بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 27 hadith
ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ سلیمان اعمش نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: میں نے زید بن وہب سے سنا۔ زید نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہم سے بیان کیا اور آپؐ سچے تھے اور سچ ہی آپؐ سے کہا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے ایک کے اجزاء کو ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک اکٹھا کیا جاتا ہے۔ پھر اتنی ہی مدت میں علقہ بنتا ہے۔ پھر اتنی ہی مدت میں مضغہ بنتا ہے۔ پھر اللہ فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کے رزق اور اس کی عمر کے متعلق اور آیا وہ بدبخت ہوگا یا نیک بخت۔ پھر اُس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ اللہ کی قسم تم میں سے کوئی شخص یا کہا کوئی آدمی دوزخیوں کے کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک باع یا کہا ایک ہاتھ فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کا نوشتہ اس پر چل جاتا ہے اور وہ جنتیوں کے کام کرتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے اور کوئی آدمی جنتیوں کے کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ یا دو ہاتھ رہ جاتے ہیں کہ نوشتہ اس پر چل جاتا ہے اور وہ دوزخیوں کے کام کرتا ہے اور دوزخ میں چلا جاتا ہے۔ آدم (راوی) نے بجائے (غَيْرُ ذِرَاعٍ) کے إِلَّا ذِرَاعٌ کہا۔
اُنہوں نے کہا: یا رسول اللہ! بھلا بتلائیں تو سہی جو ایسی حالت میں مر جائے کہ ابھی چھوٹا ہی ہو؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے جو وہ کرنے والے تھے۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ بن ابی بکر بن انس سے، عبیداللہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، حضرت انسؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہے اور وہ کہتا جاتا ہے۔ اے ربّ! اب یہ نطفہ ہے۔ اے ربّ! اب یہ علقہ ہے۔ اے ربّ! اب یہ مضغہ ہے اور اگر اللہ نے چاہا کہ اس کی پیدائش کو مکمل کرے تو وہ فرشتہ پوچھتا ہے۔ اے میرے ربّ! مرد ہو یا عورت، آیا بدبخت ہو یا نیک بخت اور اس کا رزق کیا ہو اور عمر کیا ہو تو اسی طرح اس کی ماں کے پیٹ میں لکھ دیا جاتا ہے۔
(تشریح)آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ یزید رِشک نے ہم سے بیان کیا۔ یزید نے کہا: میں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے سنا۔ وہ حضرت عمران بن حصین ؓ سے بیان کرتے تھے کہ وہ کہتے تھے: ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! کیا جنتیوں کو جہنمیوں سے پہچان لیا جائے گا؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا: پھر عمل کرنے والے کیوں عمل کرتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: ہر ایک اس کے موافق کام کر رہا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا، یا (فرمایا:) جس کے لئے اسے توفیق دی جاتی ہے۔
(تشریح)محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ابوبشر (جعفر بن ابی وحشیہ) سے، ابوبشر نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی ﷺ سے مشرکوں کی اولاد کے متعلق پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے جو وہ کرنے والے تھے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے یونس سے، یونس نے اِبن شہاب سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: اور عطاء بن یزید نے مجھے بتایا کہ اُنہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ سے مشرکوں کی اولاد کے متعلق پوچھا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے جو وہ عمل کرنے والے تھے۔
اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں خبر دی کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا کہ معمر (بن راشد) نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے ہمام (بن منبہ) سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی ایسا بچہ نہیں جو فطرت پر پیدا نہ ہوتا ہو پھر اس کے ماں باپ ہی اس کو یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔ (وہ اسی طرح پیدا کئے جاتے ہیں) جس طرح تم چوپائے سے نسل پیدا کرتے ہو۔ کیا تم ان چوپایوں میں کوئی کن کٹا بھی پاتے ہو؟ تمہی تو اُن کے کان کاٹتے ہو۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا سوال نہ اُٹھائے تا کہ اس کی رکابی بھی اپنی رکابی میں انڈیل لے اور وہ نکاح کر لے کیونکہ اس کے لئے وہی ہے جو اس کے لئے مقدر کیا گیا۔
مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عاصم (بن سلیمان) سے، عاصم نے ابوعثمان سے، ابوعثمان نے حضرت اُسامہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نبی ﷺ کے پاس تھا کہ اتنے میں آپؐ کے پاس آپؐ کی ایک بیٹی کا قاصد آیا کہ اُن کا بیٹا نزع کی حالت میں ہے۔ اور اس وقت آپؐ کے پاس حضرت سعد (بن عبادہؓ)، حضرت اُبَیّ بن کعبؓ اور حضرت معاذ (بن جبلؓ) بیٹھے ہوئے تھے تو آپؐ نے ان کو کہلا بھیجا۔ اللہ ہی کے لئے ہے جو وہ لے اور اللہ ہی کے لئے ہے جو وہ دے۔ ہر چیز کی ایک مدت مقرر ہے اس لئے چاہیے کہ وہ صبر کرے اور اللہ کی رضا مندی حاصل کرے۔
حبان بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ یونس (بن یزید) نے ہمیں خبر دی۔ یونس نے زہری سے، زہری نے کہا: مجھے عبداللہ بن محیریز جمحی نے بتایا کہ حضرت ابو سعید خدریؓ نے انہیں بتایا کہ وہ ایک بار نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ایک انصاری شخص آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! ہمیں قیدی (عورتیں) ملتی ہیں اور ہم مال پسند کرتے ہیں تو آپؐ کی عزل کرنے کے متعلق کیا رائے ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ایسا کرتے ہو ؟ اگر تم ایسا نہ کرو تب بھی تمہیں کچھ حرج نہیں۔ کیونکہ جو جان بھی اللہ نے مقرر کردی ہے کہ وہ پیدا ہو تو وہ ضرور ہو کر رہے گی۔