بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 68 hadith
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ پھر جب صبح کو اذان سنتے تو دو ہلکی ہلکی رکعتیں پڑھتے۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، کہا: محمد بن جعفر نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن عبدالرحمن سے، محمد نے اپنی پھوپھی عمرہ سے، عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ… اور ہم سے احمد بن یونس نے بھی بیان کیا، (کہا:) زہیر نے ہم سے بیان کیا (انہوں نے کہا:) یحيٰ بن سعید (انصاری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن عبدالرحمن سے، محمد نے عمرہ سے، عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ یہ دو رکعتیں جو صبح کی نماز سے پہلے ہیں، اتنی ہلکی پڑھا کرتے تھے کہ میں خیال کرتی: آیا آپؐ نے سورہ فاتحہ بھی پڑھی ہے؟
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ بن سعید (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ (عمری) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نافع نے مجھے بتایا کہ حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کے ساتھ دو رکعتیں ظہر سے پہلے اور دو رکعتیں ظہر کے بعد اور دو رکعتیں مغرب کے بعد اور دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں نماز جمعہ کے بعد پڑھیں۔ مغرب اور عشاء کی رکعتیں تو آپؐ اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔
اور میری بہن حفصہؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی ﷺ طلوعِ فجر کے بعد دو ہلکی ہلکی رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور وہ ایسا وقت تھا کہ میں اس میں نبی ﷺ کے پاس نہیں جاتا تھا۔ (عبید اللہ کی طرح) یہ بات کثیر بن فرقد اور ایوب نے بھی نافع سے روایت کی اور ابن ابی زناد نے بھی اس کو موسیٰ بن عقبہ سے بروایت نافع نقل کیا ہے۔ اس میں یہ الفاظ ہیں: عشاء کے بعد اپنے کنبے میں۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے ابوالشعشاء جابر (بن زید) سے سنا۔ کہتے تھے: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آٹھ رکعتیں اور سات رکعتیں جمع کرکے پڑھیں۔ (عمرو کہتے تھے:) میں نے کہا: ابوالشعشاء! میرا خیال ہے۔ آپؐ نے ظہر تو دیر سے اور عصر جلدی پڑھی ہوگی اور عشاء جلدی اور مغرب دیر سے پڑھی ہوگی۔ ابوالشعشاء نے کہا: میں بھی یہی خیال کرتا ہوں۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے توبہ (بن کیسان) سے، توبہ نے موَرّق (بن مشمرج) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا : کیا آپؓ ضحی کی نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ میں نے پوچھا : حضرت عمرؓ ؟ کہا: نہیں۔ میں نے پوچھا: حضرت ابوبکرؓ ؟ کہا: نہیں۔ میں نے پوچھا: نبی ﷺ؟ کہا: میرا خیال ہے نہیں۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ (کہا:) عمرو بن مرہ نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: میں نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے سنا۔ کہتے تھے: ہم سے سوائے حضرت امّ ہانیؓ کے کسی نے بیان نہیں کیا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا۔ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ فتح مکہ کے دن ان کے گھر میں آئے اور آپؐ نے غسل کیا اور آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ میں نے اس سے زیادہ ہلکی نماز کبھی نہیں دیکھی مگر آپؐ پوری طرح رکوع اور سجدہ کرتے تھے۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپؐ نے چاشت کی نماز پڑھی ہو اور میں تو اسے پڑھتی ہوں۔
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) عباس جریری جو ابن فروح ہیں، نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوعثمان نہدی سے، ابوعثمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میرے جانی دوست (آنحضرت ﷺ) نے مجھے تین باتوں کی تاکید فرمائی۔ مرنے تک میں انہیں نہیں چھوڑوں گا۔ ہر مہینہ میں تین دن روزہ ؔرکھنا اور چاشت کی نماز ؔپڑھنا اور وتر ؔپڑھ کر سونا۔
علی بن جعد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے انس بن سیرین سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک انصاریؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ایک انصاری شخص نے نبی ﷺ سے کہا اور وہ بھاری بھرکم تھا، میں آپؐ کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتا۔ پھر اس نے نبی ﷺ کے لئے کھانا تیار کروایا اور آپؐ کو اپنے گھر پر بلایا اور آپؐ کے لئے چٹائی کا ایک ٹکڑا پانی ڈال کر دھویا۔ آپؐ نے اس پر دو رکعتیں پڑھیں اور فلاں (یعنی عبدالحمید) جو کہ فلاں ابن جارود (یعنی ابن منذر) کے بیٹے تھے، نے حضرت انس (بن مالک) رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی ﷺ چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے آپؐ کو سوائے اس دن کے پڑھتے نہیں دیکھا۔
(تشریح)