بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 172 hadith
ہم سے عبدان نے بیان کیا۔ انہوں نے ابو حمزہ سے، ابو حمزہ نے اعمش سے، اعمش نے مسلم سے، مسلم نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ جب سود کے متعلق سورۃ بقرہ کی آیتیں نازل ہوئیں تو نبی ﷺ مسجد میں باہر آئے اور لوگوں کے سامنے وہ آیتیں پڑھیں۔ پھر آپ نے شراب کی تجارت حرام کی۔
(تشریح)ʿĀʾishah (r.a) related that when the verses of Sūrat al-Baqarah regarding interest were revealed, the Prophet (sa) came out to the mosque and recited them in front of the people. Then, he forbade the trade of wine.
ہم سے احمد بن واقد نے بیان کیا، کہا: حماد نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ثابت سے، ثابت نے ابو رافع سے، ابو رافع نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ ایک عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی یا کہا: ایک مرد۔ اور میرا خیال ہے کہ عورت ہی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے نبی ﷺ کے واقعہ کا ذکر کیا کہ آپ نے اس کی قبر پر نمازِ جنازہ پڑھی۔
(تشریح)Abū Rāfiʿ related from Abū Hurairah (r.a) that a woman, or a man, used to sweep the mosque. Abū Rāfiʿ said: ‘I believe it was a woman.’ He then mentioned the narration of the Prophet (sa) in which he offered the Funeral Prayer at her grave.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: روح اور محمد بن جعفر نے ہمیں بتلایا، انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے محمد بن زیاد سے، محمد بن زیاد نے حضرت ابو ہریرہؓ سے، حضرت ابو ہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپ نے فرمایا کہ کل رات جنوں میں سے ایک عفریت مجھ پر ٹوٹ پڑا، یا ایسا ہی کوئی اور کلمہ (فرمایا) تاکہ میری نماز توڑ دے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دے دیا۔ میں نے چاہا کہ مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے اسے باندھ دوں تاکہ تم صبح اٹھو اور سب اس کو دیکھو۔ پھر مجھے میرے بھائی سلیمان کا قول یاد آیا ’’رب اغفر لی و ہب لی ملکًا۔۔۔ الآیہ‘‘۔ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہت عطا کر جو میرے بعد کسی کو بھی سزاوار نہ ہو۔ روح کہتے تھے کہ آپ نے اسے دھتکار دیا۔
(تشریح)Abū Hurairah (r.a) reported that the Prophet (sa) said: ‘Last night, an ʿifrīt of the jinn suddenly appeared to me – or words to that effect – to interrupt my Prayer, but Allāh enabled me to overpower him. I intended to tie him to one of the pillars of the mosque so that you could all see him in the morning. Then, I remembered the words of my brother Solomon (as): “O my Lord, grant me forgiveness and bestow on me a kingdom that will not suit anyone after me”.’ (Sūrat Ṣād, 38:36). Rawḥ [a narrator] said: ‘So the Prophet (sa) sent him back, humiliated.’
ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: لیث نے ہم سے بیان کیا، کہا: سعید بن ابوسعید نے ہمیں بتلایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ نے نجد کی طرف کچھ سوار بھیجے تو وہ بنو حنیفہ میں سے ایک شخص کو جسے ثمامہ بن اثال کہا جاتا تھا (پکڑ کر) لے آئے اور اُسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے باندھ دیا۔ نبی ﷺ اس کے پاس باہر آئے اور فرمایا: ثمامہ کو چھوڑ دو تو وہ مسجد کے قریب ہی کھجوروں کی طرف چلا گیا اور نہایا۔ پھر وہ مسجد میں آیا اور کہا: میں اقرار کرتا ہوں کہ اللہ کے سوائے کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔
(تشریح)Abū Hurairah (r.a) narrated that the Prophet (sa) sent some horsemen towards Najd. They brought a man called Thumāmah ibn Uthāl from the Banū Ḥanīfah and tied him to one of the pillars of the mosque. The Prophet (sa) came out to him and instructed: ‘Set Thumāmah free!’ He [Thumāmah] went to the date-palm trees near the mosque and bathed. Then, he entered the mosque and said: ‘I bear witness that there is none worthy of worship except Allāh, and I bear witness that Muḥammad (sa) is the Messenger of Allāh.’
ہم سے زکریا بن یحیی نے بیان کیا، کہا: عبدالله بن نمیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔ کہتی تھیں کہ حضرت سعد کو خندق کے دن ہفت اندام میں زخم لگا تو نبی ﷺ نے مسجد میں خیمہ لگایا، تا کہ آپ قریب ہی سے ان کی عیادت کریں اور مسجد میں بنو غفار کا بھی خیمہ تھا۔ تو ریکا یک خون نے ان کو گھبرا دیا جو کہ ان کی طرف بہہ کر آرہا تھا۔ انہوں نے کہا: خیمہ والو! یہ کیا ہے جو تمہاری طرف سے ہمارے پاس آ رہا ہے۔ تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت سعد ہیں۔ ان کا زخم خون سے بہہ رہا ہے اور وہ اسی سے فوت ہوئے۔
(تشریح)ʿĀʾishah (r.a) narrated that on the day of the Battle of the Trench, Saʿd [ibn Muʿādh] (r.a) sustained a wound to the median vein of his arm. The Prophet (sa) set up a tent in the mosque to tend to his wound. There was also a tent in the mosque of the Banū Ghaffār, and they were alarmed at the blood flowing towards them. They said: ‘O people of the tent! What is this coming towards us from your direction?’ It was Saʿd (r.a) whose wound was bleeding, which led to his demise.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے محمد بن عبدالرحمان بن نوفل سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے حضرت زینب بنت ابی سلمہ سے، حضرت زینب نے حضرت ام سلمہؓ سے روایت کی۔ کہتی تھیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے طواف کر لو۔ چنانچہ میں نے طواف کیا اور اس وقت رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ “الطور و کتاب مسطور“ پڑھ رہے تھے۔
(تشریح)Umm Salamah (r.a) narrated: ‘I complained to the Messenger of Allāh (sa) that I was unwell. He said: “Circumambulate [the Kaʿbah] from behind the people, whilst riding.” So, I circumambulated [the Kaʿbah as instructed] and the Messenger of Allāh (sa) was offering Prayer beside it, reciting [the following]: “By the Mount, and by the Book inscribed”.’ (Sūrat al-Ṭūr, 52:2–3).
ہم سے محمد بن منی نے بیان کیا، کہا: معاذ بن ہشام نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے قتادہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم سے حضرت انسؓ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے دو شخص ایک تاریک رات میں نبی ﷺ کے پاس سے نکلے۔ [ان میں سے ایک حضرت عباد بن بشر تھے اور دوسرے میں سمجھتا ہوں حضرت اُسید بن حضیر تھے اور ان کے ساتھ دو چراغ جیسے تھے جو اُن کے سامنے روشنی کر رہے تھے۔ جب وہ دونوں جدا ہوئے تو اُن میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک ایک چراغ ہو گیا آخر وہ اپنے گھر والوں کے پاس پہنچ گئے۔
(تشریح)Anas (r.a) narrated: ‘Two men of the Companions of the Prophet (sa) departed his company one dark night. One of them was ʿAbbād ibn Bishr (r.a) and I believe the second was Usaid ibn Ḥuḍair (r.a), and they had with them two lamp-like lights, illuminating their way ahead. When they separated, each of them was accompanied by one light until he reached his family.’
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا: فلیح نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابونضر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عبید بن حنین سے، عبید نے بسر بن سعید سے، بسر نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے (لوگوں کو) مخاطب کیا اور فرمایا کہ اللہ تعالی نے ایک بندے کو اختیار دیا ہے کہ وہ دنیا کو لے یا اس کو لے جو اللہ کے پاس ہے تو اس نے جو اللہ کے پاس ہے اس کو پسند کیا ہے۔ اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ رو پڑے تو میں نے اپنے دل میں کہا: اس بزرگ کو کون سی بات رُلا رہی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے بندے کو دُنیا یا جو اُس کے پاس ہے پسند کرنے کے متعلق اختیار دیا ہے اور پھر اس نے جو اللہ (عزوجل) کے پاس ہے اسے پسند کر لیا ہے۔ (تو) رسول اللہ ﷺ ہی وہ بندے تھے اور حضرت ابوبکر ہم سے زیادہ علم رکھتے تھے۔ آپ نے فرمایا: ابوبکر مت رو۔ یقیناً تمام لوگوں سے بڑھ کر مجھ پر احسان کرنے والا بلحاظ اپنی رفاقت اور اپنے مال کے ابو بکر ہی ہے۔ اگر میں نے اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو بناتا۔ لیکن اسلام کی برادری اور محبت ہی ہے۔ مسجد میں کوئی دروازہ نہ رہنے دیا جائے، بند کر دیے جائیں، سوائے ابوبکر کے دروازہ کے۔
Abū Saʿīd al-Khudrī (r.a) narrated that the Prophet (sa) addressed the people and said: ‘Indeed, Allāh gave a choice to a servant between this world and that which is with Him. So, he [the servant] preferred that which is with Allāh.’ On hearing this, Abū Bakr (r.a) wept. I [Abū Saʿīd al-Khudrī (r.a)] said to myself: ‘What is making this old man cry, if Allāh has given an option to a servant between this world and what is with Himself, and he [the servant] has chosen that which is with Allāh?’ But the servant was actually the Messenger of Allāh (sa) and Abū Bakr (r.a) understood this better than we did. The Prophet (sa) said: ‘O Abū Bakr! Do not cry. Among the people, the one who has rendered me the most favour by his companionship and property is Abū Bakr. If I were to take a friend from among my followers, it would certainly be Abū Bakr, but the brotherhood of Islām and its love [remains]. No door to the Mosque should be left open, except the door of Abū Bakr.’
ہم سے عبد اللہ بن محمد بعضی نے بیان کیا، کہا: وہب بن جریر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتلایا۔ کہا: میں نے یعلی بن حکیم سے سنا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی اس بیماری میں کہ جس میں آپ فوت ہوئے تھے، باہر آئے۔ آپ نے اپنے سر کو (اپنے) کپڑے سے باندھا ہوا تھا۔ آپ منبر پر بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف اور ستائش کی۔ پھر فرمایا کہ لوگوں میں سے کوئی بھی نہیں جو بلحاظ اپنی جان اور مال کے مجھ پر ابو بکر بن ابو قحافہ سے بڑھ کر احسان کرنے والا ہو۔ اگر میں نے لوگوں میں سے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو ضرور ابو بکر کو ہی خلیل بناتا۔ لیکن اسلام کی دوستی سب سے افضل ہے۔ اس مسجد میں تمام کھڑکیوں کو میری طرف سے بند کر دو سوائے ابو بکر کی کھڑکی کے۔
(تشریح)Ibn ʿAbbās (r.a) narrated that during the illness from which he later passed away, the Prophet (sa) came out with a cloth tied around his head. He sat on the pulpit, praised and glorified Allāh and said: ‘There is no-one among the people who rendered me greater favour by his person and property than Abū Bakr, son of Abū Quḥāfah. If I were to take anyone of the people as a friend, it would certainly be Abū Bakr, but the friendship of Islām is better. Close every entry-window in this mosque except that of Abū Bakr.’
ہم سے ابونعمان اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا۔ وہ دونوں کہتے تھے کہ حماد بن زید نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ نبی مکہ میں آئے اور حضرت عثمان بن طلحہ کو بلایا۔ انہوں نے دروازہ کھولا تو نبی ﷺ اور حضرت بلال اور حضرت اسامہ بن زید اور حضرت عثمان بن طلحہ اندر گئے اور پھر دروازہ بند کر دیا اور آپ اس میں کچھ دیر ٹھہرے۔ پھر نکلے۔ حضرت ابن عمرؓ کہتے تھے: میں جلدی سے آگے بڑھا اور حضرت بلال سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے۔ میں نے کہا: کس جگہ؟ کہا: ان ستونوں کے درمیان۔ حضرت ابن عمرؓ کہتے تھے: مجھ سے رہ گیا کہ میں ان سے پوچھوں کہ آپ نے کتنی رکعتیں نماز پڑھی۔
(تشریح)Ibn ʿUmar (r.a) narrated that the Prophet (sa) arrived in Makkah and summoned ʿUthmān ibn Ṭalḥah (r.a). He opened the door [of the Kaʿbah] and the Prophet (sa), Bilal, Usāmah ibn Zaid and ʿUthmān ibn Ṭalḥah (r.a) entered and then the door was closed. After spending some time inside, they came out. Ibn ʿUmar (r.a) said: ‘I hurried to ask Bilāl (r.a) [what had happened]. He replied: “He prayed in the Kaʿbah.” I enquired as to the location and he replied: “Between the two pillars”.’ Ibn ʿUmar (r.a) said: ‘I failed to ask him how many rakaʿāt the Prophet (sa) prayed.’