بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 9 hadith
حضرت ابو ایوب بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ! کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے…… نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ نماز باجماعت پڑھو، زکوۃ دو اور رشتہ داروں سے صلہ رحمی اور حسن سلوک کرو۔
حضرت معاذؓ بن جبل نے بیان کیا کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ ایک دن دورانِ سفر میں آپؐ کے قریب ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا کام بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے اور دوزخ سے دور رکھے۔ آپﷺ نے فرمایا تم نے ایک بہت بڑی اور مشکل بات پوچھی ہے لیکن اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو یہ آسان بھی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کر، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، نماز پڑھ، باقاعدگی سے زکوۃ ادا کر، رمضان کے روزے رکھ، اگر زاد راہ ہو تو بیت اللہ کا حج کر۔ پھر آپﷺ نے یہ فرمایا کیا میں بھلائی اور نیکی کے دروازوں کے متعلق تجھے نہ بتاؤں؟ سنو! روزہ گناہوں سے بچنے کی ڈھال ہے، صدقہ گناہ کی آگ کو اس طرح بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ رات کے درمیانی حصہ میں نماز پڑھنا اجر عظیم کا موجب ہے۔ پھر آپﷺ نے یہ آیت پڑھی: تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ۔۔۔۔ الخ۔ پھر آپﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو سارے دین کی جڑ بلکہ اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا۔ جی ہاں یا رسول اللہ! ضرور بتائیے۔ آپﷺ نے فرمایا دین کی جڑ اسلام ہے اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے۔ پھر آپﷺ نے فرمایا کیا میں تجھے اس سارے دین کا خلاصہ نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ یا رسول اللہ! ضرور بتائیے۔ آپﷺ نے اپنی زبان کو پکڑا اور فرمایا اسے روک کر رکھو۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ! کیا ہم جو کچھ بولتے ہیں اس کا بھی ہم سے مواخذہ ہو گا۔ آپﷺ نے فرمایا تیرا بھلا ہو، لوگ اپنی زبانوں کی کاٹی ہوئی کھیتیوں یعنی اپنے برے بول اور بے موقع باتوں کی وجہ سے ہی جہنم میں اوندھے منہ گرتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کی راہ میں جوڑا خرچ کیا، جنت کے دروازوں سے اُسے آواز دی جائے گی۔ اے اللہ کے بندے ! یہ (دروازہ) اچھا ہے۔ سو جو نماز پڑھنے والوں میں سے ہوگا، وہ نماز کے دروازہ سے بلایا جائے گا۔ جو جہاد کرنے والوں میں سے ہوگا، وہ جہاد کے دروازہ سے بلایا جائے گا۔ جو روزہ داروں میں سے ہوگا، اُسے ریان دروازہ سے بلایا جائے گا۔ جو صدقہ دینے والوں میں سے ہوگا، اُسے صدقہ کے دروازہ سے بلایا جائے گا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (یہ سن کر) کہا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان جو اِن دروازوں میں سے بلایا گیا تو اُسے کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔ کیا کوئی ایسا بھی ہے جسے اِن سب دروازوں میں سے بلایا جائے گا؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ آپؓ بھی انہیں میں سے ہوں گے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ مسلمان پر مسلمان کے پانچ حق ہیں۔ سلام کا جواب دینا ، بیمار کی عیادت کرنا، جنازوں کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینکنے والے کو دعا دینا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ! وہ کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم اسے ملو، اسے السلام علیکم کہو اور جب وہ تمہیں بلائے تو لبیک کہو اور جب وہ تجھ سے خیر خواہی چاہے تو اس سے خیر خواہی کرو اور جب وہ چھینک مارے اور اَلْحَمْدُلِلَّہِ کہے تو اسے یَرْحَمُکَ اللَّہُ کہو اور جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ وفات پا جائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ جاؤ۔
حضرت براء بن عازبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا اور سات باتوں سے منع فرمایا آپؐ نے ہمیں ارشاد فرمایا مریض کی عیادت کا، جنازہ کے پیچھے چلنے کا، چھینک کے جواب دینے کا اور قسم پوری کرنے یا قسم کھانے والے کی قسم پورا کرنے میں مدد کرنے کا اور مظلوم کی مدد کرنے کا اور پکارنے والے کی پکار کے جواب دینے کا اور سلام کو رواج دینے کا اور آپؐ نے ہمیں انگوٹھیوں سے یا (فرمایا) سونے کی انگوٹھیاں پہننے سے اور چاندی کے برتنوں میں پینے سے اور ریشمی زین پوشوں سے، قسی بستی میں بننے والے ریشمی کپڑوں سے، ریشم کے پہننے سے، موٹے ریشم سے اور ریشمی لباس کے استعمال سے منع فرمایا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ مجھے کوئی وصیت کیجئے۔ آپﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو کیونکہ تمام بھلائیوں کی یہ بنیاد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرو۔ کیونکہ یہ مسلمان کی رہبانیت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو کیونکہ یہ تیرے لئے نور ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ! ثواب میں کونسا صدقہ بڑھ کر ہے؟ آپؐ نے فرمایا یہ کہ تو صدقہ کرے جب تو تندرست ہو۔ مال حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہو اور بخیل ہو۔ محتاجی سے ڈرے اور مال دار ہونے کی امید رکھتا ہو اور اتنی دیر نہ کر کہ جان حلق میں آپہنچے اور تو کہے کہ فلاں کو اتنا دینا۔ فلاں کو اتنا دینا۔ حالانکہ فلاں کا تو ہو ہی چکا ہے۔
حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے بعض صحابہؓ نے نبی ﷺ کی خدمت میں عرض کیا یا رسولؐ اللہ! مالدار لوگ سب اجر لے گئے وہ نماز پڑھتے ہیں جیسا کہ ہم نماز پڑھتے ہیں اور وہ روزے رکھتے ہیں جیسا کہ ہم روزے رکھتے ہیں اور وہ اپنے زائد اموال میں سے صدقہ کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کیا اللہ نے تمہارے لئے وہ چیز نہیں بنائی جو تم صدقہ کرو یقینا ہر تسبیح صدقہ ہے۔ ہر تکبیر صدقہ ہے اور ہر تحمید صدقہ ہے اور ہر تہلیل صدقہ ہے اور نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور بدی سے روکنا صدقہ ہے اور تمہارا اپنی بیوی سے تعلق قائم کرنا بھی صدقہ ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم میں سے اگر کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو اس میں بھی اس کے لئے اجر ہے؟ آپؐ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر اپنی خواہش حرام جگہ پوری کرتا تو کیا اس پر بوجھ نہ ہوتا؟ اسی طرح جب وہ اسے جائز طریقہ سے کرتا ہے تو اس کے لئے اجر ہے۔