بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 182 hadith
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ عبدالعزیز نے ہم سے بیان کیا۔ عبدالعزیز نے حضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: میرے ساتھیوں میں سے کچھ لوگ میرے پاس حوض پر پانی پینے کے لئے آئیں گے اور جب میں اُن کو پہچان لوں گا تو اسی وقت انہیں باوجود میرے نہ چاہنے کے ہٹا دیا جائے گا۔ میں کہوں گا میرے ساتھی ہیں تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نہیں جانتا اِنہوں نے تیرے بعد کیا کچھ نئی نئی بدعتیں کیں۔
سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن مطرف نے ہمیں بتایا۔ ابو حازم نے مجھ سے بیان کیا۔ اُنہوں نے حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: میں حوض (کوثر) پر تمہارا پیش رَو ہوں گا جو میرے پاس آیا اس نے اس سے پیا اور جس نے اس سے پیا اس کے بعد وہ کبھی بھی پیاسا نہ ہوا۔ کچھ لوگ ایسے ہی میرے پاس پینے کے لئے آئیں گے جنہیں میں پہچان لوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے۔ پھر میرے اور ان کے درمیان روک ڈال دی جائے گی۔
ابو حازم نے کہا: نعمان بن ابی عیاش نے مجھ سے سنا اور پوچھا، کیا اس طرح تم نے حضرت سہلؓ سے سنا؟ میں نے کہا: ہاں۔ نعمان نے کہا اور میں حضرت ابو سعید خدریؓ کے متعلق شہادت دیتا ہوں کہ میں نے ان سے (یہ حدیث) سنی وہ اس میں اتنا بڑھاتے تھے کہ میں کہوں گا یہ لوگ مجھ سے تعلق رکھتے ہیں۔ تو کہا جائے گا: تو نہیں جانتا اِنہوں نے تیرے بعد کیا کچھ نئی نئی بدعات کیں۔ میں کہوں گا: وہ شخص مجھ سے دور ہو جائے دور ہو جائے، جس نے میرے بعد ہی (دین کو) بدل دیا۔ حضرت ابنِ عباسؓ نے کہا سُحْقًا کے معنے ہیں دوری۔ سَحِيقٌ جو کہا جاتا ہے اس سے مراد ہے بَعِيدٌ یعنی دوری۔ سَحَقَهُ اور أَسْحَقَهُ کا مطلب ہے اُسے دور کیا۔
احمد بن شبیب بن سعید حبطی نے کہا، میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے یونس سے، یونس نے ابنِ شہاب سے، ابنِ شہاب نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی کہ وہ بیان کرتے تھے نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میرے صحابہ میں سے ایک جماعت میرے پاس آئے گی۔ پھر وہ حوض سے دور کر دیئے جائیں گے۔ میں عرض کروں گا اے میرے رب یہ تو میرے صحابہ ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی چیزیں گھڑ لی تھیں۔ یہ لوگ (دین سے) اُلٹے قدموں واپس لوٹ گئے تھے۔
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا (انہوں نے کہا) ہم سے ابن وہب نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی انہیں ابن شہاب نے انہیں ابن مسیب نے وہ نبی ﷺ کے صحابہ سے روایت کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا حوض پر میرے صحابہ کی ایک جماعت میرے پاس آئے گی۔ پھر انہیں اس سے دور کر دیا جائے گا میں عرض کروں گا میرے ربّ! یہ تو میرے صحابہ ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔ یہ الٹے پاؤں (اسلام سے) واپس لوٹ گئے تھے۔ اور شعیب نے زُہری سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ابو ہریرہؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے تھے کہ اُنہیں الگ کر دیا جائے گا۔ اور عُقَیل نے کہا فَيُحَلَّئُونَ یعنی اُنہیں روک دیا جائے گا۔ اور زبیدی نے کہا: زُہری سے مروی ہے۔ زُہری نے محمد بن علی سے، محمد نے عبید اللہ بن ابی رافع سے، اُنہوں نے حضرت ابو ہریرہؓ سے، اُنہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی۔
ابراہیم بن منذر حِزامی نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد بن فلیح نے ہمیں بتایا۔ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا: ہلال (بن ابی میمونہ) نے مجھے بتایا۔ ہلال نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: میں کھڑا ہی تھا کہ اتنے میں ایک گروہ میرے سامنے آیا۔ جب میں نے اُن کو پہچان لیا تو ایک شخص میرے اور اُن کے درمیان سے نکلا۔ کہنے لگا: ادھر آؤ۔ میں نے کہا: کہاں؟ اُس نے کہا: آگ کی طرف۔ میں نے کہا: بخدا اُنہوں نے کیا کیا ؟ اُس نے کہا: وہ تو تمہارے بعد پیٹھ پھیرتے اُلٹے پاؤں مرتد ہو گئے۔ پھر ایک گروہ میرے سامنے آیا۔ جب میں نے اُن کو پہچان لیا تو ایک شخص میرے اور اُن کے درمیان سے نکلا۔ کہنے لگا: ادھر آؤ۔ میں نے کہا: کہاں؟ اُس نے کہا: آگ کی طرف۔ میں نے کہا: بخدا اُنہوں نے کیا کیا ؟ اُس نے کہا: وہ تو تمہارے بعد پیٹھ پھیرتے اُلٹے پاؤں مرتد ہو گئے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ان میں سے کوئی بچے گا مگر ایسے ہی جیسے کوئی شتر بے مہار بچ نکلے۔
ابراہیم بن منذر نے مجھ سے بیان کیا کہ انس بن عیاض نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبیداللہ (عمری) سے، عبیداللہ نے خبیب (بن عبدالرحمٰن) سے، خبیب نے حفص بن عاصم سے، حفص نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے عبدالملک (بن عمیر) سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت جندبؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبی ﷺ سے سنا آپؐ فرماتے تھے: میں حوض پر تمہارا پیش رَو ہوں گا۔
عمرو بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے یزید (بن ابی حبیب) سے، یزید نے ابوالخیر سے، ابوالخیر نے حضرت عُقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر آئے اور اُحد والوں کا جنازہ اُسی طرح پڑھا جس طرح کہ آپؐ میت کا جنازہ پڑھا کرتے تھے۔ پھر فارغ ہو کر منبر کی طرف لوٹے اور فرمایا: میں تمہارا پیش رو ہوں اور میں تمہارا گواہ ہوں اور بخدا میں اَب بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں یا فرمایا: زمین کی چابیاں دی گئی ہیں اور مجھے بخدا تمہارے متعلق یہ ڈر نہیں کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے مگر تمہارے متعلق یہ ڈر ہے کہ کہیں ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا کی لالچ میں نہ پڑ جاؤ۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حرمی بن عُمارہ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے معبد بن خالد سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت حارثہ بن وہبؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبی ﷺ سے سنا آپؐ نے حوض کا ذکر کیا فرمایا۔ اتنا ہی ہے جتنا مدینہ اور صنعاء کے درمیان فاصلہ ہے۔