بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 118 hadith
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت حذیفہ (بن یمان) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عمر (بن خطاب) رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم میں سے کون فتنہ سے متعلق رسول اللہ ﷺ کی حدیث یاد رکھتا ہے؟ کہتے تھے: میں نے کہا میں اسے اسی طرح یاد رکھتا ہوں ؛ جس طرح کہ آپؐ نے فرمایا تھا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: تم تو اس امر میں بہت دلیر ہو۔ اچھا آپؐ نے کس طرح فرمایا؟ میں نے کہا: آدمی کے لئے فتنہ اس کی بیوی اور اس کے بچے اور اس کے پڑوسی کی وجہ سے ہوتا ہے؛ جسے نماز، صدقہ اور نیکی مٹا دیتے ہیں۔ سلیمان (بن مہران اعمش) کہتے تھے: نماز، صدقہ اور بھلی بات کا حکم کرنا اور بری بات سے روکنا (یہ فتنہ کو مٹا دیتا ہے۔) حضرت عمرؓ نے کہا: میری مراد یہ نہیں۔ بلکہ میری مراد وہ فتنہ ہے جو سمندر کی طرح موجزن ہوگا۔ حضرت حذیفہؓ کہتے تھے: میں نے کہا امیر المومنین! آپؓ کو اس کا کوئی خطرہ نہیں۔ آپؓ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: پھر کیا وہ دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ کہتے تھے میں نے کہا: کھولا نہیں جائے توڑا جائے گا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: اگر توڑا جائے گا تو پھر کبھی بھی بند نہ ہوگا۔ کہتے تھے: میں نے کہا: ہاں۔ (ابووائل نے) کہا: ہم جھجکے کہ حضرت حذیفہؓ سے پوچھیں کہ وہ دروازہ کون ہے؟ اس لئے ہم نے مسروق سے کہا: تم ان سے پوچھو۔ ابووائل کہتے تھے: چنانچہ مسروق نے اُن سے پوچھا۔ انہوں نے کہا: ’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ۔‘‘ کہتے تھے: ہم نے حضرت حذیفہؓ سے پوچھا: کیا حضرت عمرؓ جانتے تھے کہ (آنحضرت ﷺ) کی مراد کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ اسی طرح جانتے تھے جس طرح کل سے پہلے آج کی رات اور یہ اس لئے کہ میں نے ان سے ایسی حدیث بیان کی جو قطعاً غلط نہ تھی۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ہشام نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ کو وہ باتیں معلوم ہی ہیں جن کے ذریعہ سے میں جاہلیت میں گناہ کا ازالہ کیا کرتا تھا۔ یعنی صدقہ دینا یا غلام آزاد کرنا یا صلہ رحمی کرنا۔ کیا ان میں بھی کوئی ثواب ہوگا؟ نبی ﷺ نے فرمایا: تم اسلام میں اُنہی نیکیوں کی وجہ سے تو داخل ہوئے ہو جو پہلے ہوئی تھیں۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابو وائل سے، ابو وائل نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب عورت اپنے خاوند کی خوراک میں سے صدقہ کرے۔ تلف کرنے والی نہ ہو تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور اس کے خاوند کو بھی۔ کیونکہ اس نے کمایا ہے اور خزانچی کو بھی ایسا ہی۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برید بن عبداللہ سے، برید نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰؓ سے، حضرت ابوموسیٰؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا کہ خزانچی وہ امین مسلمان ہے جو نافذ کر دے اور کبھی (راوی نے یہ) کہا: پورے کا پورا دے دے جس (کے دینے) کا اُسے حکم دیا گیا ہے۔ اس کا نفس اس دینے سے خوش ہو اور اس کو دے جسے دینے کا اُسے حکم ہوا ہے تو وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ہی (شمار) ہوگا۔
(تشریح)آدم (بن ابی یاس) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) منصور (بن معتمر) اور اعمش نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابووائل سے، ابووائل نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، حضرت عائشہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ حضرت عائشہؓ کی بات کا مفہوم یہ تھا کہ جب عورت اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ دے۔
عمر بن حفص نے (بھی) ہمیں بتایا۔ (کہا:) میرے باپ نے ہم سے بیان کیا کہ اعمش نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (ابو وائل) شقیق سے، شقیق نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ کہتی تھیں: نبی ﷺ نے فرمایا: جب عورت اپنے خاوند کے گھر سے کھلائے تلف کرنے والی نہ ہو تو اس کو اِس کا اجر ملے گا اور اُس کے خاوند کو بھی اِسی طرح اور خزانچی کو بھی اسی طرح۔ اس کے خاوند کو تو اس لئے کہ اُس نے کمایا اور عورت کو اِس لئے کہ اُس نے خرچ کیا۔
یحيٰ بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے شقیق سے، شقیق نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، حضرت عائشہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جب عورت اپنے گھر کے کھانے سے خرچ کرے، ضائع کرنے والی نہ ہو تو اُس کو اِس کا ثواب ملے گا اور اس کے خاوند کو بھی اس لئے کہ اُس نے کمایا اور امین (خزانچی) کو بھی ویسے ہی۔
(تشریح)اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے بھائی (ابوبکر بن ابی اویس) نے مجھے بتایا۔ سلیمان (بن بلال) سے مروی ہے کہ انہوں نے معاویہ بن ابی مزرد سے، معاویہ نے ابوحباب (سعید بن یسار) سے، ابو حباب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: کوئی دن بھی ایسا نہیں کہ جس میں دو فرشتے جبکہ بندے صبح کو اُٹھتے ہیں نازل نہ ہوتے ہوں۔ ان میں سے ایک کہتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو بدل عطا کر اور دوسرا کہتا ہے: بخیل کا مال رائیگاں جائے۔
(تشریح)موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) وہیب نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا: عبداللہ) بن طائوس نے ہمیں بتایا۔ ان کے باپ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ نے فرمایا: بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال ان دو شخصوں کی سی ہے جو لوہے کے جبّے پہنے ہوئے ہوں۔ اور ابوالیمان نے بھی ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعیب نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) ابوزناد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمن نے انہیں بتایا۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو شخصوں کی سی ہے جنہوں نے دو لوہے کے جبے چھاتیوں سے ہنسلیوں تک پہنے ہوئے ہوں اور جو خرچ کرنے والا ہوتا ہے جوں جوں خرچ کرتا جاتا ہے وہ جُبّہ اس کے بدن پر پھیلتا جاتا ہے یا (فرمایا:) اتنا لمبا ہو جاتا ہے کہ اس کی انگلیوں کو چھپا لیتا ہے اور اس کے پائوں کا نشان مٹاتا ہے اور بخیل جو ہے تو وہ جس وقت بھی خرچ کرنا نہیں چاہتا تو ہر حلقہ اپنی اپنی جگہ پر چمٹ کر رہ جاتا ہے۔ وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے مگر وہ کشادہ نہیں ہوتا۔ عبداللہ بن طائوس کی طرح حسن بن مسلم نے طائوس سے دو جبوں سے متعلق یہی روایت بیان کی۔
اور حنظلہ نے طائوس سے لفظ دو زِرہیں نقل کیا اور لیث (بن سعد) نے کہا: جعفر نے (عبدالرحمن) بن ہرمز سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی ﷺ سے دو زرہیں روایت کرتے سنا۔
(تشریح)