بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 18 hadith
حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عیادت کا ایک عمدہ طریقہ یہ ہے کہ آدمی مریض کے پاس جائے اس کی پیشانی یا نبض کی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس کا حال احوال پوچھے اور آپس میں ملنے ملانے کا عمدہ طریق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے ملتے وقت مصافحہ کرو۔
حضرت شعبیؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنے چچا زاد بھائی جعفر بن ابی طالبؓ سے ملے تو آپؐ نے (بوقت ملاقات) ان سے معانقہ کیا اور ان کی پیشانی کا بوسہ لیا۔
حضرت امیمہ بنت رقیقہؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نبیﷺ کی خدمت میں بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئی تو حضورﷺ نے فرمایا میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا (یا عورتوں کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر بیعت نہیں لیتا)۔
حضرت اسماء بنت یزیدؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن مسجد میں سے گزرے۔ وہاں عورتوں کی ایک جماعت بیٹھی تھی۔ آپ
حضرت ایوب بن بشیر قبیلہ عنزہ کے ایک شخص کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ اس شخص نے حضرت ابو ذر (غفاریؓ) سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ بوقت ملاقات آپ لوگوں سے مصافحہ کیا کرتے تھے۔ اس پر حضرت ابو ذرؓ نے بتایا کہ میں جب کبھی بھی رسول اللہ ﷺ سے ملا مصافحہ کیا ہے۔ بلکہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلا بھیجا۔ میں اس وقت گھر پر نہیں تھا۔ جب میں گھر آیا اور مجھے بتایا گیا تو میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضور اس وقت بستر پر تھے۔ حضور ﷺ نے مجھے اپنے گلے کے ساتھ لگا لیا اور معانقہ کیا۔ اس خوش نصیبی کے کیا کہنے۔
محمد بن زیاد بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو امامہ باہلیؓ کا ہاتھ مسجد میں پکڑے ہوئے تھا اور وہ گھر کی طرف واپس آ رہے تھے راستہ میں چھوٹا بڑا مسلمان، عیسائی جو کوئی بھی ملتا آپ اسے سلام کہتے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کے دروازہ پر پہنچ گئے۔ یہاں پہنچ کر انہوں نے کہا اے بھتیجے! ہمارے نبی ﷺ نے اس طرح سے سلام پھیلانے کا حکم فرمایا ہے۔
حضرت اسامہ بن زیدؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ گدھے پر سوار ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان، مشرکین، بت پرست، یہود سب ملے جلے بیٹھے تھے آپ ﷺ نے ان کو السلام علیکم کہا۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم کو اہل کتاب سلام کریں تو اس کے جواب میں وعلیکم کہو۔ نوٹ :۔ یہ دراصل ایسے مخالف کے بارہ میں ہے جو منافق طبع ہو۔ مدینہ کے بعض یہود ظاہراً تو سلام کرتے تھے لیکن زبان کو لوچ دیکر السلام علیکم کی بجائے السام علیکم کہہ جاتے تھے یعنی تم پر موت اور ہلاکت آئے۔ اس قسم کے حالات میں یہ ہدایت دی گئی کہ اگر تمہیں اس قسم کی شرارت کا خدشہ ہو تو تم جواب میں صرف وعلیکم کہہ دیا کرو یعنی تم پر بھی وہی ہو جو تم ہمارے لئے چاہ رہے ہو۔