بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 172 hadith
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا: اسرائیل نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابو اسحاق سے، ابو اسحاق نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے بیت المقدس کی طرف سولہ یا سترہ ماہ نماز پڑھی اور رسول اللہ ﷺ چاہتے تھے کہ کعبہ کی طرف آپ کا منہ ہو تو اللہ نے یہ وحی کی: "ہم دیکھ رہے ہیں کہ آسمان میں تیری توجہ بار بار لوٹ رہی ہے۔" پھر آپ نے کعبہ کی طرف منہ کیا اور لوگوں میں سے نا سمجھوں نے کہا اور وہ یہود تھے کہ ان کے اس قبلہ سے جس پر وہ تھے کس چیز نے انہیں پھیر دیا ہے؟ کہ اللہ ہی کا مشرق اور مغرب ہے۔ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی طرف اُس کی رہنمائی فرماتا ہے۔ اور نبی ﷺ کے ساتھ ایک شخص نے نماز پڑھی، پھر وہ نماز پڑھنے کے بعد نکلا اور انصار کی ایک جماعت کے پاس سے گزرا جو کہ بیت المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے عصر کی نماز پڑھ رہی تھی تو اُس نے کہا کہ وہ شہادت دیتا ہے کہ اُس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ نے کعبہ کی طرف منہ کیا۔ یہ سنتے ہی وہ لوگ ایک طرف کو سرک گئے، اتنا کہ جس سے وہ قبلہ رخ ہو گئے۔
Al-Barāʾ ibn ʿĀzib narrated that the Messenger of Allāh (sa) prayed facing Bait al-Maqdis for a period of 16 or 17 months, longing to face towards the Kaʿbah. So Allāh revealed the verse, ‘Verily, We see you turning your face often to heaven.’ (Sūrat al Baqarah, 2:145). So, he turned towards the Kaʿbah. The foolish among those people, the Jews, said: ‘What has turned them away from their Qiblah which they followed?’ Say, ‘To Allāh belong the East and the West. He guides whomsoever He pleases to the right path.’ (Sūrat al-Baqarah, 2:143). A man prayed with the Prophet (sa) and went out after he had prayed. He passed by some of the Anṣār who were praying ʿAṣr facing Bait al-Maqdis. He testified that he had prayed with the Messenger of Allāh (sa) and that he had turned his face towards the Kaʿbah. Subsequently, those people turned so that they faced towards the Kaʿbah.
ہم سے مسلم نے بیان کیا، کہا: ہشام نے ہم سے بیان کیا، کہا: بیٹی بن ابی کثیر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے محمد بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر جدھر کو اس کا منہ ہوتا نماز پڑھا کرتے تھے۔ جب آپ فرض نماز کا ارادہ فرماتے تو آپ اُترتے اور قبلہ کی طرف منہ کرتے۔
Jābir ibn ʿAbd Allāh narrated that the Messenger of Allāh (sa) would perform Prayer while mounted, regardless of the direction the mount faced. When he wanted to offer the obligatory Prayer, he would dismount and turn to face the Qiblah.
ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا: جریر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے۔ انہوں نے بتایا کہ حضرت عبدالله (بن مسعود) نے کہا کہ نبی ﷺ نے نماز پڑھی۔ ابراہیم کہتے تھے: مجھے معلوم نہیں آیا آپ نے زیادہ پڑھی یا کم پڑھی۔ پس جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ سے کہا گیا: یا رسول اللہ! کیا نماز کے متعلق کوئی بات ہوئی ہے؟ فرمایا: وہ کیا؟ لوگوں نے کہا: آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔ اس پر آپ نے اپنے دونوں پاؤں موڑے اور قبلہ رخ ہوئے اور دو سجدے کیے۔ پھر آپ نے سلام پھیرا۔ جب ہماری طرف منہ کیا تو آپ نے فرمایا: اگر نماز کے متعلق کوئی نئی بات ہوتی تو میں تمہیں اُس سے آگاہ کر دیتا۔ لیکن میں تو تمہاری طرح ہی بشر ہوں۔ بھولتا ہوں جیسا کہ تم بھولتے ہو۔ اس لئے جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو۔ اور اگر تم میں سے کوئی اپنی نماز کے متعلق شک میں پڑ جائے تو چاہئے کہ جو بات زیادہ ٹھیک معلوم ہو وہی اختیار کرے اور اس پر نماز پوری کرے اور پھر سلام پھیرے۔ پھر دو سجدے کرے۔
(تشریح)ʿAbd Allāh [ibn Masʿūd] narrated that the Prophet (sa) offered Prayer – Ibrāhīm said: ‘I do not know whether he [the Prophet (sa)] offered more or less [than required]’ – so when the Prophet (sa) concluded the Prayer with taslīm, he was asked: ‘O Messenger of Allāh, did something change in the Prayer?’ He replied, asking: ‘And what might that be?’ They said: ‘You prayed in such and such a way.’ Hearing this, he turned on his feet, faced the Qiblah, performed two additional prostrations, and then concluded with taslīm. When he turned his face towards us, he said: ‘If anything had changed in the Prayer, I would have told you about it, but I am merely a human like you. I forget just as you forget, so when I forget, remind me, and when one of you is uncertain about his Prayer, he should go by what is correct, and complete it. Then he should perform taslīm, and then perform two prostrations.’
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا: بشیم نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے حمید سے، حمید نے حضرت انس سے روایت کی۔ کہتے تھے: حضرت عمرؓ نے کہا: تین باتوں میں میری رائے میرے رب کے منشاء کے مطابق ہوئی۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اگر ہم مقام ابراہیم کو نماز گاہ بنا لیں تو آیت نازل ہوئی۔ اور پردے کا حکم۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپ اپنی بیویوں کو پردہ کرنے کا حکم دیں۔ کیونکہ ان سے بھلے بھی اور بُرے بھی باتیں کرتے ہیں تو پردے کی آیت نازل ہوئی۔ اور نبی ﷺ کی بیویوں نے بوجہ غیرت آپ کے متعلق ایکہ کیا تو میں نے انہیں کہا: اگر تمہیں آنحضرت ﷺ طلاق دے دیں تو مجھے امید ہے کہ اُن کا رب تم سے بہتر بیویاں آنحضرت ﷺ کو بدلے میں دے گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (عسى رَبُّه۔۔۔الآية) اور ابن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحیی بن ایوب نے ہمیں بتلایا، کہا: حمید نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت انس سے یہ سنا۔
Anas ibn Mālik (r.a) narrated that ʿUmar (r.a) said: ‘My view was in harmony with the will of my Lord in three things. [1] I said: “O Messenger of Allāh, if only we took the Place of Abraham (as) (Maqām Ibrāhīm) as a site of Prayer”, and then it was revealed: “Take the Place of Abraham as a place of Prayer.” (Sūrat al-Baqarah, 2:126). [2] And concerning the verse of Ḥijāb, I said: “O Messenger of Allāh, I wish you commanded your wives to observe Ḥijāb, for indeed the pious and the bad people talk to them.” So, the verse of Ḥijāb was revealed. (Sūrat al-Aḥzāb, 33:60) [3] And when the wives of the Prophet (sa) united in their jealousy over him, I said to them: “It may be that, if he divorces you, his Lord will give him instead wives better than you.” Then this verse was revealed.’ (Sūrat al-Taḥrīm, 66:6). Ḥumaid relates that he heard this from Anas (r.a).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک بن انس نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ بن دینار نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی۔ کہا: ایک بار لوگ مسجدِ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اُن کے پاس ایک آنے والا آیا اور اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ پر اسی رات قرآن نازل کیا گیا ہے اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ کعبہ کو قبلہ بنائیں تو انہوں نے اس کی طرف منہ کر لئے اور ان کے منہ شام کی طرف تھے۔ پھر وہ لوگ کعبہ کی طرف پھر گئے۔
ʿAbd Allāh ibn ʿUmar (r.a) narrated that once the people were offering the Morning Prayer in Qubāʾ when a person came to them and said: ‘Some [revelation] of the Qurʾān has been sent down tonight to the Messenger of Allāh (sa) and he has been commanded to turn towards the Kaʿbah [while offering Prayer], so turn your faces towards it.’ They were facing towards Jerusalem, and so they turned around towards the Kaʿbah.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: بیٹی نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے حکم سے، حکم نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبد اللہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھیں۔ لوگوں نے کہا: کیا نماز میں زیادتی کی گئی ہے؟ آپ نے فرمایا: کیا ہوا؟ تو انہوں نے کہا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ اس پر آپ نے اپنے پاؤں موڑے اور دو سجدے کئے۔
(تشریح)ʿAbd Allāh (r.a) relates that the Prophet (sa) offered the Ẓuhr Prayer with five rakaʿāt. People asked: ‘Has the Prayer been increased?’ He replied: ‘And why would that be?’ They said: ‘You prayed five rakaʿāt.’ Upon hearing this, he sat down and performed two prostrations.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے حمید سے، حمید نے حضرت انس سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے سامنے (دیوار پر) کھنگار دیکھا تو آپ کو اتنا ناگوار معلوم ہوا کہ آپ کے چہرے میں اس کا اثر دکھائی دیا۔ آپ اُٹھے اور اس کو اپنے ہاتھ سے کھرچ ڈالا اور فرمایا: تم میں سے کوئی جب اپنی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے راز و نیاز کی باتیں کر رہا ہوتا ہے۔ یا فرمایا کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لئے تم میں سے کوئی اپنے قبلہ کی طرف نہ تھوکے۔ البتہ اپنی بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے۔ پھر آپ نے اپنی چادر کا کنارہ لیا اور اُس میں تھوکا۔ پھر اُس کو تہہ کر دیا اور فرمایا: یا یوں کر لے۔
Anas (r.a) narrated that the Prophet (sa) noticed some phlegm [on the wall] in the direction of the Qiblah. This sight caused visible irritation on his face. He stood up, scraped it off with his hand and said: ‘Whenever anyone of you stands for his Prayer, he is in communion with his Lord’ – or [he said], ‘his Lord is between him and the Qiblah’ – ‘therefore, none of you should spit towards his Qiblah. Instead, one should spit to his left or beneath their foot.’ Then he took a corner of his cloak, spat on it, folded it over, and remarked: ‘Or one could do this.’
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے قبلہ کی دیوار پر تھوک دیکھا تو اُسے کھرچ دیا۔ پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو چاہیے کہ وہ اپنے منہ کے سامنے نہ تھوکے کیونکہ جب وہ نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کے سامنے ہوتا ہے۔
ʿAbd Allāh ibn ʿUmar narrates that the Prophet (sa) saw some spit on the wall of the Qiblah and scraped it off. Then he turned towards the people and said: ‘When one of you is offering Prayer, he should not spit in front of himself for surely Allāh is in front of him when he prays.’
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشة أم المؤمنین سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے قبلہ کی دیوار پر رینٹھ یا تھوک یا کھنگار دیکھا تو اُسے کھرچ دیا۔
(تشریح)ʿĀʾishah (r.a) narrated that the Prophet (sa) saw some mucus, spit or phlegm on the wall of the Qiblah, so he scraped it off.
ہم سے موسیٰ بن اسمعیل نے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتلایا۔ کہا: ابن شہاب نے حمید بن عبدالرحمن سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابو سعید دونوں نے انہیں بتلایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کی دیوار پر کھنگار دیکھا تو آپ نے ایک کنکری لی اور اسے کھرچ دیا اور فرمایا: اگر تم میں سے کوئی کھنگارے تو اپنے منہ کے سامنے کھنگار نہ پھینکے اور نہ ہی اپنی دائیں طرف اور چاہئے کہ وہ اپنی بائیں طرف یا اپنے بائیں قدم کے نیچے تھو کے۔
(تشریح)