بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 68 hadith
عبداللہ بن یزید نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سعید بن ابی ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابوالاسود نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ جب فجر کی دو رکعتیں (سنت) پڑھ لیتے تو اپنی دا ہنی کروٹ پر لیٹ جاتے۔
(تشریح)بشر بن حکم نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: سالم ابونضر نے ابوسلمہ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی ﷺ جب فجر کی سنتیں پڑھ چکتے تو اگر میں جاگتی ہوتی تو آپؐ مجھ سے باتیں کرتے، ورنہ لیٹ جاتے۔ یہاں تک کہ آپؐ کو نماز کے متعلق اطلاع دی جاتی۔
قُتَیبہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالرحمن بن ابی الموالی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن منکدر سے، محمد نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما (انصاری) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ہمیں تمام کاموں کے متعلق استخارہ کرنے کی تعلیم دیا کرتے تھے، اسی طرح جس طرح قرآن کریم کی سورۃ کی تعلیم دیتے۔ فرماتے: جب تم میں سے ایک شخص کوئی کام کرنے لگے تو نفل کے طور پر دو رکعتیں پڑھ لے۔ پھر وہ (اس طرح) دعا کرے: اے میرے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے طفیل بہتری چاہتا ہوں اور تیری قدرت کی بدولت طاقت چاہتا ہوں اور تیرے بہت ہی بڑے فضلوں کا تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ تجھ کو قدرت ہے مجھے قدرت نہیں اور تجھ کو علم ہے مجھے علم نہیں اور تو پوشیدہ باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اے میرے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لئے دین میں اور میری روزی میں اور میرے اس کام کے انجام کے لحاظ سے بہتر ہے یا فرمایا: اس وقت یا آئندہ کے لئے بہتر ہے تو مجھے یہ نصیب کر اور اس کو میرے لئے آسان کر دے اور پھر اس میں میرے لئے برکت ڈال اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لئے میرے دین میں اور میری روزی میں اور میرے اس کام کے انجام کے لحاظ سے نقصان دہ ہے یا فرمایا: اس وقت اور آئندہ کے لیے نقصان دہ ہے تو اس کو مجھ سے ہٹا دے اور مجھے بھی اس سے ہٹا دے اور جہاں میرے لئے بھلائی مقدر ہو، وہاں مجھ کو عطا کر۔ پھر مجھے اس پر راضی رکھ اور (دعا میں) اپنے کام کا نام لے۔
مکی بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن سعید سے، عبداللہ نے عامر بن عبداللہ بن زبیر سے، انہوں نے عمرو بن سلیم زرقی سے روایت کی کہ انہوں نے ابو قتادہ بن ربعی انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو جب تک دو رکعت نماز نہ پڑھ لے، نہ بیٹھے۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسحق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، اسحق نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی۔ پھر واپس چلے گئے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: سالم نے مجھے بتایا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دو رکعتیں ظہر سے پہلے اور دو رکعتیں ظہر کے بعد اور دو رکعتیں نماز جمعہ کے بعد اور دو رکعتیں مغرب کے بعد اور دو رکعتیں عشاء کے بعد پڑھیں۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) عمرو بن دینار نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: جب تم میں سے کوئی (مسجد میں) آئے اور امام لوگوں سے مخاطب ہو یا وہ (خطبہ کے لئے) نکل چکا ہو تو چاہیے کہ وہ دو رکعتیں نماز پڑھ لے۔
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: سیف بن سلیمان مکی نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے مجاہد سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس اُن کے گھر میں کسی نے آ کر ان سے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ (تو آگئے) ہیں۔ آپؐ تو کعبہ میں داخل بھی ہوگئے ہیں۔ حضرت عبد اللہؓ کہتے تھے: میں آیا اور کیا دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ (کعبہ سے) نکل آئے ہیں اور حضرت بلالؓ کو دروازہ کے پاس کھڑا پایا۔ میں نے کہا: بلال! (کیا) رسول اللہ ﷺ نے کعبے میں نماز پڑھی ہے؟ حضرت بلالؓ نے جواب دیا: ہاں۔ میں نے پوچھا: کہاں؟ انہوں نے کہا: ان دو ستونوں کے درمیان۔ اس کے بعد باہر آ کر آپؐ نے کعبے کے دروازے کے سامنے دو رکعتیں پڑھیں۔ ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: نبی ﷺ نے مجھے چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کی تاکید فرمائی اور حضرت عتبان بن مالکؓ کہتے تھے کہ نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ صبح کو جبکہ دن کافی چڑھ چکا تھا، میرے پاس آئے اور ہم آپؐ کے پیچھے صفیں باندھ کر کھڑے ہوگئے۔ آپؐ نے دو رکعتیں پڑھائیں۔
(تشریح)ہم سے علی بن عبداللہ (مدینی) نے بیان کیا، کہا: سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابو نضر نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابو سلمہ سے، ابو سلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی ﷺ دو رکعتیں پڑھتے۔ پھر اگر میں جاگتی ہوتی تو آپؐ مجھ سے باتیں کرتے، ورنہ لیٹ جاتے۔ (علی بن مدینی کہتے تھے:) میں نے سفیان سے کہا: بعض یوں روایت کرتے ہیں: فجر کی دو رکعتیں پڑھتے۔ سفیان نے جواب دیا: وہی تو ہیں۔
(تشریح)بیان بن عمرو نے ہمیں بتایا، (کہا:) یحيٰ بن سعید (قطان) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطاء سے، عطاء نے عبید بن عمیر سے، عبید نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ نفلوں میں سے کسی کی اتنی سختی سے پابندی نہیں کرتے تھے جتنی فجر کی دو رکعتوں کی۔
(تشریح)