بن عروہ نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی اس بیماری میں جس میں کہ آپؐ فوت ہوئے, پوچھتے تھے, فرماتے: کل میں کہاں ہوں گا؟ کل میں کہاں ہوں گا؟ آپؐ کی مراد یہ تھی کہ حضرت عائشہؓ کی باری کب ہوگی۔ یہ معلوم کرکے آپؐ کی ازواج نے آپؐ کو اجازت دے دی کہ جہاں آپؐ چاہیں رہیں۔ تب آپؐ حضرت عائشہؓ کے گھر میں رہے یہاں تک کہ اُن کے پاس آپؐ فوت ہوئے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: آپؐ اس دن فوت ہوئے جس دن آپؐ میرے گھر میں میرے پاس باری پر آیا کرتے تھے۔ اللہ نے آپؐ کو اُٹھا لیا اور اس وقت آپؐ کا سر میری ٹھوڑی اور سینے کے درمیان تھا اور آپؐ کا لعاب میرے لعاب سے ملا۔ پھر انہوں نے کہا: عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ اندر آئے اور اُن کے پاس مسواک تھی، جس سے وہ مسواک کر رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے مسواک کی طرف دیکھا۔ میں نے ان سے کہا: عبدالرحمٰن! مسواک مجھے دے دو اور انہوں نے مجھے وہ دے دی۔ میں نے وہ توڑی اور توڑ کر چبائی۔ پھر رسول اللہ ﷺ کو وہ مسواک دے دی۔ آپؐ نے اس مسواک سے مسواک کی اور آپؐ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے, ایوب نے ابن ابی ملیکہ سے, انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، فرماتی تھیں: نبی ﷺ میرے گھر میں، میری باری کے دن، میرے سینے اور ٹھوڑی کے درمیان فوت ہوئے اور جب آپؐ بیمار ہوتے, ہم میں سے کوئی دعا پڑھ کر آپؐ کے واسطے پناہ مانگتا۔ چنانچہ میں بھی آپؐ کے لئے پناہ مانگنے لگی۔ آپؐ نے اپنا منہ آسمان کی طرف اُٹھایا اور فرمانے لگے: اعلیٰ رفیق کے ساتھ۔ اور عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ ادھر آنکلے اور ان کے ہاتھ میں کھجور کی ایک سبز ٹہنی تھی۔ نبی ﷺ نے ان کی طرف دیکھا۔ میں سمجھ گئی آپؐ کو اس کی ضرورت ہے۔ میں نے وہ لی اور اس کا سرا چبایا اور اس کو پانی سے جھاڑ کر صاف ستھرا کرکے آپؐ کو وہ دے دی۔ اور آپؐ نے اس سے مسواک ایسی اچھی طرح کی کہ جو آپؐ کیا کرتے تھے۔ پھر آپؐ نے مجھے وہ مسواک دینے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ آپؐ کا ہاتھ گرگیا، یا کہا: آپؐ کے ہاتھ سے وہ گر گئی۔ اس طرح اللہ نے میرے اور آپؐ کے لعاب کو اُس وقت اکٹھا کردیا کہ جو دنیا میں آخری دن اور آخرت میں پہلا دن تھا۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے, عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن بن عوف) نے مجھے خبر دی کہ حضرت عائشہؓ نے اُن سے بیان کیا کہ حضرت ابوبکرؓ اپنے اس گھر سے جو سنح میں تھا, گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اور اُتر کر مسجد میں داخل ہوئے۔ لوگوں سے بات نہیں کی، سیدھے حضرت عائشہؓ کے پاس چلے آئے اور رسول اللہﷺ کی طرف گئے۔ آپؐ ایک یمنی کپڑے سے ڈھانپے ہوئے تھے۔ انہوں نے آپؐ کے منہ سے وہ کپڑا اُٹھایا۔ پھر آپؐ پر جھکے اور آپؐ کو بوسہ دیا اور روئے۔ پھر کہا: میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ اللہ کی قسم! اللہ آپؐ پر دو موتیں اکٹھی نہیں کرے گا۔ وہ موت جو آپؐ کے لئے مقدر تھی وہ تو آپؐ پر وارد ہو چکی۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے, عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن بن عوف) نے مجھے خبر دی کہ حضرت عائشہؓ نے اُن سے بیان کیا کہ حضرت ابوبکرؓ اپنے اس گھر سے جو سنح میں تھا, گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اور اُتر کر مسجد میں داخل ہوئے۔ لوگوں سے بات نہیں کی، سیدھے حضرت عائشہؓ کے پاس چلے آئے اور رسول اللہﷺ کی طرف گئے۔ آپؐ ایک یمنی کپڑے سے ڈھانپے ہوئے تھے۔ انہوں نے آپؐ کے منہ سے وہ کپڑا اُٹھایا۔ پھر آپؐ پر جھکے اور آپؐ کو بوسہ دیا اور روئے۔ پھر کہا: میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ اللہ کی قسم! اللہ آپؐ پر دو موتیں اکٹھی نہیں کرے گا۔ وہ موت جو آپؐ کے لئے مقدر تھی وہ تو آپؐ پر وارد ہو چکی۔
زہری کہتے تھے: اور ابوسلمہ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت کرتے ہوئے مجھے یہ بھی بتایا کہ حضرت ابوبکرؓ باہر آئے اور اس وقت حضرت عمرؓ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: عمرؓ بیٹھ جاؤ۔ حضرت عمرؓ نہ بیٹھے۔ لوگ حضرت ابوبکرؓ کی طرف متوجہ ہوگئے اور حضرت عمرؓ کو چھوڑ دیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: تم میں سے جو محمد ﷺ کی پرستش کرتا تھا تو پھر محمؐد تو فوت ہوگئے ہیں اور تم میں سے جو اللہ کی پرستش کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے, کبھی نہیں مرے گا۔ اللہ نے فرمایا ہے: محمد ایک رسول ہی ہے۔ اس سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں …… اور حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: اللہ کی قسم! ایسا معلوم ہوا کہ گویا لوگ اس وقت تک کہ حضرت ابوبکرؓ نے وہ آیت پڑھی، جانتے ہی نہ تھے کہ اللہ نے یہ آیت بھی نازل کی تھی۔ گویا تمام لوگوں نے ان سے یہ آیت سیکھی۔ پھر لوگوں میں جس آدمی کو بھی میں نے سنا، یہی آیت پڑھ رہا تھا۔ زہری کہتے تھے: سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ حضرت عمرؓ نے کہا: اللہ کی قسم! جونہی کہ میں نے حضرت ابوبکرؓ کو یہ آیت پڑھتے سنا, میں اس قدر گھبرایا کہ دہشت کے مارے میرے پاؤں مجھے سنبھال نہ سکے اور میں زمین پر گر گیا۔ جب میں نے حضرت ابوبکرؓ کو یہ آیت پڑھتے سنا۔ میں نے جان لیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم فوت ہوگئے۔
عبداللہ بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے، موسیٰ نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے حضرت عائشہؓ اور حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ حضرت ابوبکرؓ نے نبی ﷺ کو آپؐ کے فوت ہونے کے بعد بوسہ دیا۔
عبداللہ بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے, سفیان نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے, موسیٰ نے عبیداللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے, انہوں نے حضرت عائشہؓ اور حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ حضرت ابوبکرؓ نے نبی ﷺ کو آپؐ کے فوت ہونے کے بعد بوسہ دیا۔
علی (بن عبداللہ مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے یہی بات ہمیں بتائی اور اتنا زیادہ کیا کہ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں: آپؐ کی بیماری میں ہم نے آپؐ کے منہ میں دوا ڈالی۔ آپؐ ہمیں اشارہ کرنے لگے کہ میرے منہ میں دوا مت ڈالو۔ ہم سمجھے آپؐ دوائی سے نفرت کرتے ہیں جیسے کہ بیمار دوائی سے نفرت کرتا ہے۔ جب آپؐ کو افاقہ ہوا, آپؐ نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں روکا نہیں تھا کہ میرے منہ میں دوائی نہ ڈالو؟ ہم نے کہا: آپؐ کا روکنا اس نفرت کی وجہ سے تھا جو ہر بیمار کو دوائی سے ہوا کرتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: گھر میں کوئی بھی نہ رہے مگر اس کے منہ میں دوائی ڈالی جائے اور میں دیکھوں سوائے عباسؓ کے کیونکہ وہ تم میں موجود نہ تھے۔ یہ بات (عبدالرحمٰن) ابن ابی زناد نے ہشام (بن عروہ) سے روایت کی۔ ہشام نے اپنے باپ سے, ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے, حضرت عائشہؓ نے نبیؐ سے روایت کی۔