بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 118 hadith
عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے شقیق سے، شقیق نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت جب اپنے گھر کے کھانے سے کچھ خیرات کرے بشرطیکہ بگاڑنے والی نہ ہو تو اس کو اس کا اجر ملے گا۔ اس لیے کہ اس نے خرچ کیا اور اس کے خاوند کو بھی اجر ملے گا۔ اس لیے کہ اس نے کمایا اور خزانچی کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا اور ایک کا ثواب دوسرے کے ثواب کو کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے زہری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے تھے کہ آپؐ نے فرمایا: بہتر صدقہ وہی ہے جو حاجت پوری کرنے کے بعد ہو اور پہلے ان لوگوں سے شروع کرو جن کی روزی کے تم کفیل ہو۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) وہیب نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ہشام (بن عروہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے، حضرت حکیمؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اونچا ہاتھ نیچے ہاتھ سے بہتر ہے اور پہلے ان کو دو جن کی تم پرورش کرتے ہو اور بہتر صدقہ وہی ہے جو ضرورت پوری کرنے کے بعد ہو اور جو سوال سے بچنا چاہے گا اللہ اسے بچائے گا اور جو غنا حاصل کرنا چاہے گا۔ اللہ اُسے غنی کر دے گا۔
اور وہیب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، (حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے) اسی طرح بیان کیا۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ اور عبداللہ بن مسلمہ نے بھی ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے؛ جبکہ آپؐ منبر پر تھے اور آپؐ نے صدقہ کرنے اور سوال سے بچنے اور سوال کرنے کا ذکر کیا؛ فرمایا: اونچا ہاتھ نیچے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ اونچا ہاتھ تو وہی ہے جو خرچ کر رہا ہو اور نیچا ہاتھ وہ ہے جو سوال کر رہا ہو۔
(تشریح)ابو عاصم (نبیل) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عمر بن سعید سے، عمر نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی کہ حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا، کہا: نبی ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی تو جلدی سے گھر گئے اور پھر باہر آگئے۔ میں نے پوچھا یا (کہا) آپ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: میں گھر میں صدقہ کے مال سے سونے کی ایک ڈلی چھوڑ آیا تھا۔ میں نے پسند نہ کیا کہ وہ رات بھر میرے پاس رہے۔ اس لئے میں نے اُسے تقسیم کردیا۔
(تشریح)مسلم (بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) عدی (بن ثابت) نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ کہا: نبی ﷺ عید کے دن باہر آئے اور دو رکعتیں پڑھائیں۔ نہ ان سے پہلے نماز پڑھی اور نہ بعد۔ پھر عورتوں کی طرف متوجہ ہوئے اور آپؐ کے ساتھ حضرت بلالؓ تھے۔ آپؐ نے انہیں نصیحت کی اور فرمایا کہ وہ صدقہ دیں تو کوئی عورت اپنا کنگن پھینکنے لگی اور کوئی بالی۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) ابوبردہ بن عبداللہ بن ابی بردہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے اپنے باپ (حضرت ابو موسیٰ اشعری) رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب سائل آتا یا آپؐ کے پاس کوئی ضرورت پیش کی جاتی تو آپؐ (لوگوں سے) فرماتے: تم بھی سفارش کرو۔ تمہیں ثواب ملے گا اور اللہ اپنے نبی ﷺ کی زبان سے جتنی چاہے گا؛ حاجت پوری کردے گا۔
صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے فاطمہ (بنت منذر) سے، فاطمہ نے بروایت حضرت اسماء رضی اللہ عنہا ہمیں بتایا، کہا: نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا: باندھ کر نہ رکھا کرو۔ (کھولو) ورنہ تم سے روک لیا جائے گا۔ عثمان بن ابی شیبہ نے عبدہ سے روایت کرتے ہوئے یہی حدیث ہم سے بیان کی اور یہ الفاظ کہے: گنتے نہ رہا کرو۔ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر ہی دے گا۔
(تشریح)ابو عاصم (ضحاک) نے ابن جریج سے روایت نقل کرتے ہوئے ہمیں بتایا اور محمد بن عبدالرحیم نے بھی مجھے بتایا۔ انہوں نے حجاج بن محمد سے، حجاج نے ابن جریج سے نقل کیا۔ انہوں نے کہا: ابن ابی مُلَیکہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے (سن کر) اُن سے بیان کیا کہ وہ نبی ﷺ کے پاس آئیں۔ آپؐ نے فرمایا: تھیلیوں میں بند کرکے نہ رکھ چھوڑ۔ ورنہ اللہ بھی تجھ سے بند رکھے گا۔ جو بھی مقدور ہو کچھ نہ کچھ دیتی رہو۔
(تشریح)