بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 53 hadith
بشر بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سلیمان سے، سلیمان نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جو جھوٹا ہو کر اس غرض سے قسم کھائے کہ کسی شخص کا یا فرمایا کہ اپنے بھائی کا مال مارے تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہوگا اور اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں اس بارہ میں یہ آیت نازل کی ہے: وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی سی پونجی لیتے ہیں … ان کے لیے دردناک عذاب (مقدر) ہے۔ پھر مجھ سے حضرت اشعثؓ ملے۔ انہوں نے پوچھا: آج عبداللہؓ نے تمہیں کیا بتایا تھا۔ میں نے کہا: یہ یہ باتیں۔ تو انہوں نے کہا: میرے ہی متعلق یہ آیت نازل ہوئی تھی۔
(تشریح)اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے چچا ابو سہیل بن مالک سے، اُن کے چچا نے اپنے باپ (مالک بن ابی عامر) سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ایک شخص (ضمام بن ثعلبہؓ) رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ آپؐ سے اسلام کی بابت پوچھ رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ نمازیں رات دن میں پڑھنا۔ تو اس نے کہا: کیا میرے ذمہ ان کے علاوہ اور کوئی نماز بھی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں، سوائے اس کے کہ اپنی مرضی سے کچھ پڑھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان کے مہینے کے روزے بھی رکھنا فرض ہے۔ تو اس نے کہا: کیا میرے لئے اس کے علاوہ کوئی اور روزے بھی ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں، سوائے اس کے کہ تو اپنی مرضی سے روزہ رکھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے زکوٰۃ کا ذکر کیا۔ اس نے کہا: کیا میرے ذمہ اس کے علاوہ کچھ اور بھی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ سوائے اس کے کہ تو اپنی مرضی سے کچھ دے۔ (حضرت طلحہؓ نے) کہا: یہ سن کر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا گیا اور یہ کہتا جا رہا تھا: اللہ کی قسم! میں نہ اس سے زیادہ کروں گا اور نہ کم۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر یہ سچا ہے تو بامراد ہو گیا۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ (قعنبی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے زینب سے، زینب نے حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دیکھو! تم میرے پاس جھگڑے کا فیصلہ کرانے آتے ہو اور ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں زیادہ فصیح ہو۔ سو جس شخص کے لئے میں اس کی بات سے متاثر ہو کر اس کے بھائی کے حق سے کچھ دِلانے کا فیصلہ کر دوں تو وہ نہ لے، کیونکہ میں تو صرف اس کے لئے اس حالت میں ایک آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں گا۔
ابراہیم بن حمزہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح (بن کیسان) سے، صالح نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی، کہا: مجھے ابوسفیان نے بتایا کہ ہرقل نے اس سے کہا: میں نے تم سے پوچھا تھا کہ وہ تمہیں کیا حکم دیتا ہے اور تم نے کہا ہے کہ وہ تمہیں نماز پڑھنے اور سچ بولنے اور بدکاری سے بچنے اور عہد پورا کرنے اور امانت ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ (ہرقل نے) کہا: اور یہی نبی کی صفت ہوتی ہے۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو سہیل نافع بن مالک بن ابی عامر سے، نافع نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: منافق کی نشانی تین باتیں ہیں: جب وہ کوئی بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے۔ اور جب وہ وعدہ کرتا ہے تو پورا نہیں کرتا۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عمرو بن دینار نے مجھے بتایا کہ محمد بن علی (باقر) سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ (انصاری) رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب نبی ﷺ فوت ہوگئے تو حضرت ابوبکرؓ کے پاس حضرت علاء بن حضرمیؓ (بحرین کے حاکم) کی طرف سے مال آیا تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا: جس کسی کا نبی ﷺ کے ذمہ قرض ہو یا آپؐ نے اس سے کچھ وعدہ کیا ہو تو ہمارے پاس آئے۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے: میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپؐ مجھے اتنا اتنا اتنا مال دیں گے اور انہوں نے اپنے ہاتھوں کو پھیلا کر تین بار اس طرح فرمایا۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے: چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے میرے ہاتھ میں پانچ سَو پھر پانچ سَو پھر پانچ سَو گن کر دئیے۔
محمد بن عبدالرحیم نے مجھ سے بیان کیا کہ سعید بن سلیمان نے ہمیں خبر دی۔ مروان بن شجاع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سالم (بن عجلان) افطس سے، سالم نے سعید بن جبیر سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اہل حیرہ میں سے ایک یہودی نے مجھ سے پوچھا: حضرت موسٰیؑ نے ان دو میعادوں میں سے کون سی میعاد پوری کی تھی؟ میں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ میں عرب کے کسی عالم کے پاس جا کر جب تک پوچھ نہ لوں۔ چنانچہ میں آیا اور حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: حضرت موسٰیؑ نے ان میں سے جو زیادہ سے زیادہ اور نہایت پسندیدہ میعاد تھی، وہ پوری کی۔ اللہ کا رسول ﷺ جو کہتا ہے، وہ پورا کرتا ہے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ (بن عبداللہ) بن عتبہ سے، انہوں نے حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اے مسلمانوں کی جماعت! تم اہل کتاب سے کیسے پوچھتے ہو حالانکہ تمہاری وہ کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ پر اتاری ہے۔ اللہ کی نسبت خبر دینے والی جتنی کتابیں ہیں ان سب سے نئی کتاب ہے۔ تم اسے پڑھتے رہو۔ اس میں کچھ خلط مَلط نہیں ہوا اور اللہ تمہیں بتلا چکا ہے کہ اہل کتاب نے جو اللہ نے فرض کیا تھا، اسے بدل دیا ہے اور انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کتاب کو کچھ اور کا اور بنا دیا ہے۔ اور انہوں نے کہا کہ یہ بھی جو انہوں نے خود لکھا تھا اللہ ہی کی طرف سے ہے، تا اس کے ذریعہ سے تھوڑی سی قیمت حاصل کریں۔ کیا وہ علم جو تمہارے پاس آیا ہے پوچھنے کی تمہیں ممانعت نہیں کرتا۔ خبردار! ایسا نہ کرو۔ بخدا ہم نے تو ان میں سے کبھی کوئی شخص نہیں دیکھا کہ جو تم سے اس (وحی) کی بابت پوچھتا ہو جو تم پر نازل کی گئی ہے۔
(تشریح)عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) اعمش نے ہمیں بتایا۔ کہتے تھے: شعبی نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ کہتے تھے: نبی ﷺ نے فرمایا: وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی حدود کے بارے میں مداہنت سے کام لیتا ہو اور وہ جو اُن حدود میں پڑ جاتا ہے؛ اُن کی مثال ان لوگوں کی سی ہے جنہوں نے ایک جہاز میں جگہ لینے کے لئے قرعہ ڈالا۔ ان میں سے کچھ لوگ اس کے حصہ زیریں میں رہے اور کچھ اس کے بالائی حصہ میں۔ پھر وہ لوگ جو اس کے حصہ زیریں میں تھے، پانی لینے کے لئے ان لوگوں کے پاس سے گزرتے جو جہاز کے بالائی حصہ میں تھے۔ اس سے ان کو تکلیف ہوتی تو ایک شخص نے کلہاڑی لی اور اس جہاز کے زیریں حصہ میں سوراخ کرنے لگا۔ یہ دیکھ کر وہ آئے اور انہوں نے کہا: تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ اس نے کہا: تم کو میرے آنے جانے سے تکلیف پہنچی ہے اور پانی کے بغیر میرے لئے کوئی چارہ نہیں۔ اب اگر وہ اس کے ہاتھ پکڑیں تو اس کو بھی بچا لیں اور اپنے آپ کو بھی بچا لیں اور اگر اس کو چھوڑ دیں تو اس کو بھی ہلاک کریں گے اور اپنے آپ کو بھی۔
(تشریح)