بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 68 hadith
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: مسعر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زیاد (بن علاقہ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت مغیرہؓ کو کہتے سنا کہ نبی ﷺ اتنا کھڑے رہتے (یا کہا:) اتنی دیر تک نماز پڑھتے رہتے کہ آپؐ کے پائوں (یا کہا:) آپؐ کی پنڈلیاں سوج جاتیں۔ آپؐ سے کہا جاتا تو آپؐ فرماتے: کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنوں۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عمرو بن دینار نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن اوس نے ان کو خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو نہایت ہی پسندیدہ نماز حضرت دائود علیہ السلام کی نماز ہے اور اللہ تعالیٰ کو نہایت پسندیدہ روزے حضرت دائود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ وہ آدھی رات تک سوتے اور تہائی رات تک عبادت کرتے اور چھٹے حصے میں سوتے۔ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ (عثمان بن جبلہ) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے اشعث سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ (سلیم بن اسود) سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے مسروق سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی ﷺ کو کونسا کام سب سے زیادہ پسند تھا؟ انہوں نے جواب دیا: وہ جو ہمیشہ ہوتا رہے۔ میں نے کہا: آپؐ کس وقت تہجد کے لئے اٹھتے؟ انہوں نے کہا: جب مرغ کی آواز سنتے تو آپؐ اٹھتے۔ محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوالاحوص (سلام بن سلیم) نے ہمیں بتایا۔ اشعث سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: جب آپؐ مرغ کی آواز سنتے تو اُٹھ کر نماز پڑھتے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ (سعد بن ابراہیم) نے ذکر کیا کہ ابو سلمہ سے مروی ہے۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں تو آپؐ کو سحری کے وقت سوئے ہوئے پاتی، یعنی نبی ﷺ کو۔
(تشریح)یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: روح (بن عبادہ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: سعید (بن ابی عروبہ) نے ہمیں بتایا۔ سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ اور حضرت زید بن ثابتؓ نے سحری کھائی۔ جب دونوں سحری سے فارغ ہوئے تو نبی ﷺ نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور دونوں نے نماز پڑھی۔ (قتادہ کہتے تھے:) ہم نے حضرت انس بن مالکؓ سے پوچھا: سحری اور فجر کی نماز میں کتنا فاصلہ تھا۔ انہوں نے کہا: اتنا جتنا کہ آدمی پچاس آیات پڑھ لے۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابی وائل سے، انہوں نے حضرت عبداللہؓ (بن مسعود) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک رات میں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپؐ اتنا کھڑے رہے کہ میں نے ایک بری بات کا ارادہ کیا۔ ہم نے کہا: آپؓ نے کیا ارادہ کیا؟ جواب دیا کہ میں نے ارادہ کیا کہ بیٹھ جائوں اور نبی ﷺ کو چھوڑ دوں۔
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا ، کہا: خالد بن عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین (بن عبدالرحمن) سے، حصین نے ابو وائل سے، ابو وائل نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ جب تہجد کے لئے اُٹھتے تو مسواک سے دانت رگڑ کر اپنا منہ صاف کرتے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: سالم بن عبداللہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے؟ آپؐ نے فرمایا: دو دو رکعت۔ جب تمہیں صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت سے طاق کر دو۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ نے مجھے بتایا کہ شعبہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: ابوجمرہ نے ہمیں بتایا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کی نماز تیرہ رکعتیں ہوتی، یعنی رات کو۔
اسحق (بن راہویہ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبیداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: اسرائیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحصین سے، ابوحصین نے یحيٰ بن وثاب سے، یحيٰ نے مسروق سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہؓ سے رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: (کبھی) سات رکعتیں اور (کبھی) نو رکعتیں اور (کبھی) گیارہ رکعتیں سوائے فجر کی دو رکعات کے۔