بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 118 hadith
اسحاق بن یزید نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعیب بن اسحاق نے ہمیں بتایا۔ اوزاعی نے کہا: یحيٰ بن ابی کثیر نے مجھے بتایا کہ عمرو بن یحيٰ بن عمارہ نے ان سے بیان کیا۔ ان کے باپ یحيٰ بن عمارہ بن ابی حسن سے مروی ہے۔ انہوں نے حضرت ابوسعید (خدری) رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ نے فرمایا: پانچ اوقیہ سے کم (چاندی) میں صدقہ نہیں اور نہ پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ ہے اور نہ پانچ وسق (کھجور) سے کم میں زکوٰۃ ہے۔
علی (بن ابی ہاشم) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ہشیم سے سنا۔ (ہشیم نے کہا:) حصین نے ہمیں بتایا کہ زید بن وہب سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں (مقام) ربذہ سے گزرا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ وہاں ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا: آپؓ کا ڈیرہ یہاں کس نے لگا دیا ہے؟ کہنے لگے: میں شام میں تھا۔ میرا اور معاویہؓ کا اس آیت سے متعلق اختلاف ہوگیا وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُوْنَھَا فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ۔ {اور جو لوگ سونا اور چاندی ذخیرہ کرتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے} معاویہ نے کہا: یہ اہل کتاب کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ میں نے کہا: یہ ہمارے اور ان کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس وجہ سے میرے اور ان کے درمیان بحث چھڑ گئی۔ انہوں نے حضرت عثمانؓ کو لکھا۔ میری شکایت کی۔ حضرت عثمانؓ نے مجھے لکھا کہ میں مدینہ چلا آؤں۔ چنانچہ میں مدینہ آیا۔ میرے پاس لوگ کثرت سے آنے لگے۔ جیسے انہوں نے مجھے اس سے پہلے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔ میں نے حضرت عثمانؓ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا: اگر تم چاہو تو الگ ایک طرف رہو اور قریب ہی رہو۔ یہ بات ہے جس کی وجہ سے میں نے یہاں ڈیرہ لگایا ہے اور اگر مجھ پر حبشی کو بھی سردار بنا دیں تو میں اس کی بات سنوں گا اور اس کا کہا مانوں گا۔
عیاش (بن ولید) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبدالاعلیٰ نے ہم سے بیان کیا، (کہا: سعید) جُرَیری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالعلاء (یزید) سے، ابوالعلاء نے احنف بن قیس سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: میں بیٹھا تھا اور اسحاق بن منصور نے بھی مجھ سے بیان کیا، (کہا:) عبدالصمد (بن عبدالوارث) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ (کہتے تھے:) ہم سے (سعید) جریری نے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ابوالعلاء بن شخیر نے ہم سے بیان کیا کہ احنف بن قیس نے انہیں بتایا، کہا: میں قریش کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک شخص آیا جس کے بال سخت، کپڑے موٹے اور شکل بھدی؛ وہ ان کے پاس کھڑا ہوگیا اور السلام علیکم کہا۔ پھر کہا: مال جمع کرنے والوں کو اس پتھر کی بشارت دے جو جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا۔ پھر ان میں سے ایک کے پستان کی بھٹنی پر رکھا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ ان کے مونڈھے کی اوپر والی ہڈی سے نکل جائے گا اور ان کے مونڈھے کی اوپر والی ہڈی پر رکھا جائے گا تو وہ ان کے پستان کی بھٹنی سے نکل آئے گا۔ اسی طرح وہ پتھر ڈھلکتا رہے گا۔ (یہ کہا) اور پیٹھ پھیر کر چل دیا اور ایک ستون کے پاس جا بیٹھا اور میں اس کے پیچھے گیا اور اس کے پاس جا بیٹھا اور میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہے۔ میں نے اس سے کہا: میں سمجھتا ہوں جو بات آپ نے کہی ہے اسے (لوگوں نے) بُرا مانا ہے۔ اس نے کہا: یہ لوگ تو نہیں سمجھتے۔
میرے جانی دوست نے مجھ سے کہا: (احنف) کہتے تھے: میں نے پوچھا آپ کا جانی دوست کون ہے؟ انہوں نے کہا: نبی ﷺ۔ (آپؐ نے فرمایا:) ابوذر! کیا تم اُحد پہاڑ کو دیکھتے ہو؟ کہتے تھے: اس پر میں نے سورج کو دیکھا کہ کتنا دن باقی ہے اور میں سمجھتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ مجھے کسی کام کے لئے بھیج رہے ہیں۔ میں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: میں نہیں چاہتا کہ میرے پاس اُحد پہاڑ برابر سونا ہو۔ اگر ہو تو میں سب اللہ کی راہ میں خرچ کر دوں تین اشرفیوں کے سوا۔ (پھر حضرت ابوذرؓ نے کہا:) اور یہ لوگ تو کچھ نہیں سمجھتے۔ بس دنیا ہی اکٹھی کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم! نہ مَیں ان سے دنیا کا سوال کروں گا اور نہ دین سے متعلق فتویٰ دریافت کروں گا۔ یہاں تک کہ اللہ سے جا ملوں۔
(تشریح)محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) یحيٰ نے ہمیں بتایا کہ اسماعیل (بن ابی خالد) سے مروی ہے۔ (انہوں نے کہا:) قیس (بن ابی حازم) نے مجھے بتایا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: رشک نہیں کرنا چاہیے مگر دو ہی (آدمیوں) پر۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور پھر اس کو بر محل خرچ کرنے کی توفیق دے اور وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے صحیح علم دیا ہو اور وہ خود بھی اس پر عمل کرتا ہے اور لوگوں کو بھی سکھاتا ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن منیر نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا۔ ابوالنضر سے سنا۔ (وہ کہتے تھے:) عبدالرحمن نے جو کہ عبداللہ بن دینار کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر بھی صدقہ دیا اور اللہ پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے اور اللہ اس صدقہ کو اپنے دائیں ہاتھ سے قبول کرتا ہے۔ پھر صدقہ دینے والے کے لئے اس کو بڑھاتا ہے؛ اسی طرح جس طرح کہ تم میں سے کوئی اپنا بچھیرا پالتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ (صدقہ) پہاڑ برابر ہو جاتا ہے۔ (عبدالرحمن کی طرح) سلیمان (بن بلال) نے بھی (عبداللہ) بن دینار سے یہ حدیث روایت کی اور ورقاء نے بھی (عبد اللہ) بن دینار سے روایت کی۔ انہوں نے سعید بن یسار سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے… اور مسلم بن ابی مریم اور زید بن اسلم اور سہیل نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت نقل کی۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) معبد بن خالد نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے حارثہ بن وہب سے سنا کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: صدقہ کرو۔ کیونکہ تم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی اپنے صدقہ کو لئے پھرے گا اور وہ کسی کو نہیں پائے گا جو اسے قبول کرے۔ آدمی کہے گا: اگر تو اسے کل لاتا تو میں اسے لے لیتا۔ مگر آج تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
ابوالیمان (حکم بن نافع) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعیب نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ابوالزناد (ذکوان) نے عبدالرحمن (بن ہرمز اعرج) سے، عبدالرحمان نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: وہ گھڑی اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ تم میں مال اس قدر زیادہ نہ ہو جائے کہ سیلاب کی طرح بہہ پڑے۔ یہاں تک کہ مال دار کو ایسے شخص کی تلاش ہوگی جو اس کا صدقہ قبول کرے اور یہاں تک کہ جس کے سامنے پیش کرے گا وہ کہے گا: مجھے کوئی ضرورت نہیں۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابوعاصم نبیل نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) سعدان بن بشر نے ہمیں بتایا (کہا:) ابومجاہد (سعد طائی) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا) مُحِل بن خلیفہ طائی نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا۔ اتنے میں دو شخص آپؐ کے پاس آئے۔ ان میں سے ایک اپنی محتاجی کا شکوہ کرتا تھا اور دوسرا رہزنی کا شکوہ کرتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رہزنی جو ہے تو اس کے متعلق یاد رکھو کہ تھوڑی دیر گزرے گی کہ جب قافلہ بغیر کسی محافظ کے مکہ کو جایا کرے گا اور جو محتاجی ہے تو وہ گھڑی اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تم میں سے کوئی اپنے صدقہ کو لئے گھومتا نہ پھرے اور وہ کسی کو نہ پائے جو اس سے صدقہ قبول کرے۔ پھر اس کے بعد تم میں سے ایک ضرور اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوگا۔ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان نہ کوئی پردہ ہوگا اور نہ کوئی ترجمان جو اس کے لئے ترجمانی کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے کہے گا: کیا میں نے تجھ کو مال نہیں دیا تھا؟ تو وہ جواب دے گا: کیوں نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کہے گا: کیا میں نے تیرے پاس رسول نہیں بھیجا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں۔ پھر وہ اپنی دائیں طرف نظر کرے گا تو آگ ہی آگ دیکھے گا اور پھر بائیں طرف نظر کرے گا تو آگ ہی آگ دیکھے گا۔ اس لئے چاہیے کہ تم میں سے ہر ایک آگ سے بچاؤ کا سامان کرے۔ خواہ کھجور کے ایک ٹکڑا ہی سے ہو۔ اگر یہ بھی نہ پائے تو اچھی بات سے ہی۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابواسامہ (حماد بن اسامہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برید (بن عبداللہ) سے، برید نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ (اشعری) ؓ سے، حضرت ابوموسیٰ ؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ ضرور آئے گا جس میں آدمی سونے کا صدقہ لئے چکر لگائے گا۔ پھر بھی کسی کو نہیں پائے گا کہ جو اس سے وہ صدقہ لے اور ایک شخص دکھائی دے گا کہ اس کے پیچھے چالیس عورتیں ہوں گی۔ مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت کی وجہ سے اس کی پناہ لے رہی ہوں گی۔
(تشریح)