بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
حبان (بن موسیٰ مروَزی) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی, کہا: عروہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب بیمار ہوتے تو اپنے بدن پر معوذات (سورۃ الاخلاص, سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) پڑھ کر دم کرتے اور اپنے ہاتھ کو بیماری دور کرنے کے لئے پھیرتے۔ جب آپؐ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں کہ آپؐ فوت ہوئے تو میں آپؐ پر ان معوذات کو پڑھ کر دَم کرنے لگی، جن سے آپؐ دَم کیا کرتے تھے اور نبی ﷺ کا ہاتھ لے کر آپؐ کے بدن پر بیماری دور کرنے کے لئے پھیرتی۔
معلیٰ بن اسد نے ہمیں بتایا کہ عبدالعزیز بن مختار نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں بتایا۔ عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی ﷺ سے سنا اور انہوں نے یہ بات آپؐ سے فوت ہونے سے پہلے کان لگا کر سنی جبکہ آپؐ اپنی کمر مجھ سے لگا کر سہارا لئے ہوئے تھے۔ آپؐ فرماتے تھے: اے اللہ! پردہ پوشی فرماتے ہوئے مجھ سے درگزر کر اور مجھ پر رحم کر اور مجھے رفیق سے ملا دے۔
صلت بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ (وضاح بن عبداللہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہلال (بن ابی حمید)وزان سے, ہلال نے عروہ بن زبیر سے, عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے اپنی اُس بیماری میںجس سے کہ آپؐ نہیں اُٹھے, فرمایا: اللہ! ان یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنی رحمت سے دور رکھ۔ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا ہے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: اگر اس بات کا خیال نہ ہوتا تو آپؐ کی قبر پر سونے کا غلاف چڑھ جاتا۔ آپؐ ڈرے کہ کہیں آپؐ کی قبر مسجد نہ بنا لی جائے۔
سعید بن عفیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: لیث نے مجھ سے بیان کیا, کہا: عقیل نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی, کہا: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے مجھے خبر دی کہ نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں کہ جب رسول اللہ ﷺ پر چلنا پھرنا دشوار ہو گیا اور آپؐ کی بیماری کا آپؐ پر سخت حملہ ہوا تو آپؐ نے اپنی بیویوں سے اجازت لی کہ میرے گھر میں آپؐ کی تیمارداری کی جائے تو انہوں نے آپؐ کو اجازت دے دی۔ آپؐ نکلے اور آپؐ دو آدمیوں کے درمیان تھے۔ آپؐ کے پاؤں زمین پر لکیریں ڈالتے جاتے تھے۔ حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ اور ایک اور شخص کے درمیان تھے۔ عبیداللہ نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ (بن عباسؓ) کو جو حضرت عائشہؓ نے کہا تھا, بتایا تو حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے مجھ سے کہا: کیا تم جانتے ہو، وہ دوسرا شخص کون تھا؟ جس کا حضرت عائشہؓ نے نام نہیں لیا۔ کہتے تھے: میں نے کہا: نہیں۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: وہ حضرت علیؓ (بن ابی طالب) ہیں اور حضرت عائشہ نبی ﷺ کی زوجہ بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ جب میرے گھر میں داخل ہوئے اور آپؐ کی بیماری نے آپؐ کو نڈھال کر دیا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: مجھ پر سات مشکیں انڈیلو کہ جن کے بندھن نہ کھولے گئے ہوں۔ شاید میں لوگوں کو وصیت کرسکوں۔ ہم نے آپؐ کو آپؐ کی زوجہ حضرت حفصہؓ کے لگن میں بٹھایا۔ پھر آپؐ پر اُن مشکوں سے پانی ڈالتے گئے یہاں تک کہ آپؐ نے ہمیں اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا, بس کافی ڈال دیا ہے۔ بیان کرتی تھیں: پھر آپؐ لوگوں کے پاس باہر گئے اور نماز پڑھائی اور ان سے مخاطب ہوئے۔
(زہری کہتے تھے:) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے یہ بھی بتایا کہ حضرت عائشہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ پر بیماری کا زور ہوا تو آپؐ اپنی چادر اپنے منہ پر ڈالتے۔ جب گھبراہٹ محسوس کرتے تو اپنے منہ سے اس کو ہٹا دیتے اور اس حالت میں آپؐ فرماتے: یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت اس لئے ہوئی کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ جو انہوں نے کیا ہے اس سے بچنے کے لئے آپؐ نے تنبیہ فرمائی۔
(زہری کہتے تھے:) عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے مجھے یہ بھی بتایا کہ حضرت عائشہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ پر بیماری کا زور ہوا تو آپؐ اپنی چادر اپنے منہ پر ڈالتے۔ جب گھبراہٹ محسوس کرتے تو اپنے منہ سے اس کو ہٹا دیتے اور اس حالت میں آپؐ فرماتے: یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت اس لئے ہوئی کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ جو انہوں نے کیا ہے اس سے بچنے کے لئے آپؐ نے تنبیہ فرمائی۔
عبیداللہ نے مجھے یہ بتایا کہ حضرت عائشہؓ بیان کرتی تھیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے حضرت ابوبکرؓ کی بابت جو بار بار کہا، آپؐ سے اس تکرار کرنے پر صرف اس بات نے مجھے آمادہ کیا کہ میرے دل میں یہ کبھی خیال نہیں آیا کہ آپؐ نے یہ اس لئے فرمایا کہ لوگ آپؐ کے بعد اس شخص کو پسند کریں جو آپؐ کی جگہ پر کھڑا ہو اور نہ میں یہ سمجھتی تھی کہ جو بھی آپؐ کی جگہ پر کھڑا ہوگا، لوگ اس سے بُری فال لیں گے۔ اس لئے میں چاہتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکرؓ کے علاوہ یہ کام سپرد کریں۔ یہ بات حضرت (عبداللہ) بن عمر, حضرت ابوموسیٰ (اشعری) اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم نے بھی نبی ﷺ سے روایت کی۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا, کہا: ابن ہاد نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن قاسم سے مروی ہے۔ انہوں نے اپنے باپ سے, ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ اس حالت میں فوت ہوئے کہ آپؐ میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان تھے۔ سو نبی ﷺ کے بعد کسی کی شدتِ موت مجھے دوبھر محسوس نہیں ہوئی۔
اسحاق (بن راہویہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ بشر بن شعیب بن ابی حمزہ نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری نے مجھے خبر دی - اور یہ حضرت کعب بن مالکؓ اُن تین آدمیوں میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول کی گئی - کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے اُن کو بتایا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے آپؐ کی اس بیماری میں جس میں آپؐ فوت ہوئے, باہر نکلے۔ لوگوں نے پوچھا: ابوالحسن! آج صبح رسول اللہ ﷺ کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: الحمد للہ آج صبح اچھے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ نے اُن کا ہاتھ پکڑا اور اُن سے کہنے لگے: اللہ کی قسم! تم تین دن کے بعد ڈنڈے کے غلام ہوگے اور میں بخدا یہ سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ اس بیماری سے عنقریب فوت ہو جائیں گے۔ یہ اس لئے کہ میں عبدالمطلب کے بیٹوں کے موت کے وقت کے چہرے پہچانتا ہوں۔ آؤ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس چلیں اور آپؐ سے پوچھ لیں کہ یہ خلافت کس کے لئے ہوگی؟ اگر تو ہمارے لئے ہوئی تو ہمیں اس کا علم ہو جائے گا اور اگر ہمارے سوا کسی اور کے لئے ہوئی، اس کا بھی علم ہو جائے گا اور وہ ہمارے لئے وصیت کر جائیں گے۔ حضرت علیؓ نے یہ سن کر کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم نے رسول اللہ ﷺ سے یہ پوچھا اور آپؐ نے ہمیں (یہ خلافت) نہ دی تو آپؐ کے بعد لوگ ہمیں کبھی نہ دیں گے اور بخدا! میں تو رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق نہیں پوچھوں گا۔
سعید بن عفیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: لیث (بن سعد) نے مجھ سے بیان کیا, کہا: عقیل نے مجھے بتایا کہ ابن شہاب سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ مسلمان اس اثنا میں کہ سوموار کے دن فجر کی نماز میں تھے اور حضرت ابوبکر ؓ اُن کو نماز پڑھا رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے یکایک حضرت عائشہ ؓ کے حجرے کا پردہ اُٹھایا اور ان کو دیکھا اور وہ نماز کی صفوں میں تھے۔ پھر خوشی سے مسکرائے اور یہ دیکھ کر حضرت ابوبکر ؓ اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے کو ہٹے تاکہ صف میں جا ملیں اور خیال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نماز کے لئے باہر آنا چاہتے ہیں۔ حضرت انس ؓ نے کہا: مسلمان رسول اللہ ﷺ کو دیکھ کر اتنے خوش ہوئے کہ وہ نماز توڑنے کو تھے مگر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اُن کو اشارہ کیا کہ اپنی نماز پوری کریں۔ پھر آپؐ حجرے میں چلے گئے اور پردہ ڈال دیا۔