بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 7 of 27 hadith
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ہم نے اس حدیث کو عمرو (بن دینار) سے یاد رکھا۔ اُنہوں نے طاؤس سے روایت کی (انہوں نے کہا) کہ میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔ وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: آدمؑ اور موسیٰؑ نے آپس میں جھگڑا کیا۔ موسیٰؑ نے اُن سے کہا: اے آدمؑ ! تم وہی ہمارے باپ ہو نا کہ تم نے ہمیں بدنصیب بنا دیا اور ہمیں جنت سے نکلوایا۔ آدمؑ نے اُن سے کہا: موسیٰؑ! اللہ نے تمہیں اپنے کلام سے مخصوص کیا اور اپنے ہاتھ سے تمہارے لیے احکام لکھے۔ کیا تم مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہو جس کو اللہ نے میرے لیے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے مقدر کر دیا تھا؟ آدمؑ نے موسیٰؑ کو تین بار لاجواب کر دیا۔ سفیان نے کہا: ہم سے ابوزناد نے بھی اسی طرح بیان کیا۔ اُنہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے اِسی طرح روایت بیان کی۔
(تشریح)محمد بن سنان نے ہم سے بیان کیا کہ فلیح نے ہمیں بتایا۔ عبدہ بن ابی لبابہ نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے ورّاد سے روایت کی جو حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے غلام تھے۔ اُنہوں نے کہا: حضرت معاویہ (بن ابی سفیانؓ) نے حضرت مغیرہؓ کو لکھا مجھے وہ دعا لکھ کر بھیجو جو تم نے نبی ﷺ کو نماز کے بعد کرتے سنا تو حضرت مغیرہؓ نے مجھے یہ لکھوایا، کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا، آپؐ نماز کے بعد یہ دعا کیا کرتے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اے اللہ کوئی روکنے والا نہیں جو تو دے اور کوئی دینے والا نہیں جو تو روک دے۔ کسی صاحب حیثیت (مال، حسب و نسب وغیرہ) کو اس کی حیثیت تیرے مقابل پر فائدہ نہیں دے گی۔ اور ابن جریج نے کہا: مجھے عبدہ نے بتایا کہ ورّاد نے بھی اُن کو یہی بتایا۔ پھر اس کے بعد میں حضرت معاویہؓ کے پاس بطور نمائندہ گیا اور میں نے اُن سے سنا کہ وہ لوگوں کو اِسی بات کا حکم دیتے تھے۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے سُمی سے، سُمی نے ابو صالح سے، ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہؓ سے، حضرت ابو ہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: مصیبت کی شدت اور بدبختی اور بدقسمتی اور دشمنوں کی ہنسی سے اللہ کی پناہ مانگتے رہو۔
محمد بن مقاتل ابو الحسن نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں خبر دی۔ موسیٰ نے سالم سے، سالم نے حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی اللہ علیہ وسلم اکثر یوں بھی قسم کھایا کرتے تھے۔ اُس ذات کی قسم ہے جو دلوں کو پھیرنے والا ہے۔
علی بن حفص اور بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا۔ اُن دونوں نے کہا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے زہری سے، زہری نے سالم سے، سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا: میں نے تیرے لیے ایک بات دل میں پوشیدہ رکھی ہے۔ اس نے کہا: دُخ ہی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: چل دور ہو۔ تو اپنے اندازے سے ہرگز نہیں بڑھے گا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اڑا دوں۔ آپؐ نے فرمایا: اسے رہنے دو اگر یہ وہی ہوا تو تم اس کو نہیں مار سکو گے اور اگر وہ نہ ہوا تو اس کے مار ڈالنے میں تمہارے لئے کوئی بھلائی نہیں۔
(تشریح)اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے مجھ سے بیان کیا کہ نضر (بن شمیل) نے ہمیں بتایا۔ داؤد بن ابی فرات نے ہم سے بیان کیا۔ داؤد نے عبداللہ بن بریدہ سے، عبداللہ نے یحيٰ بن یعمر سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اُن کو بتایا کہ اُنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے متعلق پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ ایک عذاب تھا جو اللہ جن پر چاہتا بھیجا کرتا تھا۔ اب اللہ نے اس کو مؤمنوں کے لئے رحمت بنا دیا ہے۔ جو بندہ بھی کسی ایسے شہر میں ہو کہ جس میں یہ طاعون ہو اور وہ اس میں صبر سے اللہ کی رضا مندی چاہتے ہوئے ٹھہرا رہے اس شہر سے نکلے نہیں یقین کرتا ہو کہ اسے صرف وہی مصیبت پہنچے گی جو اللہ نے اس کے لئے مقدر کر دی ہے تو اسے بھی ضرور اتنا ثواب ہوگا جتنا ثواب کہ ایک شہید کو ہوتا ہے۔
(تشریح)ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے جو کہ حازم کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابو اسحاق (سبیعی) سے، ابو اسحاق نے براء بن عازب سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: جنگ خندق کے دن میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپؐ ہمارے ساتھ مٹی ڈھو رہے تھے اور یہ شعر پڑھتے جاتے تھے۔ اللہ کی قسم اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم بھی راہ راست پر نہ آتے۔ اور نہ روزے رکھتے اور نہ نمازیں پڑھتے۔ اس لئے تو ہم پر سکینت نازل فرما۔ اور قدموں کو مضبوط رکھ اگر ہمارا مقابلہ ہو جائے۔ اور مشرکوں نے ہی ہم پر زیادتیاں کی ہیں۔ جب کبھی وہ فتنے کا ارادہ کرتے ہیں ہم انکار کرتے ہیں۔
(تشریح)