بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ ازہر (بن سعد سمان) نے مجھے خبر دی کہ (عبداللہ) بن عون نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابراہیم (نخعی) سے, ابراہیم نے اسود (بن یزید) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عائشہؓ کے پاس ذکر کیا گیا کہ نبی ﷺ نے حضرت علیؓ کے لئے وصیت کی تھی۔ وہ کہنے لگیں: یہ کس نے کہا ہے؟ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا اور میں آپؐ کو اپنے سینے کا سہارا دیئے ہوئے تھی۔ آپؐ نے طشت منگوایا۔ پھر ایک طرف جھکے اور فوت ہوگئے۔ میں نہیں سمجھتی کہ آپؐ نے کس طرح علیؓ کے لئے وصیت کی ہے۔
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ مالک بن مغول نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے طلحہ (بن مصرف) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے پوچھا: نبی ﷺ نے وصیت کی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ میں نے پوچھا: پھر لوگوں پر وصیت کیسے فرض کی گئی؟ یا انہیں اس کا حکم دیا گیا؟ انہوں نے کہا: آپؐ نے کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت کی۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ ابوالاحوص (سلام بن سلیم) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے, ابواسحاق نے حضرت عمرو بن حارث سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے نہ کوئی دینار چھوڑا نہ درہم, نہ غلام نہ کوئی لونڈی سوائے اپنی سفید خچر کے جس پر آپؐ سوار ہوا کرتے تھے اور اپنے ہتھیاروں کے اور ایک زمین کے جو آپؐ نے مسافروں کے لئے وقف کر دی تھی۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت (بنانی) سے, ثابت نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب نبی ﷺ پر بیماری سخت ہوگئی تو آپؐ پر غشی طاری ہونے لگی۔ یہ حالت دیکھ کر حضرت فاطمہ علیہا السلام نے کہا: ہائے میرے باپ کی گھبراہٹ۔ یہ سن کر آپؐ نے ان سے کہا: آج کے بعد تمہارے باپ پر کوئی گھبراہٹ نہ ہوگی۔ جب آپؐ فوت ہوگئے تو حضرت فاطمہؓ کہنے لگیں: اے میرے باپ، جو اپنے ربّ کے بلانے پر چلے گئے۔ اے میرے باپ، جن کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہوا۔ اے میرے باپ، جبرائیل کو آپؐ کی وفات کی خبر سناتی ہوں۔ جب آپؐ دفن کئے گئے تو حضرت فاطمہ علیہا السلام کہنے لگیں: انسؓ! تمہیں کیسے گوارا ہوا کہ رسول اللہ ﷺ پر مٹی ڈالو۔
(تشریح)بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا کہ یونس نے کہا: زہری کہتے تھے: سعید بن مسیب نے اہل علم میں سے کئی آدمیوں کے سامنے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں کہ نبی ﷺ جب تندرست تھے، فرمایا کرتے تھے: کوئی نبی نہیں اُٹھایا گیا جب تک اس نے جنت میں اپنے ٹھکانے کو نہیں دیکھ لیا اور اس کو اختیار نہ دے دیا گیا ہو۔ جب بیماری نے آپؐ پر سخت حملہ کیا اور آپؐ کا سر میری ران پر تھا۔ آپؐ پر غشی طاری ہوئی۔ پھر آپؐ کو افاقہ ہوا اور گھر کی چھت کی طرف آپؐ نے ٹکٹکی لگائی اور فرمایا: اے الٰہی رفیق اعلیٰ کے ساتھ۔ میں نے کہا: اب تو آپؐ ہم میں رہنا پسند نہیں کریں گے۔ اور میں سمجھ گئی کہ یہ وہی بات ہے جو آپؐ ہمیں جبکہ آپؐ تندرست تھے, بتایا کرتے تھے۔ فرماتی تھیں: آخری بات جو آپؐ نے کی، یہ تھی: الٰہی رفیق اعلیٰ کے ساتھ۔
(تشریح)ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان (بن عبد الرحمٰن) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے, یحيٰ نے ابو سلمہ (بن عبدالرحمٰن) سے, ابو سلمہ نے حضرت عائشہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ نبی ﷺ مکہ میں دس سال رہے۔ قرآن آپؐ پر اُترتا رہا اور مدینہ میں بھی دس سال رہے۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان (بن عبد الرحمٰن) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن) سے، ابوسلمہ نے حضرت عائشہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ نبی ﷺ مکہ میں دس سال رہے۔ قرآن آپؐ پر اُترتا رہا اور مدینہ میں بھی دس سال رہے۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے, عقیل نے ابن شہاب سے, ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے, عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ جب فوت ہوئے تو آپؐ تریسٹھ (۶۳) برس کے تھے۔ ابن شہاب نے کہا: اور سعید بن مسیب نے بھی مجھے ایسا ہی بتایا۔
(تشریح)قبیصہ (بن عقبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے, اعمش نے ابراہیم (نخعی) سے, ابراہیم نے اسود (بن یزید) سے, اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ فرماتی تھیں: نبی ﷺ جب فوت ہوئے تو آپؐ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع اناج کے عوض رہن تھی۔
(تشریح)ابو عاصم ضحاک بن مخلد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے فضیل بن سلیمان سے روایت کی کہ موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سالم سے، سالم نے اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے حضرت اسامہ (بن زیدؓ) کو سپہ سالار مقرر کیا اور لوگ ان سے متعلق باتیں بنانے لگے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم نے اسامہؓ کی بابت اعتراض کیا ہے بحالیکہ وہ مجھے لوگوں میں سے بہت پیارا ہے۔