بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 172 hadith
ہمیں صلت بن محمد نے بتایا کہ مہدی نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے واصل سے، واصل نے ابو وائل سے، ابو وائل نے حضرت حذیفہ سے روایت کی کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع پورے طور پر نہ کرتا اور نہ سجدے۔ جب وہ اپنی نماز ختم کر چکا تو حضرت حذیفہ نے اُسے کہا: تو نے نماز نہیں پڑھی۔ (ابو وائل) کہتے تھے: میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا: اگر تو مر جائے تو محمد ﷺ کے طریقہ کے سوا (کسی طریقہ پر) مرے گا۔
(تشریح)Abū Wāiʾil narrated from Ḥudhaifah (r.a) that he saw a man not completing his rukūʿ or his sujūd. When he finished his Prayer, Ḥudhaifah (r.a) said to him: ‘You have not prayed.’ He [Abū Wā’il] adds that he thinks he also said: ‘If you were to pass away, you would die while deviating from the Sunnah of Muḥammad (sa).’
اور ہم نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: تا وقتیکہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف نہ کرے وہ اس کے قریب نہ جائے۔
And we asked Jābir ibn ʿAbd Allāh (r.a) and he said: ‘He should not approach his wife [to engage in intercourse with her] before walking between Ṣafā and Marwah.’
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا: بکر بن مصر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے جعفر سے، جعفر نے ہرمز کے بیٹے سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نماز پڑھتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان اتنا فاصلہ رکھتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہوتی اور لیث نے کہا کہ جعفر بن ربیعہ نے بھی مجھے اسی طرح بتایا۔
(تشریح)ʿAbd Allāh ibn Mālik ibn Buḥainah (r.a) narrated: ‘When the Prophet (sa) prayed, he would maintain such a distance between his two hands that the whiteness of his armpits would show.’
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا: ابن مہدی نے ہم سے بیان کیا، کہا: منصور بن سعید نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے میمون بن سیاہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ہماری نماز کی طرح نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرے اور ہمارا ذبح کردہ جانور کھائے۔ پس یہ وہ مسلمان ہے جس کے لیے اللہ کی امان ہے اور اُس کے رسول کی امان ہے۔ سو اللہ سے عہد شکنی مت کرو؛ اُس امان کے متعلق جو اُس نے دی ہے۔
Anas ibn Mālik (r.a) narrated that the Messenger of Allāh (sa) said: ‘Whoever prays as we pray, faces our Qiblah, and eats the meat slaughtered in our way, he is a Muslim under the protection of Allāh and the protection of his Messenger. Therefore, do not betray Allāh regarding his protection.’
ہم سے نعیم نے بیان کیا، کہا: ابن مبارک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے حمید الطویل سے، حمید نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: رسول الله ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے مقابلہ کرتا ہوں تا وقتیکہ وہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کا اقرار نہ کریں۔ اگر وہ اس کا اقرار کر لیں اور ہماری طرح نماز پڑھیں اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کریں اور ہمارا ذبیحہ کھائیں تو پھر اُن کے خون اور اُن کے مال ہمارے لئے حرام قرار دئے گئے ہیں سوائے جہاں حقوق کا تقاضا ہو اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہوگا۔
Anas ibn Mālik (r.a) narrated that the Messenger of Allāh (sa) said: ‘I have been commanded to fight the people until they say: “There is none worthy of worship except Allāh.” If they say it, and pray as we pray, and face our Qiblah, and slaughter as we slaughter [animals for meat], then the violation of their blood and property has been forbidden to us but by due right, and it is Allāh who will hold them to account.’
(اور ) ابن ابی مریم نے کہا کہ بیٹی ( بن ایوب) نے ہمیں بتلایا کہ حمید نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت انس نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ اور ایسا ہی علی بن عبد اللہ نے کہا کہ خالد بن حارث نے ہم سے بیان کیا، کہا: حمید نے ہمیں بتلایا۔ کہا کہ میمون بن سیاہ نے حضرت انس بن مالک سے پوچھا۔ کہا: ابو حمزہ! آدمی کے خون کو اور اس کے مال کو کوئی چیز محفوظ کر دیتی ہے تو انہوں نے کہا: جو شخص یہ اقرار کرے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرے اور ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارا ذبیحہ کھائے پس وہ مسلمان ہے۔ اُس کے لیے وہی حقوق ہیں جو مسلمان کے لیے ہیں اور اس پر وہی ذمہ داریاں ہیں جو مسلمان پر ہیں۔
(تشریح)Ibn Abī Maryam said that Yaḥyá ibn Ayyūb told us that Ḥumaid narrated to us via the Prophet (sa). Further that ʿAlī ibn ʿAbd Allāh said that Khālid ibn al-Ḥārith narrated to us that Ḥumaid narrated that Maimūn ibn Siyāh asked Anas ibn Mālik (r.a): ‘O Abū Ḥamzah, what makes the blood of a person and his wealth sacred?’ He replied: ‘Whoever bears witness that, “There is none worthy of worship except Allāh”, and faces our Qiblah, and prays as we pray, and eats the meat slaughtered in our way, he is a Muslim. He is entitled to the rights of a Muslim and is bound by the obligations of a Muslim.’
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: زہری نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عطاء بن یزید سے، عطاء نے حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تم قضائے حاجت کیلئے جاؤ تو قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ ہی اُس کی طرف پیٹھ کرو۔ بلکہ مشرق کی طرف منہ کرو یا مغرب کی طرف۔ حضرت ابو ایوب کہتے تھے کہ ہم شام آئے تو ہم نے پاخانے قبلہ رُخ بنے ہوئے پائے۔ پس ہم ایک طرف کو مُڑ جاتے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہتے۔ نیز زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے عطاء سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابو ایوب کو نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کرتے سنا۔
(تشریح)Abū Ayyūb al-Anṣārī (r.a) narrated that the Prophet (sa) said: ‘When using the toilet, avoid facing or turning your back to the Qiblah; instead, face towards the east or west.’ Abū Ayyūb (r.a) said: ‘We arrived in Syria and encountered toilets built facing the Qiblah, so we turned away from it [while using the toilet] and asked Allāh the Exalted for forgiveness.’
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عمرو بن دینار نے ہمیں بتلایا۔ کہا: ہم نے حضرت ابن عمر سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا جو بیت اللہ کا طواف عمرہ تو کرے اور صفا اور مروہ کے درمیان طواف نہ کرے تو کیا وہ اپنی بیوی کے پاس آ سکتا ہے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ آئے اور انہوں نے بیت اللہ کا سات بار طواف کیا اور مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی اور صفا اور مروہ کے درمیان طواف کیا۔ اور تمہارے لئے رسول اللہ میں نیک نمونہ ہے۔
ʿAmr ibn Dīnār narrated: ‘We enquired of Ibn ʿUmar (r.a) as to whether a man who has made circuits of the Kaʿbah for ʿUmrah [but is yet to walk between Ṣafā and Marwah] can engage in intercourse with his wife? He said: “The Prophet (sa) came and made seven circuits of the Kaʿbah, then offered two rakaʿāt behind the place of Abraham (as) and walked between Ṣafā and Marwah”, and [he added], “Verily, you have in the Messenger of Allāh (sa) an excellent model” (Sūrat al-Aḥzāb, 33:21).’
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: بیٹی نے سیف یعنی ابن سلیمان سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ انہوں نے کہا: میں نے مجاہد سے سُنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابن عمرؓ کے پاس کوئی آیا اور اُن سے کہنے لگا: یہ رسول اللہ ﷺ کعبے کے اندر گئے ہیں۔ حضرت ابن عمرؓ کہتے تھے: یہ سن کر میں آیا اور نبی ﷺ تو باہر چلے گئے اور میں حضرت بلال کو دونوں دروازوں کے درمیان کھڑا پاتا ہوں تو حضرت بلال سے میں نے پوچھا۔ کہا: کیا نبی ﷺ نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟ کہا: ہاں۔ دو رکعتیں ان دو عمودوں کے درمیان جو تمہارے بائیں طرف کو ہیں جب تم داخل ہو۔ پھر آپ باہر آئے اور کعبہ کے سامنے دو رکعت نماز پڑھی۔
Mujāhid said that someone came to Ibn ʿUmar (r.a) and told him: ‘This is the Messenger of Allāh (sa) who has entered the Kaʿbah.’ Ibn ʿUmar (r.a) said: ‘So I arrived and the Prophet (sa) had left. I saw Bilāl (r.a) standing between the doors. I asked Bilāl (r.a): “Did the Prophet (sa) pray inside the Kaʿbah?” He replied: “Yes, [he offered] two rakaʿāt between the two pillars to the left at the entrance, then he emerged and prayed two rakaʿāt in front of the Kaʿbah”.’
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا: عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج نے عطاء سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ کہا: میں نے حضرت ابن عباس سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ جب نبی ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اُس کے تمام کونوں میں دُعا کی اور نماز نہیں پڑھی جب تک کہ بیت اللہ سے باہر نہیں آئے۔ جب آپ باہر آئے تو آپ نے کعبہ کے سامنے دو رکعت نماز پڑھی اور فرمایا: یہ قبلہ ہے۔
(تشریح)ʿAṭāʾ narrated: ‘I heard Ibn ʿAbbās (r.a) say: “When the Prophet (sa) entered the Kaʿbah, he supplicated [to Allāh] in all of the corners and did not offer Prayer until he came out. When he came out, he prayed two rakaʿāt in front of the Kaʿbah and said: ‘This is the Qiblah’.”’