بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 9 hadith
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت اخلاق والے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ درشت زبان نہ تھے اور نہ تکلف سے درشتی کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے تم میں بہتر وہی ہیں جو تم میں سے اخلاق میں اچھے ہیں۔
حضرت ابوذرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا جہاں بھی تم ہو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔ اگر کوئی برا کام کر بیٹھو تو اس کے بعد نیک کام کرنے کی کوشش کرو یہ نیکی اس بدی کو مٹا دے گی اور لوگوں سے خوش اخلاقی اور حسن سلوک سے پیش آؤ۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ انسان کے اسلام کا ایک حسن یہ بھی ہے کہ انسان لایعنی بیکار اور فضول باتوں کو چھوڑ دے۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قیامت کے دن تم میں سے سب سے زیادہ مجھے محبوب اور سب سے زیادہ میرے قریب وہ لوگ ہوں گے جو سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے ہوں گے۔ اور تم میں سے سب سے زیادہ مبغوض اور مجھ سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو ثرثار یعنی منہ پھٹ، بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے ہیں، متشدق یعنی منہ پھلا پھلا کر باتیں کرنے والے اور متفیهق یعنی لوگوں پر تکبر جتلانے والے ہیں۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! ثرثار اور متشدق کے معنے تو ہم جانتے ہیں متفیہق کسے کہتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا متفیہق متکبرانہ باتیں کرنے والے کو کہتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوہریرہ پرہیزگار بنو تم سب لوگوں سے زیادہ عبادت گزار ہو جاؤ گے۔ اور قانع بنو تم سب لوگوں سے زیادہ شکر گزار ہو جاؤ گے اور لوگوں کیلئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو تم مومن ہو جاؤ گے اور جو تمہارا پڑوسی ہے اس سے اچھی ہمسائیگی کرو تم مسلم ہو جاؤ گے اور کم ہنسو کیونکہ ہنسنے کی کثرت دل کو مردہ کر دیتی ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا متقی بنو۔ سب سے بڑے عابد بن جاؤ گے، قناعت اختیار کرو سب سے زیادہ شکر گزار سمجھے جاؤ گے۔ لوگوں کے لئے وہی چاہو جو اپنے لئے چاہتے ہو، حقیقی مومن کہلاؤ گے۔ اچھے پڑوسی بنو سچے مسلمان کہلاؤ گے۔ کم ہنسو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ بنا دیتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ کا واسطہ دے کر پناہ مانگے تو اسے پناہ دو اور جو اللہ کا واسطہ دے کر مانگے اسے دو اور جو تمہیں بلائے اس کی (پکار) کا جواب دو اور جو کوئی تم سے بھلائی کرے تو اس کا اسے بدلہ دو اور اگر اسے بدلہ میں دینے کے لئے کچھ نہ پاؤ تو اس کے لئے دعا کرو یہاں تک کہ تم سمجھو کہ تم نے اس کا بدلہ دے دیا ہے۔
حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے میری اُمّت کے اچھے اور بُرے اعمال پیش کئے گئے تو میں نے اس کے خوبصورت اعمال میں سے تکلیف دہ چیز کا راستہ سے ہٹا دینا پایا اور اس کے بُرے کاموں میں وہ بلغم پائی جو مسجد میں ہو اور اسے دفن نہ کیا جائے۔