بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 38 hadith
حفص بن عمر (حوضی) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اشعث بن سلیم نے مجھے خبر دی، اشعث نے کہا: میں نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے سنا۔ معاویہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے تھے انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے سات باتیں کرنے کا حکم دیا اور سات سے ہی روکا۔ ہمیں سونے کی انگوٹھی، حریر اور دیباج اور استبرق پہننے اور قسی اور ریشمی زین پوش کے استعمال کرنے سے روکا اور ہمیں حکم دیا کہ ہم جنازوں کے ساتھ جائیں، بیمار کی عیادت کریں اور ہر کس و ناکس کو سلامتی کی دعا دیں۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے محمد بن منکدر سے، محمد نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے میں ایک بار بیمار ہوا تو نبی ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ میری عیادت کے لیے پیدل تشریف لائے اور انہوں نے مجھے بے ہوش پایا۔ نبی ﷺ نے وضو کیا۔ پھر اپنے وضو کا پانی مجھ پر ڈالا اور مجھے ہوش آیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ نبی ﷺ ہیں میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنی جائیداد کے متعلق کیا (وصیت) کروں؟ میں اپنی جائیداد کے متعلق کیا فیصلہ کروں آپؐ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا تاوقتیکہ میراث کی آیت نازل ہوئی۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمران ابی بکر سے، عمران نے کہا مجھے عطاء بن ابی رباح نے بتایا۔ عطاء نے کہا مجھے حضرت ابن عباسؓ نے کہا: کیا میں تمہیں ایسی عورت نہ دکھلاؤں جو جنتیوں میں سے ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ضرور۔ انہوں نے کہا: یہ جو سانولی عورت ہے وہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: مجھے مرگی پڑتی ہے اور میں ننگی ہوجاتی ہوں اس لئے آپؐ اللہ سے میرے لئے دعا کریں۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو صبر کرو اور تمہیں جنت ملے گی اور اگر چاہو تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم کو اچھا کردے۔ وہ کہنے لگی: میں صبر کرتی ہوں۔ اس نے کہا: میں ننگی ہوجاتی ہوں۔ آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ میں ننگی نہ ہوا کروں۔ آپؐ نے اس کے لئے دعا کی۔ محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ مخلد (بن یزید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے، (ابن جریج نے کہا) مجھے عطاء (بن ابی رباح) نے بتایا۔ عطاء نے حضرت اُم زُفرؓ کو کعبہ کے پردے کے پاس دیکھا۔ وہ ایک لمبی کالی عورت تھیں۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہمیں بتایا کہ لیث نے ہم سے بیان کیا۔ لیث نے کہا (یزید بن عبداللہ) بن ہاد نے مجھے بتایا۔ عبداللہ نے عمرو سے جو مطلب (بن عبداللہ بن حنطب) کے غلام تھے۔ عمرو نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ حضرت انسؓ نے کہا میں نے نبی ﷺ سے سنا آپؐ فرماتے تھے: اللہ نے فرمایا ہے۔ جب میں اپنے بندے کو اس کی دو پیاری چیزوں سے آزماؤں۔ اور پھر وہ صبر کرے تو میں ان کے بدلے اس کو جنت دوں گا۔ آپؐ کی مراد اس کی دو آنکھیں ہیں۔ (عمرو کی طرح) اس حدیث کو اشعث بن جابر اور ابو ظلال بن ہلال نے بھی حضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے نبی ﷺ سے روایت کیا۔
(تشریح)قتیبہ (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ آپ بیان کرتی ہیں: جب رسول اللہ ﷺ مدینہ میں آئے تو حضرت ابوبکر اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما کو بخار ہو گیا۔ آپ بیان کرتی ہیں۔ میں ان کے پاس گئی۔ میں نے کہا: ابا اب آپ اپنے آپ کو کیسا پاتے ہیں؟ اور بلالؓ تم اپنے تئیں کیسا پاتے ہو؟ کہتی تھیں اور حضرت ابوبکرؓ کی یہ عادت تھی کہ جب ان کو بخار ہوتا تو وہ یہ شعر پڑھتے: ہر آدمی کو جب وہ اپنے گھر والوں میں صبح اٹھتا ہے (تو اس کو سلامتی کی دعا دی جاتی ہے) حالانکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے قریب ہوتی ہے۔ اور بلالؓ کی عادت تھی کہ جب اُن کا بخار اُتر جاتا تو وہ یہ شعر پڑھتے: کاش مجھے معلوم ہو کہ کیا میں وادی (مکہ) میں ایک رات بسر کروں گا جبکہ میرے آس پاس اذخر اور جلیل گھاس ہوں گے اور آیا میں کسی دن مجنہ کے پانی پر بھی پہنچوں گا اور آیا کبھی مجھے شامہ اور طفیل پہاڑ دکھائی دیں گے۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آپؐ کو ان کا یہ حال بتایا۔ آپؐ نے دعا کی: اے اللہ ! ہمیں مکہ کی محبت کی طرح مدینہ کی محبت عطا کر یا اس سے بھی بڑھ کر۔ اے اللہ ! اس کو صحت افزا بنا دے اور ہمارے لئے اس کے مد اور صاع میں برکت دے اور اس کے بخار کو یہاں سے لے جاکر جحفہ میں ڈال دے۔
(تشریح)حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا۔ عاصم نے مجھے خبر دی۔ عاصم نے کہا میں نے ابو عثمان (نہدی) سے سنا۔ وہ حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے تھے کہ نبی ﷺ کی ایک بیٹی نے آپؐ کو بلا بھیجا اور اس وقت وہ اور حضرت سعدؓ اور حضرت اُبّیؓ نبی ﷺ کے پاس تھے۔ وہ سمجھتی تھی کہ میری بیٹی کی موت کا وقت آن پہنچا ہے۔ آپؐ ہمارے پاس آئیں۔ آپؐ نے ان کو سلام کہلا بھیجا اور یہ کہ آپؐ فرماتے ہیں: اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا اور جو اس نے دیا اور ہر شے کی اس کے ہاں ایک میعاد مقرر ہے اس لئے وہ اس کی رضا مندی کو چاہے اور صبر کرے تو انہوں نے آپؐ کو قسم دے کر بلا بھیجا۔ نبی ﷺ اٹھ کر گئے اور ہم بھی گئے اور بچہ اٹھا کر نبی ﷺ کی گود میں رکھا گیا اور اس کا سانس اٹک رہا تھا۔ یہ حال دیکھ کر نبی ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ حضرت سعدؓ نے آپؐ سے کہا: یا رسول اللہ! یہ کیا؟ آپؐ نے فرمایا: یہ رحمت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں میں سے جن کے دلوں میں چاہا ڈال دی اور اللہ اپنے بندوں میں سے انہی پر رحم کرتا ہے جو رحم دل ہوتے ہیں۔
(تشریح)معلی بن اسد نے ہمیں بتایا کہ عبدالعزیز بن مختار نے ہم سے بیان کیا کہ خالد (حذاء) نے ہم سے بیان کیا۔ خالد نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ ایک اعرابی کی عیادت کو گئے کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کی عادت تھی کہ جب کسی بیمار کے ہاں اس کی عیادت کرنے کو جاتے تو آپؐ اس سے کہتے: فکر کی بات نہیں ان شاء اللہ یہ بیماری (اس کے) پاک ہونے کا موجب ہوگی۔ اس گنوار نے کہا: آپؐ نے کہا پاک ہونے کا موجب ہوگی ہرگز نہیں یہ تو ایسا تپ ہے جو سخت جوش مار رہا ہے یا (کہا) ایک بہت بوڑھے شخص پر شدت سے حملہ کر رہا ہے کہ اس کو قبریں ہی دکھا کر چھوڑے گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اچھا پھر ایسا ہی سہی۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ یہودیوں کا ایک لڑکا نبی ﷺ کی خدمت کرتا تھا اور وہ بیمار ہو گیا تو نبی ﷺ اس کے پاس اس کی عیادت کرنے کے لئے آئے آپؐ نے فرمایا: اسلام قبول کرلو اور وہ مسلمان ہوگیا۔ اور سعید بن مسیب نے اپنے باپ سے نقل کیا۔ جب ابوطالب فوت ہونے لگے تو نبی ﷺ ان کے پاس آئے۔
(تشریح)محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ ہشام (بن عروہ) نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا میرے باپ نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی ﷺ کے پاس کچھ لوگ آپؐ کی بیماری میں آپؐ کی عیادت کرنے کے لئے آئے اور آپؐ نے ان کو بیٹھ کر نماز پڑھائی اور وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ آپؐ نے ان کو اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ۔ جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو آپؐ نے فرمایا: امام تو اس لئے ہوتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے سو جب وہ رکوع کرے تم بھی رکوع کرو، جب وہ سر اُٹھائے تم بھی سر اُٹھاؤ، اگر وہ بیٹھے ہوئے نماز پڑھے تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا۔ حمیدی کہتے تھے: یہ حدیث منسوخ ہے کیونکہ نبی ﷺ نے آخری نماز جو پڑھائی تو وہ آپؐ نے بیٹھ کر پڑھائی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے تھے۔
(تشریح)مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ جعید (بن عبدالرحمٰن) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عائشہ بنت سعد سے روایت کی کہ ان کے باپ حضرت سعد (بن ابی وقاصؓ) نے کہا کہ میں مکہ میں نہایت سخت بیمار ہوگیا تو نبی ﷺ میرے پاس میری عیادت کو آئے میں نے کہا: یا نبی اللہ! میں جائیداد چھوڑے جارہا ہوں اور اپنی ایک ہی بیٹی کے سوا میں نے اپنا کوئی وارث نہیں چھوڑا تو کیا میں اپنی جائیداد کی دو تہائی کی وصیت کروں اور ایک تہائی رہنے دوں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: تو کیا آدھی جائیداد کی وصیت کروں اور آدھی رہنے دوں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: تو پھر ایک تہائی کی وصیت کروں اور اس بچی کے لئے دو تہائی چھوڑوں؟ آپؐ نے فرمایا: ایک تہائی اور ایک تہائی بہت ہے۔ پھر آپؐ نے اپنا ہاتھ میری پیشانی پر رکھا پھر اپنا ہاتھ میرے چہرے پر اور میرے پیٹ پر پھیرا اور دعا کی: اے اللہ! سعدؓ کو شفا دے اور اس کی ہجرت کو پورا فرما اور اب بھی جب مجھے خیال آتا ہے میں اپنے جگر پر آپؐ کے ہاتھ کی ٹھنڈک پاتا ہوں۔