بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 27 hadith
موسیٰ بن مسعود نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ہمیں مخاطب کرکے ایک ایسی تقریر فرمائی کہ جس میں آپؐ نے کوئی بات بھی نہیں چھوڑی جو اس گھڑی کے قائم ہونے تک ہونے والی تھی مگر آپؐ نے اس کا ذکر کر دیا، اس کو سمجھ گئے جو سمجھ گئے اور اسے نہ سمجھا جنہوں نے نہ سمجھا۔ کسی بات کو میں سمجھتا کہ میں بھول گیا ہوں تو پھر میں اسے پہچان لیتا۔ اسی طرح جس طرح پر کوئی شخص کسی کو پہچانتا ہوتا ہے جب وہ اس سے غائب ہو اور پھر اسے دیکھ کر پہچان لیتا ہے۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابو حمزہ سے، ابو حمزہ نے اعمش سے، اعمش نے سعد بن عبیدہ سے، سعد نے ابو عبدالرحمٰن سُلمی سے، اُنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور آپؐ کے پاس ایک چھڑی تھی جس کو آپؐ زمین پر آہستہ آہستہ مار رہے تھے۔ پھر آپؐ نے سر جھکا لیا اور فرمایا: تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا ٹھکانہ آگ یا جنت میں مقرر نہ کر دیا گیا ہو تو لوگوں میں سے ایک شخص کہنے لگا: یا رسول اللہ ! کیا ہم بھروسہ نہ کریں۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ عمل کئے جاؤ ہر ایک کے لئے آسانی کی گئی ہے پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی: پس جس نے (خدا کی راہ میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا۔
(تشریح)حبان بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے زہری سے، زہری نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم خیبر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کے متعلق جو اسلام کا دعویٰ رکھتا تھا اور اُن لوگوں میں سے تھا جو آپؐ کی معیت میں تھے، فرمایا: یہ شخص دوزخیوں میں سے ہے۔ جب لڑائی شروع ہوئی تو وہ شخص نہایت سختی سے لڑا، اور اُسے بہت زخم لگے جنہوں نے اس کو ہلنے نہ دیا۔ اتنے میں نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! آپؐ نے دیکھا اس شخص کو جس کے متعلق آپؐ نے بتایا تھا کہ وہ جہنمیوں میں سے ہے؟ اللہ کی راہ میں نہایت سختی سے لڑا اور اُسے بہت زخم لگے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: کچھ ہو وہ دوزخیوں میں سے ہے۔ (یہ سن کر) قریب تھا کہ بعض مسلمان شک میں پڑ جاتے۔ ابھی وہ یہی باتیں کر رہا تھا کہ اس شخص نے زخموں کی درد کو محسوس کیا تو اس نے اپنا ہاتھ اپنی ترکش کی طرف جھکا کر اس سے ایک تیر کھینچ لیا اور اس سے خود کشی کر لی۔ یہ دیکھ کر مسلمانوں میں سے کچھ لوگ دوڑتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، کہنے لگے: یا رسول اللہ ! اللہ نے آپؐ کی بات کو سچا کیا۔ فلاں نے خود کشی کر لی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلالؓ اُٹھو اور (لوگوں میں) منادی کرو کہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا مگر مؤمن ہی اور اللہ کبھی بدکار شخص سے بھی اِس دین کی مدد کیا کرتا ہے۔
سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ ابوغسان نے ہمیں بتایا ابوحازم نے مجھ سے بیان کیا، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت کی کہ ایک شخص جو مسلمانوں میں سے تھا اور وہ مسلمانوں کے لئے بہت ہی کار آمد تھا۔ ایک جنگ میں وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلا۔ (مسلمانوں کی طرف سے نہایت خوبی سے لڑ رہا تھا۔) نبیﷺ نے اس کو دیکھا اور فرمایا: جو چاہتا ہو کہ ایسے شخص کو دیکھے جو دوزخیوں میں سے ہے تو وہ اس کو دیکھ لے۔ یہ سن کر لوگوں میں سے ایک شخص اس کے پیچھے ہو لیا اور وہ ایسی حالت میں تھا یعنی تمام لوگوں سے بڑھ کر مشرکوں پر حملہ کر رہا تھا یہاں تک کہ وہ زخمی ہوا۔ اس نے مرنے کی جلدی کی اور تلوار کی نوک اپنی چھاتی کے درمیان رکھی یہاں تک کہ اس کے کندھوں کے درمیان سے پار نکل گئی۔ پھر وہ شخص نبیﷺ کے پاس دوڑتا ہوا آیا، کہنے لگا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: آپؐ نے فلاں کے متعلق فرمایا تھا کہ جو چاہتا ہو کہ دوزخیوں میں سے کسی شخص کو دیکھے تو وہ اس شخص کو دیکھے اور وہ ہم میں اُن لوگوں میں سے تھا جو مسلمانوں میں بڑے کارآمد تھے تو میں نے سمجھا کہ وہ ایسی حالت میں نہیں مرے گیا۔ جب وہ زخمی ہوا اُس نے مرنے کی جلدی کی اور اپنے تئیں مار ڈالا۔ اس پر نبیﷺ نے فرمایا ایک بندہ دوزخیوں کے سے کام کرتا رہتا ہے اور درحقیقت وہ جنتیوں میں سے ہوتا ہے اور (ایک) جنتیوں کے سے کام کرتا رہتا ہے اور درحقیقت وہ دوزخیوں میں سے ہوتا ہے اور عملوں کا اعتبار تو انجام پر ہی ہے۔
(تشریح)ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے منصور (بن معتمر) سے، منصور نے عبداللہ بن مُرہ سے، عبداللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی ﷺ نے منت ماننے سے منع فرمایا۔ اور فرمایا: وہ کچھ بھی پلٹ نہیں سکتی ہاں اس کے ذریعہ سے بخیل سے کچھ نکال لیا جاتا ہے۔
بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے ہمام بن منبہ سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) نذر ابن آدم کے کسی کام نہیں آتی جو میں نے اس کے لئے مقدر نہیں کیا ہوتا۔ (یا نذر ابن آدم کا کوئی ایسا مقصد بر نہیں لاتی جو میں نے مقدر نہیں کیا ہوتا) بلکہ نذر اُسے تقدیر کے ہی حوالے کرتی ہے۔ اور میں نے اس کے لئے اس نذر کو مقدر کیا ہوتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے بخیل سے کچھ نکالوں۔
(تشریح)محمد بن مقاتل ابوالحسن نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ خالد حذاء نے ہمیں خبر دی۔ خالد نے ابوعثمان نہدی سے، نہدی نے حضرت ابوموسیٰؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ ہم جس بلندی پر چڑھتے یا جس بلندی پر پہنچتے یا جس وادی میں اُترتے تو اللہ اکبر کے نعرے سے ہم اپنی آوازیں بلند کرتے۔ حضرت ابوموسیٰؓ کہتے تھے: (یہ دیکھ کر) رسول اللہ ﷺ ہمارے قریب آئے اور فرمایا: لوگو ! اپنے آپ کو سنبھال کر، آرام سے، کیونکہ تم کسی بہرے کو نہیں پکار رہے اور نہ ہی اسے جو غائب ہے۔ تم تو سمیع بصیر کو پکار رہے ہو۔ پھر فرمایا: عبداللہ بن قیس ! کیا میں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ سکھاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے وہ ہے: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ یعنی نہ (بدی سے بچنے کی) طاقت ہے نہ (نیکی کرنے کی) قوت، مگر اللہ ہی کی مدد سے۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ یونس نے ہمیں بتایا۔ یونس نے زہری سے، زہری نے کہا: مجھے ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن) نے بتایا۔ ابوسلمہ نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے، حضرت ابوسعیدؓ نے نبیﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: کوئی بھی ایسا خلیفہ نہیں ہوا کہ جس کے دو قسم کے رازدار نہ ہوں۔ ایک رازدار تو وہ جو اسے بھلائی کا مشورہ دیتے ہیں اور اس پر اُسے آمادہ کرتے ہیں اور ایک رازدار وہ جو اُسے برائی کا مشورہ دیتے ہیں اور اس پر اُسے آمادہ کرتے ہیں اور معصوم وہی ہے جس کو اللہ بچائے۔
(تشریح)محمود بن غیلان نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے (عبداللہ) بن طاؤس سے، ابن طاؤس نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے جو روایت کرتے ہوئے کہا، اس سے بڑھ کر لَمَمْ (گناہ) کے مشابہ میں نے اور کوئی بات نہیں دیکھی کہ اللہ نے ابن آدم کے لئے زنا سے جو اُس کا حصہ ہے مقرر کر دیا اُسے ضرور ہی پالے گا۔ آنکھ کا زنا نظر ہے اور زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس آرزو کرتا ہے اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اِن سب کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب کرتی ہے۔ اور شبابہ (بن سوار) نے کہا: ہمیں ورقا ء (بن عمر) نے ابن طاؤس سے، اُنہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے یہی بتایا۔
(تشریح)حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان )بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ عمرو (بن دینار) نے ہم سے بیان کیا۔ عمرو نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ (یہ جو فرمایا:) اور جو رؤیا ہم نے تجھے دکھائی تھی اسے … ہم نے لوگوں کے لیے صرف امتحان کا ذریعہ بنایا تھا۔ اُنہوں نے کہا: یہ آنکھ کا نظارہ ہے جو رسول اللہ ﷺ کو اس رات دکھایا گیا جس رات کہ آپؐ کو بیت المقدس کی طرف لے جایا گیا اور وہ درخت جسے قرآن میں لعنتی قرار دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا: وہ تھوہر کا درخت ہے۔
(تشریح)