بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 118 hadith
عمر بن محمد بن حسن اسدی نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ابراہیم بن طہمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن زیاد سے، محمد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجوروں کے پھلوں کی کٹائی کے وقت پختہ کھجوریں لائی جاتیں تو یہ بھی اپنی کھجوریں لاتا اور وہ بھی۔ یہاں تک کہ آپؐ کے پاس کھجوروں کا ڈھیر ہو جاتا اور حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کھجوروں سے کھیلنے لگتے۔ ان میں سے ایک نے کھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی۔ رسول اللہ ﷺ نے اُن کو دیکھ لیا اور ان کے منہ سے وہ کھجور نکال دی اور فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ محمدؐ کی آل زکوٰۃ کا مال نہیں کھاتی۔
(تشریح)حجاج (بن منہال) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبداللہ بن دینار نے مجھے بتایا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ (وہ کہتے تھے) کہ نبی ﷺ نے کھجوروں کو جب تک کہ اُن کی پختگی ظاہر نہ ہو؛ فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے اور حضرت ابن عمرؓ سے جب اُن کی پختگی سے متعلق پوچھا جاتا تو کہتے کہ جب اس کے خراب ہونے کا زمانہ گزر جائے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) لیث نے مجھ سے بیان کیا، (کہا:) خالد بن یزید نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے، عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے پھل بیچنے سے جب تک کہ اُن کی پختگی ظاہر نہ ہو جائے منع فرمایا ہے۔
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے حمید سے، حمید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے پھل بیچنے سے جب تک کہ شوخ رنگ نہ ہو جائیں منع فرمایا۔ حَتَّی تُزْھِیَ کے معنے فرمایا: حَتَّی تَحْمَآرَّ یعنی یہاں تک کہ سرخ ہو جائیں۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ایک گھوڑا بطور صدقہ دیا۔ پھر انہوں نے اسے بکتے ہوئے دیکھا اور خریدنا چاہا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ سے اجازت چاہی۔ آپؐ نے فرمایا: اپنے صدقہ کو واپس نہ لو۔ اس لئے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اگر اسی چیز کو خرید لیتے جس کو وہ صدقہ میں دے چکے ہوتے تو اسے (اپنے پاس) نہیں رکھتے تھے؛ بلکہ ضرور اس کو صدقہ میں دے دیتے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک بن انس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا۔ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: اللہ کی راہ میں میں نے ایک گھوڑا سواری کے لئے دیا۔ جس کے پاس وہ تھا اس نے اس کو خراب کر دیا۔ میں نے اس کو خریدنا چاہا اور میں نے خیال کیا کہ وہ اسے سستا بیچے گا۔ اس لئے میں نے نبی ﷺ سے پوچھا تو آپؐ نے فرمایا: اسے مت خریدو اور اپنے صدقہ کو واپس نہ لو۔ خواہ وہ تجھ کو ایک درہم ہی میں دے۔ کیونکہ اپنے صدقے کو لوٹانے والا ایسا ہی ہے جیسے اپنی قَے چاٹنے والا۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) محمد بن زیاد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لی اور اپنے منہ میں ڈال لی۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: اُخ اُخ۔ تاکہ وہ اسے پھینک دے۔ پھر فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ ہم صدقہ کا مال نہیں کھایا کرتے۔
(تشریح)سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا، (کہا: عبداللہ) بن وہب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ (انہوں نے کہا:) عبیداللہ بن عبداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ نے ایک مری ہوئی بکری دیکھی جو حضرت میمونہ ؓ کی لونڈی کو صدقہ دے دی گئی تھی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: تم نے اس کی کھال سے کیوں فائدہ نہیں اٹھایا؟ انہوں نے کہا: وہ تو مردار تھی۔ آپؐ نے فرمایا: اس کا کھانا ہی حرام ہے۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حکم (بن عتبہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے اسود سے، اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ بریرہؓ کو آزاد کرنے کے لئے خریدنا چاہتی تھیں اور اُس کے مالکوں نے چاہا کہ اس شرط پر کہ اس کے ترکے کے وہ حق دار ہوں گے۔ حضرت عائشہؓ نے نبی ﷺ سے ذکر کیا تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: اسے خرید لو۔ کیونکہ ترکہ تو اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔ کہتی تھیں: نبی ﷺ کے پاس گوشت لایا گیا۔ میں نے کہا: یہ وہ گوشت ہے جو بریرہؓ کو بطور صدقہ دیا گیا ہے تو آپؐ نے فرمایا: اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) یزید بن زُرَیع نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) خالد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حفصہ بنت سیرین سے، حفصہ نے حضرت ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور آپؐ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کوئی شئے ہے؟ حضرت عائشہؓ نے کہا: کچھ نہیں سوائے گوشت کے جو ہمیں نُسَیبہ نے اس بکری سے بھیجا ہے جو آپؐ نے اس کو صدقے کے مال سے دی تھی۔ آپؐ نے فرمایا: وہ اپنے ٹھکانے پہنچ چکی ہے۔