بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 182 hadith
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے، اُنہوں نے معبد بن کعب بن مالک سے، معبد نے حضرت ابوقتادہ بن ربعی انصاریؓ سے روایت کی کہ وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا۔ آپؐ نے فرمایا۔ چھٹکارا پانے والا ہے یا اس سے چھٹکارا ہوا ہے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ چھٹکارا پانے والا یا وہ جس سے چھٹکارا ہوا ہے سے کیا مراد ہے؟ آپؐ نے فرمایا: مؤمن بندہ دنیا کی تکلیف اور اس کے دکھ سے چھٹکارا پاکر اللہ عزّوجل کی رحمت کو سدھارتا ہے اور جو بدکار بندہ ہے اس سے بندے اور ملک اور درخت اور جانور سب چھٹکارا پاتے ہیں۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبد ربہ بن سعید (انصاری) سے، عبد ربہ نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے روایت کی کہ (معبد) بن کعب نے مجھے بتایا۔ معبد نے حضرت ابوقتادہؓ سے، حضرت ابوقتادہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: چھٹکارا پانے والا ہے یا اس سے چھٹکارا ہوا ہے۔ مؤمن آرام پا لیتا ہے۔
حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں۔ دو تو لوٹ آتی ہیں اور ایک اس کے ساتھ رہ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ اس کے گھر والے اس کا مال اور اس کا عمل جاتا ہے۔ اس کے گھر والے اور اس کا مال، یہ تو واپس لوٹ جاتے ہیں اور اس کا عمل رہ جاتا ہے۔
ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو اُس کا ٹھکانا اُس کے سامنے صبح شام پیش کیا جاتا ہے یا تو آگ ہوتی ہے یا جنت اور اُسے کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانا ہے اُس وقت تک کہ تجھے پھر اُٹھایا جائے۔
علی بن جعد نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اعمش سے، اعمش نے مجاہد سے، مجاہد نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ آپؓ بیان کرتی تھیں: نبی ﷺ نے فرمایا: جو مر گئے ہوں ان کو برا نہ کہو کیونکہ وہ اپنے کیے کو پہنچ چکے۔
(تشریح)عبدالعزیز بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: ابراہیم بن سعد نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور عبد الرحمٰن اعرج سے روایت کی کہ اُن دونوں نے ان کو بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے: دو آدمیوں نے ایک دوسرے کو گالیاں دیں۔ ایک شخص مسلمانوں میں سے تھا اور ایک شخص یہودیوں میں سے۔ مسلمان نے کہا: اُس ذات کی قسم ہے جس نے محمدؐ کو تمام قوموں پر چن لیا۔ تو یہودی نے کہا: اُس ذات کی قسم ہے جس نے موسیٰؑ کو تمام قوموں پر چن لیا۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے۔ (یہ سنتے ہی) مسلمان کو غصہ آ گیا اور اُس نے یہودی کے منہ پر تھپڑ مارا۔ تو وہ یہودی رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور جو اپنی اور مسلمان کی سرگزشت تھی، وہ آپؐ کو بتائی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے موسیٰؑ سے بہتر قرار نہ دو یقینًا لوگ قیامت کے روز بے ہوش ہو جائیں گے اور میں وہ پہلا شخص ہوں گا جو ہوش میں آئے گا۔ تو میں کیا دیکھوں گا کہ موسیٰؑ عرش کے کنارے کو تھامے ہوئے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ موسیٰؑ بھی اُن لوگوں میں سے تھے جو بے ہوش تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آئے یا اُن لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ نے مستثنیٰ کیا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ ابو زناد نے ہم سے بیان کیا، اُنہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ نبیﷺ نے فرمایا: لوگ بے ہوش ہوں گے، جب وہ بے ہوش ہوں گے تو میں پہلا ہوں گا جو کھڑا ہوں گا۔ تو کیا دیکھوں گا کہ موسیٰؑ عرش کو تھامے ہوئے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ آیا وہ اُن لوگوں میں تھے جو بے ہوش ہوئے؟ حضرت ابوسعیدؓ نے بھی نبی ﷺ سے اس حدیث کو روایت کیا۔
(تشریح)محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ یونس (بن یزید) نے ہمیں خبر دی۔ یونس نے زہری سے، زہری نے ابو سلمہ سے روایت کی کہ سعید بن مسیب نے مجھ سے بیان کیا، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ اپنی قدرت سے زمین کو سمیٹ لے گا اور آسمان کو لپیٹ لے گا۔ پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں اب زمین کے بادشاہ کہاں ہے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے خالد (بن یزید) سے، خالد نے سعید بن ابی ہلال سے، سعید نے زید بن اسلم سے، زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: قیامت کے روز زمین ایک روٹی (کی طرح ہموار یکساں) ہو جائے گی۔ وہ جبّار ذات اپنے ہاتھ سے اس کو اُلٹ پلٹ کر برابر کر دے گی۔ اُسی طرح جس طرح تم میں سے کوئی سفر میں اپنی روٹی کو اُلٹ پلٹ کر ہموار بنا دیتا ہے۔ تاکہ جنتیوں کے لئے (ایسی) قیام گاہ ہو (جس میں اُن کی تمام کھانے پینے کی ضروریات بافراغت ہوں۔) اتنے میں ایک یہودی شخص آیا، کہنے لگا: ابوالقاسم! رحمٰن آپؐ کو برکت دے کیا میں آپؐ کو نہ بتاؤں کہ قیامت کے روز جنتیوں کے لئے کیا کچھ مہمانی کا سامان ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا: کیوں نہیں ضرور بتاؤ۔ اس نے کہا: زمین روٹی کی طرح ہموار یکساں ہوگی۔ اُسی طرح بتایا جس طرح نبی ﷺ نے فرمایا تھا۔ نبی ﷺ نے ہماری طرف دیکھا اور پھر اتنا ہنسے کہ آپؐ کی داڑھیں دکھائی دیں۔ پھر اس یہودی نے کہا: کیا میں آپؐ کو نہ بتاؤں کہ ان کا سالن کیا ہوگا؟ کہنے لگا: ان کا سالن بالام اور نون ہوگا۔ صحابہ نے کہا: یہ کیا چیزیں ہیں؟ اس نے کہا: بیل اور مچھلی۔ ان دونوں کے کلیجے کے بڑھے ہوئے ٹکڑے سے ستر ہزار آدمی کھائیں گے۔
سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا مجھ سے ابو حازم نے بیان کیا۔ ابو حازم نے کہا: میں نے حضرت سہل بن سعدؓ سے سنا وہ کہتے تھے: میں نے نبی ﷺ سے سنا آپؐ فرماتے تھے: قیامت کے دن لوگوں کو ایسی زمین میں اکٹھا کیا جائے گا جو سفید ہوگی۔ ایسی سفید جو مٹیالے رنگ کی ہوتی ہے جیسے میدے کی روٹی۔ حضرت سہل (بن سعدؓ ) یا اُن کے سوا کسی اور نے کہا: (عفراء سے مراد یہ ہے کہ) اس کے متعلق ابھی کسی کو علم نہیں ہوا۔