بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 25 hadith
ابو نعیم نے ہمیں بتایا کہ زکریا نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے عامر (شعبی) سے سنا۔ کہتے تھے: میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ نبیؐ سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: جو شخص اللہ کی حدوں پر قائم ہوا اور وہ شخص جس نے ان حدوں سے تجاوز کیا ان کی مثال ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے ایک کشتی میں قرعہ ڈال کر جگہ بانٹ لی۔ ان میں سے بعض کو اوپر کا درجہ ملا اور بعض کو نیچے کا۔ تو وہ لوگ جو اس کشتی کے نچلے درجہ میں تھے جب پانی لینا چاہتے ان لوگوں کے پاس سے گزرتے جو اُوپر کے درجہ میں تھے۔ پھر انہوں نے کہا: اگر ہم اپنے ہی درجہ میں ایک سوراخ کر لیں اور جو اوپر کے درجہ میں ہیں اُن کو تکلیف نہ دیں (تو بہتر ہوگا۔) اب اگر اُوپر کے درجہ والے انہیں وہ بات جس کا انہوں نے ارادہ کیا ہے، کرنے دیں تو سب کے سب ہلاک ہو جائیں گے اور اگر ان کے ہاتھ پکڑ لیں تو وہ بھی نجات پا جائیں اور دوسرے بھی سب نجات پا جائیں۔
(تشریح)عبدالعزیز بن عبداللہ عامری اُویسی نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) عروہ نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا۔ اور لیث نے بھی کہا: یونس نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اِس قول کے بارے میں پوچھا: وَاِنْ خِفْتُمْ… (حضرت عائشہؓ نے) کہا: میری بہن کے بیٹے! اس آیت میں اس یتیم لڑکی کا ذکر ہے جو اپنے ولی کی نگرانی میں ہو اور وہ ولی اس کی جائیداد میں بھی شریک ہو۔ اس کے ولی کو اس کا مال اور اس کی خوبصورتی پسند ہو اور وہ ولی اس سے شادی کرنا چاہے مگر وہ اس کے مہر میں انصاف نہ کرے۔ اسے اتنا نہ دے جو دوسرا اُس کو دیتا ہو۔ اس لئے ایسے لوگوں کو اس سے نکاح کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ لیکن اگر لوگ ایسی یتیم لڑکیوں سے انصاف کریں اور جو عام رواج میں ان کے لئے اعلیٰ سے اعلیٰ مہر ہوسکتا ہو، اتنا انہیں دے دیں (تو وہ نکاح کرسکتے ہیں اور جو لوگ ایسا نہ کرسکیں) انہیں یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ وہ ان یتیم لڑکیوں کے سوا جو عورتیں انہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلیں۔ عروہ نے کہا: حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: پھر لوگوں نے یہ آیت نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ سے (ایسی لڑکیوں سے نکاح کرنے کی نسبت اس حکم کی) وضاحت چاہی تو اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل کی: اُن عورتوں سے متعلق حکم کی وضاحت چاہتے ہیں … اور تم دل سے چاہتے ہو کہ تم انہی سے نکاح کرو اور اللہ تعالیٰ نے جو یہ ذکر فرمایا ہے: کہ تم پر کتاب میں پڑھا جا چکا ہے … تو اس سے مراد وہ پہلی آیت ہے جس میں فرمایا ہے: اگر تم ڈرو کہ یتیم لڑکیوں کے حق میں تم انصاف نہیں کروگے تو پھر دوسری عورتوں میں سے جو تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلو۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: اور دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: تم دِلی خواہش رکھتے ہو کہ تم انہی سے نکاح کرو۔ اس سے مراد ایسی یتیم لڑکی سے شادی کرنے کی خواہش ہے جو تم میں سے کسی کی نگرانی میں ہو جبکہ وہ مال اور خوبصورتی کم رکھتی ہو تو چونکہ وہ انہیں پسند نہیں کرتے، اس لئے ان یتیم لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرنے سے ان کو منع کیا گیا ہے، جن کے مال اور خوبصورتی کی وجہ سے وہ نکاح کرنے کی خواہش کرتے ہیں، سوائے اس کے کہ ان سے انصاف کریں۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (بن یوسف) نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ہر ایسی چیز میں جس کی تقسیم نہ ہوئی ہو شفعہ کا حق رکھا ہے۔ جب حدیں مقرر ہو جائیں اور راستے علیحدہ علیحدہ نکال دئیے جائیں تو پھر کوئی حق شفعہ نہیں رہتا۔
(تشریح)مسدّد نے ہمیں بتایا کہ عبدالواحد نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ہر ایسی چیز میں جو تقسیم نہ کی گئی ہو حق شفعہ کا فیصلہ فرمایا ہے۔ مگر جب حدیں مقرر ہو جائیں اور راستے الگ الگ قائم کر دئیے جائیں تو پھر کوئی شفعہ نہیں۔
(تشریح)عمرو بن علی (فلاس) نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوعاصم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عثمان یعنی ابن اَسود سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: سلیمان بن ابی مسلم نے مجھے بتایا۔ کہتے تھے: میں نے ابوالمنہال سے اس بیع صرف کے بارے میں پوچھا جو ہاتھوں ہاتھ ہو۔ انہوں نے کہا: میں نے اور میرے ایک شریک نے کوئی چیز کچھ نقد خریدی اور کچھ اُدھار۔ اتنے میں حضرت براء بن عازبؓ ہمارے پاس آئے۔ ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے اور میرے شریک زید بن ارقمؓ نے بھی ایسا کیا تھا اور ہم نے اس کے متعلق نبی ﷺ سے دریافت کیا تو آپؐ نے فرمایا: جو ہاتھوں ہاتھ ہو اسے تو تم لے لو اور جو اُدھار ہوا اُسے چھوڑ دو۔
(تشریح)عمرو بن علی (فلاس) نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوعاصم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عثمان یعنی ابن اَسود سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: سلیمان بن ابی مسلم نے مجھے بتایا۔ کہتے تھے: میں نے ابوالمنہال سے اس بیع صرف کے بارے میں پوچھا جو ہاتھوں ہاتھ ہو۔ انہوں نے کہا: میں نے اور میرے ایک شریک نے کوئی چیز کچھ نقد خریدی اور کچھ اُدھار۔ اتنے میں حضرت براء بن عازبؓ ہمارے پاس آئے۔ ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے اور میرے شریک زید بن ارقمؓ نے بھی ایسا کیا تھا اور ہم نے اس کے متعلق نبی ﷺ سے دریافت کیا تو آپؐ نے فرمایا: جو ہاتھوں ہاتھ ہو اسے تو تم لے لو اور جو اُدھار ہو اُسے چھوڑ دو۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ بن اسماء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے خیبر کی زمین یہودیوں کے حوالہ کر دی کہ وہ اس میں محنت کریں اور اس میں کاشت کریں اور جو اس سے پیدا ہو، اس کا آدھا ان کا ہوگا۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے، یزید نے ابوالخیر سے، ابوالخیر نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں کچھ بکریاں دیں کہ آپؐ کے صحابہ میں ان کو تقسیم کر دیں۔ یہ بکریاں قربانیوں کے لئے تھیں تو ان میں سے ایک سال کا بچہ باقی رہ گیا۔ حضرت عقبہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: اس کی قربانی تم کر لو۔
اصبغ بن فرج نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عبداللہ بن وہب نے مجھے خبر دی، کہا: سعید (بن ابی ایوب) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے زہرہ بن معبد سے، زہرہ نے اپنے دادا عبداللہ بن ہشام سے روایت کی اور انہوں نے نبی ﷺ کا زمانہ پایا تھا۔ ان کی ماں حضرت زینب بنت حمیدؓ ان کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئی۔ (حضرت زینبؓ نے) کہا: یا رسول اللہ! اس بچے سے بیعت لیجئے۔ آپؐ نے فرمایا: وہ چھوٹا ہے۔ آپؐ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لئے دُعا کی۔ اور زہرہ بن معبد سے روایت ہے کہ ان کے دادا عبداللہ بن ہشام ان کو بازار لے کر جاتے اور اناج خریدتے اور حضرت (عبداللہ) بن عمر اور حضرت (عبد اللہ) بن زبیر رضی اللہ عنہم ان سے ملتے اور ان سے کہتے: ہمیں بھی شریک کر لیں کیونکہ نبی ﷺ نے آپؓ کو برکت کی دعا دی ہے۔ چنانچہ وہ ان کو بھی شریک کر لیتے۔ کبھی ایک پورا اُونٹ لدا لدایا ویسا کا ویسا نفع میں پاتے اور اسے گھر بھیج دیتے۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: جب ایک شخص (دوسرے شخص سے کہے) کہ مجھے بھی شریک کر لو اور وہ خاموش رہے تو وہ نصف کا شریک ہو گا۔
(تشریح)اصبغ بن فرج نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عبداللہ بن وہب نے مجھے خبر دی، کہا: سعید (بن ابی ایوب) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے زہرہ بن معبد سے، زہرہ نے اپنے دادا عبداللہ بن ہشام سے روایت کی اور انہوں نے نبی ﷺ کا زمانہ پایا تھا۔ ان کی ماں حضرت زینب بنت حمیدؓ ان کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئی۔ (حضرت زینبؓ نے) کہا: یا رسول اللہ! اس بچے سے بیعت لیجئے۔ آپؐ نے فرمایا: وہ چھوٹا ہے۔ آپؐ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لئے دُعا کی۔ اور زہرہ بن معبد سے روایت ہے کہ ان کے دادا عبداللہ بن ہشام ان کو بازار لے کر جاتے اور اناج خریدتے اور حضرت (عبداللہ) بن عمر اور حضرت (عبد اللہ) بن زبیر رضی اللہ عنہم ان سے ملتے اور ان سے کہتے: ہمیں بھی شریک کر لیں کیونکہ نبی ﷺ نے آپؓ کو برکت کی دعا دی ہے۔ چنانچہ وہ ان کو بھی شریک کر لیتے۔ کبھی ایک پورا اُونٹ لدا لدایا ویسا کا ویسا نفع میں پاتے اور اسے گھر بھیج دیتے۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: جب ایک شخص (دوسرے شخص سے کہے) کہ مجھے بھی شریک کر لو اور وہ خاموش رہے تو وہ نصف کا شریک ہو گا۔
(تشریح)