بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 68 hadith
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے دس رکعتیں یاد رکھی ہیں۔ دو ظہر سے پہلے اور دو اس کے بعد اور دو مغرب کے بعد، یہ اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور دو عشاء کے بعد، یہ بھی اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور دو رکعتیں صبح کی نماز سے پہلے اور یہ وہ وقت تھا کہ اس میں نبی ﷺ کے پاس کوئی بھی نہیں جاتا تھا۔
حضرت حفصہؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ جب مؤذن اذان دیتا اور پو پھٹتی آپؐ دو رکعتیں پڑھتے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ سے مروی ہے۔ (انہوں نے کہا:) ابراہیم بن محمد بن منتشر سے روایت ہے۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی ﷺ چار رکعت ظہر سے پہلے نہیں چھوڑا کرتے تھے اور دو رکعتیں صبح سے پہلے۔
(تشریح)ابو معمر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حسین (معلّم) سے، حسین نے (عبداللہ) بن بریدہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عبداللہ (بن مغفل) مزنی نے مجھے بتایا کہ نبی ﷺ سے مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: مغرب کی نماز سے پہلے بھی پڑھو۔ تیسری بار یوں فرمایا: یہ اس کے لئے ہے جو (پڑھنا) چاہے۔ اس لئے کہ آپؐ ناپسند فرماتے تھے کہ کہیں لوگ اسے سنت (مؤکدہ) نہ قرار دے لیں۔
عبداللہ بن یزید نے ہم سے بیان کیا ، کہا: سعید بن ابی ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: یزید بن ابی حبیب نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے مرثد بن عبداللہ یزنی سے سنا۔ کہتے تھے: میں حضرت عقبہ بن عامر جہنیؓ (صحابی) کے پاس آیا اور میں نے کہا: کیا میں آپ کو ابو تمیم (حضرت عبداللہؓ بن مالک) کی عجیب بات نہ بتائوں؟ مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے ہیں۔ عقبہ نے کہا: ہم بھی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ میں نے کہا: تو اب آپ کو کیا روک ہے؟ انہوں نے جواب دیا: مصروفیت۔
(تشریح)اسحق (بن راہویہ) نے مجھ سے بیان کیا، (کہا:) یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت محمود بن ربیع انصاریؓ نے مجھے بتایا کہ انہیں رسول اللہ ﷺ کا ہوش ہے اور انہیں وہ کلی بھی یاد ہے جو آپؐ نے ان کے منہ پر اس کنوئیں سے لے کر ڈالی؛ جو اُن کے گھر میں تھا۔
حضرت محمودؓ کا خیال ہے کہ انہوں نے حضرت عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ بدر میں موجود تھے۔ کہتے تھے: میں اپنی قوم بنی سالم کو نماز پڑھایا کرتا تھا اور میرے اور ان کے درمیان نالہ تھا۔ جب بارشیں ہوتیں تو ان کی مسجد کی طرف عبور کرکے جانا میرے لئے مشکل ہوتا۔ اس لئے میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپؐ سے عرض کیا کہ میں اپنی بینائی کمزور پاتا ہوں اور وہ نالہ جو میرے اور میری قوم کے درمیان ہے، جب بارشیں آتی ہیں، بہنے لگتا ہے اور میرے لئے وہ عبور کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس لئے میری خواہش ہے کہ آپؐ آئیں اور میرے گھر میں ایسی جگہ نماز پڑھیں جسے میں نماز کی جگہ بنالوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں آئوں گا۔ پھر رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دن چڑھے میرے پاس آئے اور رسول اللہ ﷺ نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ میں نے اجازت دی۔ آپؐ بیٹھے نہیں اور آپؐ نے فرمایا: آپؓ اپنے گھر میں سے کون سی جگہ پسند کرتے ہیں کہ میں وہاں نماز پڑھوں۔ میں نے آپؐ کو اس جگہ کی طرف اشارہ کیا، جہاں میں چاہتا تھا کہ آپؐ نماز پڑھیں۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے اور اللہ اکبر کہا اور ہم نے آپؐ کے پیچھے صف باندھی۔ آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر سلام پھیرا اور جس وقت آپؐ نے سلام پھیرا ہم نے بھی سلام پھیرا اور میں نے آپؐ کو حلیم کھانے کے لئے روک لیا جو آپؐ کے لئے تیار ہو رہا تھا۔ محلہ والوں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں ہیں تو ان میں سے کچھ لوگ بھاگے آئے یہاں تک کہ گھر میں بہت آدمی ہوگئے۔ ان میں سے ایک آدمی نے کہا: مالک (بن دخشن) کہاں ہے؟ میں اسے نہیں دیکھتا۔ تو کسی نے کہا: وہ تو منافق ہے۔ اللہ اور اس کے رسول سے اس کو محبت نہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسا مت کہو۔ کیا تمہیں علم نہیں کہ اس نے لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ کا اقرار کیا ہے، وہ اس (اقرار) سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی چاہتا ہے۔ اس نے کہا: اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ ہم تو بخدا اس کی دوستی اور اس کی باتیں منافقوں ہی کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آگ اس شخص پر حرام کر دی ہے۔ جس نے لا اِلٰہَ کا ایسا اقرار کیا۔ جس سے وہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی چاہتا ہو۔ حضرت محمودؓ (بن ربیع) کہتے تھے: میں نے یہ بات کچھ اور لوگوں سے بیان کی، جن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھی حضرت ابو ایوبؓ (انصاری) بھی تھے، جو اس جنگ میں تھے جس میں وہ ملکِ روم میں فوت ہوئے اور یزید بن معاویہ ان کے سردار تھے تو حضرت ابو ایوبؓ نے میری بات کا انکار کیا اور کہا بخدا میں نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی ایسا کہا ہو جو تم نے بیان کیا ہے۔ یہ بات مجھ پر بہت گراں گزری تو میں نے اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے اوپر منت مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے سلامت رکھا اور اس جنگ سے واپس لوٹا تو یہ بات حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھوں گا۔ بشرطیکہ میں نے ان کی قوم کی مسجد میں ان کو زندہ پایا۔ چنانچہ میں لوٹا اور حج یا عمرہ کا احرام باندھا۔ پھر میں چل پڑا۔ یہاں تک کہ مدینہ آیا اور بنی سالم کے محلہ میں گیا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت عتبانؓ بوڑھے ہوگئے ہیں اور آپؓ کی بینائی جاتی رہی ہے۔ آپؓ اپنی قوم کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جب نماز سے فارغ ہوکر انہوں نے سلام پھیراتو میں نے انہیں سلام کیا اور انہیں بتایا کہ میں کون ہوں۔ پھر میں نے ان سے وہ بات پوچھی تو انہوں نے اس کو اسی طرح بیان کیا، جس طرح کہ پہلی دفعہ مجھ سے بیان کیا تھا۔
(تشریح)عبدالاعلیٰ بن حماد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) وہیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب اور عبیداللہ (بن عمر) سے، انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت (عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے گھروں میں بھی کچھ نمازیں پڑھا کرو اور ان کو قبریں نہ بنائو۔ وہیب کی طرح عبد الوہاب نے بھی ایوب سے یہ حدیث نقل کی۔
(تشریح)