بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 182 hadith
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ مہدی (بن میمون) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے غیلان (بن جریر) سے، غیلان نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: تم ایسے کام کرتے رہتے ہو جو تمہاری آنکھوں میں بال سے بھی زیادہ باریک ہوتے ہیں۔ ہم نبی ﷺ کے زمانے میں اُن کو ہلاک کر دینے والے گناہ شمار کیا کرتے تھے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری) نے کہا: مُوبِقَات سے اُن کی مراد ہلاک کرنے والے گناہ ہیں۔
(تشریح)علی بن عیاش الہانی حِمصی نے ہم سے بیان کیا کہ ابو غسان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا ابو حازم نے مجھ سے بیان کیا۔ ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو مشرکوں سے لڑ رہا تھا اور وہ ان مسلمانوں میں سے تھا جو کافروں کے مقابل میں بڑے کارآمد تھے۔ آپؐ نے فرمایا: جو ایسے شخص کو دیکھنا چاہے جو دوزخیوں میں سے ہے تو اِس شخص کو دیکھ لے۔ یہ سن کر ایک شخص اس کے پیچھے ہو لیا اور وہ اس کے پیچھے ہی رہا یہاں تک کہ وہ زخمی ہوگیا اور اس نے مرنے کی جلدی کی اور اپنی تلوار کی نوک کو لیا اور اپنے سینے کے درمیان رکھا اس پر بوجھ ڈالا جس سے وہ اس کے دونوں کندھوں کے درمیان سے پار نکل گئی۔ تب نبی ﷺ نے فرمایا: کوئی بندہ جیسا کہ لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں جنتیوں کے کام کر رہا ہوتا ہے اور حقیقت میں وہ دوزخیوں میں سے ہوتا ہے اور کبھی جیسا کہ لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ دوزخیوں کے سے کام کر رہا ہوتا ہے اور وہ جنتیوں میں سے ہوتا ہے۔ عملوں کا اعتبار ان کے انجام سے ہی ہے۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے کہا: عطاء بن یزید نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ابوسعیدؓ نے اُنہیں بتایا۔ وہ کہتے تھے، کہا گیا، یا رسول اللہ۔ نیز محمد بن یوسف نے کہا کہ اوزاعی نے ہم سے بیان کیا۔ زہری نے ہمیں بتایا، زہری نے عطاء بن یزید لیثی سے، عطاء نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک اعرابی نبی ﷺ کے پاس آیا اور پوچھنے لگا: یا رسول اللہ ! لوگوں میں سے کون سا شخص بہتر ہے؟ آپؐ نے فرمایا: وہ شخص جس نے اپنی جان اور مال سے جہاد کیا اور وہ شخص جو پہاڑوں کی کسی کھوہ میں بیٹھے اپنے ربّ کی عبادت کر رہا ہے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔ (شعیب کی طرح محمد بن ولید) زبیدی اور سلیمان بن کثیر اور نعمان (بن راشد) نے بھی زہری سے روایت کی۔ اور معمر نے زہری سے، زہری نے عطاء سے یا عبیداللہ سے، اُنہوں نے حضرت ابوسعید (خدری ؓ) سے، حضرت ابوسعیدؓ نے نبی ﷺ سے نقل کیا اور یونس اور (عبدالرحمٰن بن خالد) بن مسافر اور یحيٰ بن سعید نے بھی ابن شہاب سے نقل کیا۔ اُنہوں نے عطاء (بن یزید لیثی) سے، عطاء نے نبی ﷺ کے کسی صحابی سے، اُنہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی۔
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ (عبد العزیز) ماجشون نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ (عبد اللہ بن ابی صعصعہ) سے روایت کی کہ اُنہوں نے حضرت ابو سعیدؓ سے سنا۔ حضرت ابو سعیدؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں مسلمان شخص کا بہتر مال بکریاں ہوں گی جنہیں وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کی جگہوں میں ساتھ ساتھ لئے پھرے گا۔ اپنے دین کو فتنوں سے بچاتے ہوئے بھاگتا پھرے گا۔
(تشریح)محمد بن سنان نے ہم سے بیان کیا کہ فلیح بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ ہلال بن علی نے ہم سے بیان کیا۔ ہلال نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امانت ضائع کردی جائے گی تو اس وقت اس گھڑی کا انتظار کرو۔ اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ امانت کیونکر ضائع کی جائے گی؟ آپؐ نے فرمایا: جب حکومت ان لوگوں کے سپرد کی جائے گی جو اس کے اہل نہیں تو اس وقت اس گھڑی کے منتظر رہو۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا، اعمش نے زید بن وہب سے روایت کی کہ حضرت حذیفہ (بن یمانؓ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دو باتیں بتائیں۔ ان میں سے ایک تو میں دیکھ چکا اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں۔ آپؐ نے ہم سے بیان کیا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی تہ میں نازل ہوئی۔ پھر اُنہیں قرآن سے علم ہوا پھر اُنہیں رسول اللہ ﷺ کے نمونہ سے علم ہوا اور آپؐ نے ہمیں اس کے اُٹھائے جانے کے متعلق بتایا۔ فرمایا: آدمی یوں ہی تھوڑا سا سوتا ہے تو امانت اُس کے دل سے سمیٹ لی جاتی ہے اور اس کا اثر خفیف سے نشان کی طرح باقی رہ جاتا ہے۔ پھر وہ دوسری نیند سوتا ہے اور وہ اور سمیٹ لی جاتی ہے تو پھر اس کا نشان چھالے کی طرح رہ جاتا ہے جیسے تم چنگاری اپنے پاؤں پر گراؤ تو ایک چھالا پھول آتا ہے۔ تم اس کو الگ تھلگ باہر نکلے ہوئے دیکھتے ہو اور اس میں کچھ نہیں ہوتا۔ پھر لوگ صبح کو آپس میں خرید و فروخت کرنے لگتے ہیں اور ایک شخص بھی قریب نہیں ہوتا کہ امانت ادا کرے اور پھر کہنے لگتے ہیں کہ فلاں خاندان میں ایک شخص ہے جو دیانت دار ہے اور اس شخص کے متعلق کہتے ہیں کہ کیا ہی عقلمند ہے اور کیا ہی خوش اخلاق ہے اور کیا ہی دلیر ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہوتا اور مجھ پر ایک ایسا زمانہ آچکا ہے کہ میں پروا نہیں کرتا تھا کہ کس شخص سے میں نے خرید و فروخت کا معاملہ کیا ہے۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تو اسلام اس کو روکتا اور اگر نصرانی ہوتا تو یہ خوف اس کو روکے رکھتا کہ کہیں اس کا رئیس (سردار) اسے میرے پاس بھیج دے گا۔ مگر آج یہ حالت ہے کہ میں فلاں فلاں شخص کے سوا کسی سے خرید و فروخت کا معاملہ نہیں کرتا۔ فربری نے کہا ابو جعفر (محمد بن ابی حاتم جو امام بخاری کے منشی تھے) نے کہا: میں نے ابو عبد اللہ (امام بخاری) کو حدیث سنائی تو وہ کہنے لگے میں نے ابو احمد بن عاصم (بلخی) سے سنا وہ کہتے تھے میں نے ابو عبید سے سنا وہ کہتے تھے (عبد الملک بن قریب) اصمعی اور ابو عمرو (بن علاء قاری) وغیرہ نے کہا جذر کا لفظ جو حدیث میں ہے اس کا معنی ہے ہر چیز کی جڑ اور وکت کہتے ہیں ہلکے خفیف داغ کو اور مجل وہ موٹا چھالا جو کام کرنے سے ہتھیلی پر پڑ جاتا ہے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے کہا مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپؐ فرماتے تھے۔ لوگ بھی اونٹوں کی طرح ہیں سو ہوں تو ان میں ایک سواری کا اونٹ بھی تمہیں نہیں ملتا۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے روایت کی کہ مجھے سلمہ بن کہیل نے بتایا۔ اور ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے سلمہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا میں نے حضرت جندب (بن عبداللہ بَجلیؓ) سے سنا وہ کہتے تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا۔ (سلمہ کہتے تھے) اور میں نے اُن کے سوا کسی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اور یہ سن کر میں حضرت جندبؓ کے قریب گیا اور میں نے اُن سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے سنانے کے لئے نیک کام کئے اللہ بھی اس کی شہرت کرے گا اور جس نے دکھاوے کے لئے کام کئے تو اللہ بھی اس کے کاموں کو بطور دکھلاوے کے ہی رکھے گا۔
(تشریح)ہدبہ بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام (بن یحيٰ) نے ہمیں بتایا کہ قتادہ نے ہم سے بیان کیا، حضرت انس بن مالکؓ نے ہمیں بتایا، حضرت انسؓ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک بار میں نبی ﷺ کے ساتھ آپؐ کے پیچھے سوار تھا۔ میرے اور آپؐ کے درمیان کجاوے کی پچھلی لکڑی کے سوا اور کچھ نہ تھا آپؐ نے فرمایا: اے معاذؓ! میں نے کہا حاضر ہوں یا رسول اللہ! اور آپؐ کی خدمت میں ہوں۔ پھر آپؐ تھوڑی دیر چلے پھر فرمایا: معاذؓ! میں نے کہا حاضر ہوں یا رسول اللہ اور آپؐ کی خدمت میں ہوں۔ پھر آپؐ تھوڑی دیر چلے پھر فرمایا: معاذ بن جبلؓ! میں نے کہا یا رسول اللہ حاضر ہوں اور آپؐ کی خدمت میں ہوں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے؟ میں نے کہا، اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر آپؐ تھوڑی دیر چلے اور فرمایا: معاذ بن جبلؓ! میں نے کہا، حاضر ہوں یا رسول اللہ اور آپؐ کی خدمت میں ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے جب وہ اس کے حق کو بجا لائیں ؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ اُن کو سزا نہ دے۔
مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر (بن معاویہ) نے ہمیں بتایا۔ حمید نے ہم سے بیان کیا۔ حمید نے حضرت انس (بن مالک) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ کی ایک اونٹنی تھی۔ (ابوعبداللہ نے) کہا: اور محمد (بن سلام) نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ فزاری اور ابوخالد احمر نے ہمیں خبر دی۔ اُنہوں نے حمید طویل سے، حمید نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا اور وہ ایسی تیز تھی کہ اس سے آگے کوئی اونٹ نہیں نکل سکتا تھا۔ ایک گنوار اپنے ایک جوان اونٹ پر سوار آیا اور وہ اونٹ عضباء سے آگے نکل گیا تو مسلمانوں کو سخت ناگوار گزرا کہ عضباء پیچھے رہ گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا حق ہے کہ جس چیز کو دنیا میں اُٹھاتا ہے اُس کو نیچا بھی دکھاتا ہے۔