بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 172 hadith
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: لیث نے سعید بن ابی سعید سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے کچھ سوار نجد کی طرف بھیجے تو وہ بنو حنیفہ کے ایک آدمی کو (پکڑ کر) لے آئے۔ اسے ثمامہ بن اثال کہتے تھے۔ مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ انہوں نے اس کو باندھ دیا۔
(تشریح)Abū Hurairah (r.a) said: ‘The Messenger of Allāh (sa) sent some horsemen towards Najd and they brought a man from Banī Ḥanīfah called Thumāmah ibn Uthāl whom they tied to one of the pillars of the mosque.’
ہم سے علی بن عبد اللہ بن جعفر بن نجیح مدنی نے بیان کیا، کہا: بیٹی بن سعید (قطان) نے ہم سے بیان کیا، کہا: بعید بن عبدالرحمان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا کہ یزید بن خُصیفہ نے حضرت سائب بن یزید سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا۔ وہ کہتے تھے: میں مسجد میں کھڑا تھا کہ ایک شخص نے مجھے کنکری ماری۔ میں نے (اس کی طرف) نظر اٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت عمر بن خطاب ہیں۔ انہوں نے کہا: جاؤ، ان دونوں کو میرے پاس لے آؤ۔ میں ان دونوں کو لے آیا۔ (حضرت عمر نے کہا: تم دونوں کون ہو؟ یا کہا: تم کہاں سے ہو؟) انہوں نے کہا کہ طائف کے باشندوں میں سے ہیں۔ کہا: اگر تم اس شہر کے باشندے ہوتے تو میں تمہیں سخت سزا دیتا۔ رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں تم اپنی آواز بلند کرتے ہو۔
Al-Sāʾib ibn Yazīd (r.a) narrates: ‘I was standing in the mosque when someone hit me with a pebble. I looked up and saw that it was ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb (r.a). He said: “Go and fetch those two [individuals] for me.” When I brought them to him, he asked: “Who are you?” or “Where are you from?” They replied: “We are from the people of Ṭāʾif.” He said: “If you had been from the people of this town, I would have punished you severely. You are raising your voices in the Mosque of the Messenger of Allāh (sa)”.’
ہم سے احمد (بن صالح) نے بیان کیا، کہا: ابن وہب نے ہم سے بیان کیا، کہا: یونس بن یزید نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عبد الله بن كعب بن مالک نے مجھے بتلایا کہ حضرت کعب بن مالک نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے نبی ﷺ کے زمانہ میں مسجد میں حضرت ابن ابی حدود سے اپنے ایک قرضہ کا جو کہ ان کے ذمہ تھا تقاضا کیا اور ان کی آواز میں اتنی بلند ہوگئیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سن لیں۔ حالانکہ آپ اپنے گھر میں تھے تو آپ ان کی طرف باہر آئے اور اپنی کوٹھڑی کا پردہ ہٹایا اور پکارا: کعب بن مالک! اے کعب! کہا: حاضر یا رسول اللہ! تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اپنے قرضہ سے نصف کم کر دو۔ حضرت کعب نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اٹھو اور اسے ادا کرو۔
(تشریح)Kaʿb ibn Mālik (r.a) related an incident where he asked Ibn Abū Ḥadrad (r.a) to repay a debt that he owed him, in the Mosque itself, during the time of the Messenger of Allāh (sa). Their voices escalated to the point where the Messenger of Allāh (sa) could hear them from his house. He came out, drawing aside the curtain of his room and calling out: ‘O Kaʿb!’ He replied: ‘At your service, O Messenger of Allāh!’ Then, he [the Messenger of Allāh (sa)] gestured with his hand that he should reduce the debt by half. Kaʿb (r.a) said: ‘O Messenger of Allāh, I have reduced it.’ The Messenger of Allāh (sa) said [to Ibn Abū Hadrad (r.a)]: ‘Stand up and pay it.’
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: بشر بن مفضل نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عبید اللہ سے، عبید اللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: ایک شخص نے نبی ﷺ سے پوچھا اور آپ منبر پر تھے کہ رات کی نماز کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ فرمایا: دو دو رکعتیں، اور جب صبح ہونے کا ڈر ہو تو ایک ہی رکعت پڑھ لے۔ یہ رکعت جو اس نے پڑھی ہے اُسے وتر (یعنی طاق) کر دے گی۔ اور حضرت ابن عمرؓ کہا کرتے تھے کہ رات کے وقت اپنی آخری نماز کو طاق رکھو، کیونکہ نبی ﷺ نے اس کا حکم دیا ہے۔
Ibn ʿUmar (r.a) narrated: ‘A man asked the Prophet (sa) while he was on the pulpit: “What do you think about [offering] the Night Prayer?” He replied: “Offer two rakaʿāt in succession. When one fears the [coming of] dawn, he should offer one rakʿah and it will make the Prayer which he offered as witr”.’ Ibn ʿUmar (r.a) used to say: ‘Make witr the last of your Prayer at night, for the Prophet (sa) has enjoined it.’
ہم سے ابو نعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا حماد بن زید نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ خطبہ پڑھ رہے تھے تو اس نے کہا: رات کی نماز کتنی ہو؟ تو آپ نے فرمایا: دو دو (رکعت)، اور جب تمہیں صبح ہونے کا ڈر ہو تو ایک ہی رکعت پڑھو تو جو نماز تم پڑھ چکے ہو۔ یہ رکعت (اس کو) طاق کر دے گی۔ ولید بن کثیر نے کہا: عبید اللہ بن عبد اللہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ابن عمرؓ نے انہیں (اس طرح) بتایا کہ ایک شخص نے نبی ﷺ کو پکارا جبکہ آپ مسجد میں تھے۔
Ibn ʿUmar (r.a) reported: ‘A man came to the Prophet (sa) while he was delivering the sermon and asked: “How should the Night Prayer be offered?” He replied: “Pray two rakaʿāt in succession. When you fear the [coming of] dawn, pray a single rakʿah and it will make the Prayer you have offered as witr”.’ Walīd ibn Kathīr said [in another narration]: ‘ʿUbaid Allāh ibn ʿAbd Allāh said that Ibn ʿUmar (r.a) related to him that a man called out to the Prophet (sa) while he was in the mosque.’
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت کی کہ حضرت عقیل بن ابی طالب کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ نے حضرت ابو واقد لیثی سے روایت کرتے ہوئے ان کو بتلایا کہ وہ کہتے تھے کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ مسجد میں تھے۔ تین شخص سامنے سے آئے۔ دو تو رسول اللہ ﷺ کے پاس سیدھے چلے آئے اور ایک چلا گیا۔ ان دونوں میں سے ایک جو تھا اس نے حلقہ میں خالی جگہ دیکھی اور بیٹھ گیا اور جو دوسرا تھا وہ ان کے پیچھے بیٹھ گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا کہ کیا میں تمہیں تین آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں؟ ان میں سے ایک جو تھا اُس نے اللہ تعالیٰ کے پاس جگہ لی اور اللہ تعالیٰ نے اسے جگہ دی اور جو دوسرا تھا اس نے حیا کی تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے حیا کی اور وہ جو تیسرا تھا اس نے اعراض کیا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے اعراض کیا۔
(تشریح)Abū Wāqid al-Laithī (r.a) narrated that once, the Messenger of Allāh (sa) was in the mosque when three people came in. Two of them approached the Messenger of Allāh (sa) and the third departed. As for one, he noticed an opening [in the circle] and sat down, and as for the second, he sat behind them. When the Messenger of Allāh (sa) finished speaking, he said: ‘Shall I not tell you about these three people? The first sought refuge with Allāh, and Allāh gave him shelter. The second felt shy, and Allāh in turn, was shy of him [i.e. he recognised his shyness and had mercy on him]. The third turned away, so Allāh too turned away from him.’
ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ نے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عباد بن تمیم سے، عباد نے اپنے چچا سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا۔ آپ نے ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھا ہوا تھا۔ اور ابن شہاب سے مروی ہے کہ انہوں نے سعید بن مسیب سے نقل کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عمر اور حضرت عثمان بھی ایسا کیا کرتے تھے۔
(تشریح)ʿAbād ibn Tamīm (r.a) narrated from his paternal uncle that he saw the Messenger of Allāh (sa) lying down on his back in the mosque, with one leg placed over the other. Saʿīd ibn al-Musayyib (r.a) said that ʿUmar and ʿUthmān (r.a) would also do the same.
ہم سے یحیٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتلایا کہ حضرت عائشہ نبی ﷺ کی بیوی کہتی تھیں کہ میرے والدین جب سے میں نے ہوش سنبھالی ہے دین (اسلام) کے پابند تھے۔ اور ہم پر کوئی بھی ایسا دن نہیں گزرا کہ جس میں رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس دن کے دونوں وقتوں میں (یعنی) صبح شام نہ آئے ہوں۔ پھر حضرت ابوبکر کو خیال آیا تو انہوں نے اپنی حویلی کے صحن میں ایک مسجد بنائی اور وہ اس میں نماز پڑھا کرتے تھے اور قرآن مجید بھی پڑھا کرتے تھے۔ ان کے پاس مشرکوں کی عورتیں اور ان کے لڑکے کھڑے ہو جاتے اور ان سے تعجب کرتے اور ان کی طرف دیکھتے رہتے اور حضرت ابوبکر بہت ہی رونے والے آدمی تھے، جب قرآن پڑھتے تو اپنی آنکھوں پر قابو نہ رکھ سکتے تھے، تو اس بات نے مشرکینِ قریش کے بڑے آدمیوں کو گھبرا دیا۔
(تشریح)ʿĀʾishah (r.a), the wife of the Prophet (sa) said: ‘Ever since I have been capable of understanding, my parents have been following the religion [of Islām]. Not a day went by without the Messenger of Allāh (sa) visiting us morning and evening. Then, Abū Bakr (r.a) decided to build a mosque in the courtyard of his house. He would offer Prayer in it and recite the Qurʾān. The women of idolaters and their sons would stand nearby, marvelling and staring at him. Abū Bakr (r.a) was a man who wept profusely. He could not control his tears when reciting the Qurʾān and this agitated the chiefs of the idolaters of Quraish.’
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: ابومعاویہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابو صالح سے، ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپ نے فرمایا: باجماعت نماز پچیس درجے بڑھ کر ہے اس کی اس نماز سے جو وہ اپنے گھر میں پڑھے اور اس نماز سے جو بازار میں پڑھے۔ کیونکہ تم میں سے اگر کوئی جب وضو کرے اور اچھی طرح کرے اور مسجد میں آئے صرف نماز کا ہی ارادہ رکھتا ہو تو جو قدم بھی وہ اُٹھائے گا اللہ اس کی وجہ سے اس کا ایک ایک درجہ بلند کرتا اور اس کا ایک ایک گناہ اُتارتا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو اور جب مسجد کے اندر آجائے تو وہ نماز میں ہوگا جب تک کہ نماز سے روکے رکھے اور جب تک وہ اپنی اس بیٹھنے کی جگہ میں رہے جس میں کہ وہ نماز پڑھتا ہے تو ملائکہ اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں کہ اے اللہ! اسے بخش دے۔ اے اللہ! اس پر رحم کر۔ بشرطیکہ وہ مسجد میں تکلیف نہ دے (یعنی بے وضو نہ ہو جائے)۔
(تشریح)Abū Ḥurairah (r.a) relates that the Prophet (sa) said: ‘Prayer in congregation surpasses Prayer offered alone at home or in the marketplace by twenty-five degrees. When any of you performs ablution and performs it well, and comes to the mosque with the sole intention of offering Prayer, every step he takes raises him a degree and removes a sin, until he enters the mosque. When he enters the mosque, he is considered to be in a state of Prayer as long as it keeps him there and the angels pray for him if he remains in the place that he sits. They say: “O Allāh, forgive him! O Allāh, have mercy on him”, so long as he does not harm anyone; that is, his ablution is nullified.’
حامد بن عمر نے بشر سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ عاصم نے بیان کیا کہ واقد نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عمر سے یا ابن عمرو سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے اپنی انگلیوں کو قینچی کیا۔