بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 72 hadith
حضرت ابو ایوب انصاریؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے ایسا عمل بتلائے جو مجھے جنت میں داخل کرے۔ لوگوں نے کہا اسے کیا ہوگیا، اسے کیا ہوگیا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو ضرورت ہے۔ اس کو کیا ہوگیا؟ پھر نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کی عبادت کرو اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور نماز کو سنوار کر پڑھو اور رشتہ داروں سے نیک سلوک کرو (بس یہی عمل ہیں)۔
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا یقیناً آدمی اور شرک و کفر کے درمیان فرق نماز ترک کرنا ہے۔
حریث بن قبیصہ کہتے ہیں میں مدینہ آیا اور میں نے یہ دعا کی اے اللہ! مجھے نیک ساتھی میسر آئے۔ وہ کہتے ہیں میں حضرت ابوھریرہؓ کے پاس بیٹھا۔ میں نے کہا میں نے اللہ سے دعا کی کہ وہ مجھے نیک ساتھی ملائے اور وہ مجھے حدیث بتائے جو اس نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو شاید کہ اللہ اس کے ذریعہ مجھے نفع دے۔( حضرت ابوہریرہؓ ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا بندوں سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے۔ اگر یہ حساب ٹھیک رہا تو وہ کامیاب ہو گیا اور اس نے نجات پا لی۔ اگر یہ حساب خراب ہوا تو وہ ناکام ہو گیا اور گھاٹے میں رہا۔ اگر اس کے فرضوں میں کوئی کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ دیکھو! میرے بندے کے کچھ نوافل بھی ہیں۔ اگر نوافل ہوئے تو فرضوں کی کمی ان نوافل کے ذریعہ پوری کر دی جائے گی۔ اسی طرح اس کے باقی اعمال کا معائنہ ہو گا اور ان کا جائزہ لیا جائے گا۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے بھلا بتاؤ تو سہی کہ اگر تم میں سے کسی ایک کے دروازے کے پاس نہر ہو جس میں وہ ہر روز پانچ دفعہ نہائے۔ تمہارا کیا خیال ہے یہ (نہانا) اس کی کچھ میل باقی رہنے دے گا؟ انہوں نے جواب دیا کہ کوئی میل بھی نہیں رہنے دے گا۔ آپؐ نے فرمایا یہ پانچوں نمازوں کی مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
حضرت جابرؓ اور وہ حضرت عبداللہؓ کے بیٹے ہیں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانچ نمازوں کی مثال ایک گہری اور بہتی ہوئی نہر کی طرح ہے جو تم میں سے کسی کے دروازہ پر ہو اور وہ ہر روز پانچ مرتبہ اس سے نہاتا ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ حسن نے کہا اور یہ کوئی میل باقی رہنے نہ دے گا۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے ساتھ تھا ایک شخص آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی۔ اے اللہ تعالیٰ کے رسول! میں گناہ کا مرتکب ہوا ہوں اور سزا کا مستحق ہوں۔ نماز کا وقت ہو چکا تھا اس شخص نے بھی نبیﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب نبیﷺ نے نماز مکمل فرمائی تو وہ شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں سزا کا مستحق ہوں۔ مجھے اللہ تعالیٰ کے مقررہ قانون کے مطابق سزا دیجئے۔ آپﷺ نے فرمایا کیا تو نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ اس نے کہا جی حضور! پڑھی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا اس نیکی کی وجہ سے تجھے بخش دیا گیا ہے۔ نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو جب وہ سات برس کے ہوں اور جب دس برس کے ہوں (اور نماز نہ پڑھیں) تو ان کو سزا دو۔ اور ان کے بستر الگ رکھو۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تمہارے بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز پڑھنے کی تاکید کرو۔ اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو نماز نہ پڑھنے پر سختی کرو اور اس عمر میں ان کے بسترے بھی الگ کر دو (یعنی ان کو الگ الگ بستر پر سلایا کرو)۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تمہارے بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز پڑھنے کی تاکید کرو۔ اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو نماز نہ پڑھنے پر سختی کرو اور اس عمر میں ان کے بسترے بھی الگ کر دو (یعنی ان کو الگ الگ بستر پر سلایا کرو) جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کا نکاح کردے تو وہ اس کا ستر نہ دیکھے۔ اس کی ناف سے لے کر اس کے گھٹنوں تک اس کا ستر ہے۔
ابن شہاب سے روایت ہے کہ عطاء بن یزید نے انہیں بتایا کہ حمران نے جو کہ حضرت عثمانؓ کے آزاد کردہ غلام تھے انہیں بتایا کہ انہوں نے حضرت عثمانؓ بن عفان کو دیکھا کہ انہوں نے ایک برتن منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھ تین بار (پانی) ڈال کر دھوئے۔ پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور کلی کی اور ناک صاف کیا۔ پھر اپنا منہ اور اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک تین تین بار دھوئے۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک تین تین بار دھوئے۔ پھر کہا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر اس طرح دو رکعتیں پڑھیں کہ ان میں اپنے نفس سے باتیں نہ کیں تو جو گناہ بھی اس سے پہلے ہو چکے ہیں، ان سب سے اس کی مغفرت کی جائے گی۔